|
موجودہ سیٹ اپ غیر قانونی ہے،جدوجہد کا نیا مرحلہ شروع ہوگا،منصب پر واپس آؤں گا،جسٹس افتخار چوہدری

05-11-07, 07:50 AM
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری جو کہ عبوری صدارتی آئینی حکم کا نشانہ بنے ہیں وہ اپنے منصب پر اپنی واپسی کے بارے میں پُراعتماد ہیں اور انہوں نے موجودہ سیٹ اپ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں کی گئی تمام حالیہ تقرریوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔دی نیوز سے بات کرتے ہوئے اتوار کی شب جسٹس افتخا ر محمد چوہدری نے کہا کہ ان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات ارکان نے پی سی او کے خلاف حکم امتناع جاری کر دیا تھا اور کسی بھی جج کو اعلیٰ عدلیہ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھانے سے روکا تھا اور اسکے نتیجے میں موجودہ سیٹ اپ مکمل طورپر غیر قانونی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہفتہ اور اتوار کو چاروں صوبوں کی ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں میں ہونے والی تقرریوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔جسٹس افتخار نے مزید کہا کہ ” ہر وہ اقدام جو آج اٹھایا جارہا ہے وہ غیر قانونی ، غیر آئینی اور سپریم کورٹ کے احکامات کے خلاف ہے انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تین نومبرسے قبل کی صورتحال بحال ہوگی۔پُراعتماد اور ریلیکس نظر آنے والے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ انہوں نے نہ تو ماضی میں 9 مارچ کی معطلی کے وقت کوئی غلط کام کیا تھا نہ اب کی مرتبہ کوئی ایسا کام کیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ” اللہ نے ماضی میں بھی مجھے کامیابی سے نوازا اور مجھے یقین ہے کہ ان دیگر قابل احترام ججوں کے ساتھ جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیاوہ اس مرتبہ بھی ہمیں سرفراز کریگا۔چیف جسٹس نے گزشتہ رات جنرل پرویز کی تقریر میں عدلیہ کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کا حوالہ دیے بغیر کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ عدلیہ نے دہشتگردوں کے خلاف نرمی کا رویہ اپنایا، انہوں نے کہا کہ وہ دہشتگردوں کے خلاف کبھی بھی نرم نہیں رہے لیکن سپریم کورٹ کے ججوں کیلئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ شواہد کی دستیابی کے بغیر لوگوں کو سزائیں دینا شروع کر دے۔جسٹس افتخار محمد چوہدری نے انکشاف کیا کہ دہشتگردی کے خلاف ان کی تشویش کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے دہشتگردی کے کیسز کو جلد نمٹنانے کو یقینی بنانے کیلئے ایک کمیٹی بنائی ، اپنی سربراہی میں بنائی جانے والی اس کمیٹی میں انہوں نے چاروں ہائیکورٹس سے ایک ایک جج لیا۔ہر ماہ اس کمیٹی کا اجلاس ہوتا تھا اور اس میں دہشتگردی کے کیسز پر ہونے والی پیشرفت پر غور کیا جاتا اور اس امر کو یقینی بنایا جاتا کہ ان کی سماعت میں کوئی تاخیر نہ ہو۔لال مسجد کیس کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ لال مسجد پر سپریم کورٹ کے جس ڈویژن بنچ نے جامعہ حفصہ کو دوبارہ تعمیر کرنے ، زیر حراست تمام افراد کی رہائی ، اور ہرجانوں کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، میں پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے دو جج جسٹس نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل تھا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اپنی نقل و حرکت محدود کیے جانے کے باوجود وہ پُر اعتماد ہیں ، انہیں اللہ تعالی کی ذات پر مکمل بھروسہ ہے اور وہ قانون و آئین کے نفاذ کی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں انہوں نے مزیدکہا کہ” یہ اللہ تعالی کی جانب سے امتحان کا وقت ہے اور میں اس صورتحال پر اسی طرح اپنے ردعمل کا اظہار کرونگا جیساہمارا خالق ہم سے چاہتا ہے“۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ ان کی نقل وحرکت پر پابندی ہے تاہم پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ایک برادر جج ان سے ملنے آئے ہیں۔جسٹس افتخار نے اپنے ان جج بھائیوں کو شاندار خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا ۔اس موقع پر انہوں نے بالخصوص جسٹس جاوید اقبال کا نام لیا جنہوں نے پی سی او کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان کا موقع ملنے کے باوجود پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا۔چیف جسٹس آزاد عدلیہ کی آزادی اور آئین قانون کی بالادستی کیلئے جدوجہد کا نیا مرحلہ شروع کرنے کیلئے پُر عزم ہیں کیونکہ ان کے خیال میں پاکستان اورپاکستان کے عوام کا مستقبل محفوظ کرنے کایہی ایک واحد ذریعہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ میرے پاس چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے ۔اللہ تعالی پر میرا توکل میری طاقت ہے اور مجھے یقین ہے کہ قانون و آئین کی بالادستی کیلئے اپنی جدوجہد میں میں کامران و کامیاب ہونگا ۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|