مودی نے افسران کو حکم دیا تھا کہ ’مسلمانوں کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ کبھی ایسا واقعہ (گودھرا ٹرین) دوبارہ نہ ہونے پائے
بھارتی ریاست گجرات میں حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست میں ہوئے دو ہزا دو کے فسادات سے متعلق تمام سرکاری دستاویزی ریکارڈ کو ضائع کر دیا گيا ہے۔
گجرات کی حکومت نے یہ بات فسادات کی تفتیش کرنے والی کمیٹی کو بتائی۔
ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ فسادات کے دوران کے ٹیلیفون کالز ریکارڈز اور حکام کی سرگرمیوں سے متعلق اس نے دستاویزي ریکارڈ تیار کیے تھے لیکن پانچ برس کے گزرنے کے بعد دو ہزار سات میں انہیں تلف کردیا گيا تھا۔
ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معمول کا عمل ہے اور سول سروسز کے قواعد و ضوابط کے اصولوں کے مطابق ایسا کیا گيا ہے۔
گجرات میں مارچ دو ہزار دو میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے جس میں سے بیشتر مسلمان تھے۔
ان جھگڑوں کی تفتیش کے لیے حکومت نے جسٹس ناناوتی کی سربراہی میں ایک کمیشن مقرر کیا تھا جس کی انکوائری ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔
اس کمیشن کے سرکاری وکیل ایس بی وکیل نے بتایا ’سرکاری اصولوں کے مطابق ٹیلیفوں کالز ریکارڈ، گاڑیوں کی لاگ بک اور افسران کی سرگرمیوں سے متعلق ڈائری ایک مقرر وقت کے بعد تلف کر دی جاتی ہے۔‘
یاد رہے کہ فسادات کے دوران انٹیلیجنس محکمے میں تعینات ایک سینیئر پولیس افسر سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ داخل کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ نریندر مودی نے خود مسلمانوں کے خلاف فسادات کرنے کا حکم دیا تھا۔
اس حلف نامے کے مطابق نریندر مودی نے سینیئر پولیس افسران کی ایک میٹنگ میں کہا تھا کہ فسادات کے دوران ہندوؤں کو تھوڑی چھوٹ ملنی چاہیے۔
ان کے بقول مودی نے افسران کو حکم دیا کہ ’مسلمانوں کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ کبھی ایسا واقعہ (گودھرا ٹرین ) دوبارہ نہ ہونے پائے‘۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ سنجیو بھٹ نے جس میٹنگ کا ذکر کیا ہے اس میٹنگ میں وہ موجود نہیں تھے لیکن مسٹر بھٹ اور ان کے بعض ساتھی کہتے ہیں کہ وہ میٹنگ میں شریک تھے۔
اسی حلف نامے اور میٹنگ سے متعلق بات چیت میں سرکاری وکیل ایس بی وکیل نے کمیشن کو بتایا کہ وہ ریکارڈ تو اب تلف کیے جا چکے ہیں۔
ادھر نریندر مودی اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے فسادات کے دوران کوئی غلط کام کیا تھا۔ فروری دوہزار دو میں گودھرا ٹرین میں ہندو کارسیوکوں پر حملے کے بعد ہی فسادات بھڑکے تھے۔
گودھرا کے متعلق عدالتی کارروائي کے بعد کئي مسلمانوں کو سزا سنائي ہے لیکن فسادات کی ابھی تفتیش جاری ہے اور کسی کو بھی سزا نہیں ملی ہے۔
خبر