| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 28
مراسلات: 11,244
کمائي: 23,271,202
ميرا موڈ:
شکریہ: 5,005
2,459 مراسلہ میں 5,545 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہم میں جو دو بڑی خوبیاں موجود ہیں ان میں سے پہلی خوبی تو اس وقت یاد نہیں آ رہی ہے لیکن دوسری بڑی خوبی یہ ہے کہ ہم جو کچھ لکھتے ہیں وہ اخباری خبروں یا جید کالم نگاروں کی معلومات پر مبنی ہوتا ہے کیونکہ ہماری اپنی معلومات بعض واقف حال دوستوں کے کہنے کے مطابق عموماً سخت ناقص ہوتی ہیں لہٰذا ہم…”چراغ سے چراغ جلتا ہے“ پر کاربند رہتے ہیں کیونکہ اس میں دو بڑے فائدے بھی ہیں، پہلا فائدہ کچھ اتنا زیادہ بڑا نہیں ہے اسے رہنے دیجئے لیکن دوسرا بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ بار ثبوت ہمیشہ دوسروں کے کاندھوں ہی پر ہوتا ہے اور ہم جواب دہ ہونے سے بچے رہتے ہیں، اب یہی دیکھ لیجئے کہ ہم نے پچھلے ہفتے جو بین الاقوامی قسم کا کالم… ”مونا لزا اور ٹماٹر…“ لکھا تھا تو اس پر کون برا مان سکتا ہے؟ ٹماٹر اگر برا مانتے ہیں تو لال بھبھوکا ہوکر مزید مہنگے ہوجائیں گے اور دوسری متاثرہ پارٹی عزیزہ مونا لزا اور اس کے خالق جناب لیونارڈو ڈاؤنچی آنجہانی ہوچکے ہیں وہ دونوں ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں: اس سلسلے میں آپ کو اپنا سمجھ کر ایک اندرونی بات بتا دیں تو بہتر ہے کہ ہمارے ایک قریبی دوست نے ہمیں خاصا ڈرا دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ہمارا کالم متاثرہ پارٹی تک پہنچ گیا ہے اور چونکہ عزیزہ مونا لزا اور لیونارڈو بھائی ارواح خبیثہ میں شامل ہوچکے ہیں اس لئے ہمیں ان کی انتقامی کارروائی سے ڈرنا چاہئے کیونکہ مرنے کے بعد مونا لزا کی مسکراہٹ پہلے جیسی دلکش نہیں رہی ہوگی اور عزیزم لیونارڈو تو پتہ نہیں کس قدر بھیانک ہوچکے ہوں گے… لہٰذا یوں ہی احتیاطاً ہم لرزتے ہاتھوں سے یہ لکھے دے رہے ہیں کہ اٹلی ہمارا قریبی غیر اسلامی برادر بھائی ہے اور وہاں کے لوگ بھی نہایت مرنجان مرنج، صلح و آشتی کے حامل اور سلامتی کونسل کی امن کی قرار دادوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں، یہ لکھتے ہوئے ہمیں اپنا ہی ایک شعر مزید سہما گیا ہے جو کچھ یوں ہے۔ ”ڈریکولا کہا محبوب کے مرحوم ابا کو نہ اب وہ خواب میں آ کر ڈرائیں جاگتے رہنا“ اب ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ برادر دوست اٹلی کے مایہ ناز فرزند، عالی مقام لیونارڈو اور ان کی لافانی تخلیق مونا لزا کے بارے میں آئندہ کچھ نہیں لکھیں گے اور آخرکیوں لکھیں جبکہ ہمارا اپنا ملک بھی دلکش مسکراہٹوں میں خود کفیل ہے… یقین نہ آئے تو ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے ایمان سے کہہ دیجئے کہ وزیر اعظم جناب شوکت عزیز جیسی حسین و دلفریب مسکراہٹ پہلے کبھی آپ نے دیکھی تھی؟ مسکراتے تو اور لوگ بھی ہیں لیکن اصل مسکراہٹ وہی ہوتی ہے جس کے گل ہائے خنداں انسان بحرانوں کی حالت میں پیش کرسکے…حکومت پر کیسے کیسے بحران آئے مگر وزیر اعظم نے ان کے ازالے کے لئے کچھ اور کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن مسکراہٹوں کے پھول بکھیرتے رہے،… اب یہی دیکھ لیجئے کہ اسٹاک مارکیٹ کا بحران کتنا شدید تھا، اس بارے میں معیشت کے نبض شناس جناب نجم الحسن عطا نے اپنے مضمون میں سرخی جمائی تھی کہ … ”پاکستان میں چند درجن افراد 40 کھرب روپے کی اسٹاک مارکیٹ سے بے انتہا فائدہ اٹھا رہے ہیں…“ انہوں نے مزید لکھا تھا کہ ”پاکستان میں کراچی کی اسٹاک مارکیٹ کا Turn Over 40/کھرب روپے کا ہے اور باقی ملک میں عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق 8/کروڑ افراد غریب ہیں جن میں سے 4/کروڑ انتہائی غربت میں دن گزار رہے ہیں“ ۔اس سلسلے میں معیشت کے جید عالم ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے لکھا کہ…“ اسٹاک مارکیٹ کے بحران کو لانے میں کچھ بینکرز اپنی ذاتی حیثیت میں کسی نہ کسی حد تک ملوث ہوسکتے ہیں، ان تمام صاحبان اور ان کے زیر کفالت افراد کے ذاتی اثاثوں کی چھان بین ہونا چاہئے (کیونکہ) کچھ بینکار اپنا اصل کام چھوڑ کر اپنے بینکوں، بینکوں کے مالکان اور خود اپنے لئے بڑے بروکرز کے ساتھ گٹھ جوڑ سے اسٹاک مارکیٹ میں سٹے بازی کرکے دولت بٹور رہے ہیں“… اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے لکھا…”اسٹاک مارکیٹ کے اسکینڈل کے ضمن میں حکومت پر جتنا عوامی دباؤ پڑا اس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ہے لیکن کسی کا بھی احتساب نہیں ہوا اور احتساب کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کردیئے گئے!“… ان چشم کشا تحریروں کو وزیر اعظم کے پریس سیکریٹری نے ضرور ان کے سامنے پیش کیا ہوگا مگر انہوں نے کیا تو یہ عملی اقدام کیا کہ مسکراتے رہے۔ اب ذرا کچھ دن پہلے کے اخبار ”جنگ“ کے صفحہ اول پر شائع شدہ خبر ملاحظہ فرمایئے…“ اپوزیشن نے کہا ہے کہ سیمینٹ اسکینڈل، اسٹاک مارکیٹ اسکینڈل، چینی، آٹا اور پیٹرول کے اسکینڈل سامنے آئے لیکن کسی نے کارروائی نہیں کی ہے، ان معلومات کی چھان بین کے لئے کمیشن مقرر کیا جائے، حکومت اعلان کر رہی ہے کہ فی کس آمدنی بڑھ گئی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 16/ارب ڈالر ہوگئے ہیں… یہ محض خالی دعوے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ غریب، غریب تر اور امیر امیر تر ہو رہا ہے، انتظامی مشینری ناکام ہوچکی ہے!“… ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے اخبار کی یہ خبر پڑھ کر وزیر اعظم ضرور مسکرائے ہوں گے۔ اب ہم گزشتہ ماہ رمضان میں مہنگائی کے ہولناک طوفان کا تذکرہ بھی کردیں جو یوں ضرور ی ہے کہ اس طوفان کی شدت میں ابھی تک کوئی کمی نہیں آئی ہے…”معاشی حقائق“ کے بارے میں بہت محترم کالم نگار جناب سکندر حمید لودھی نے لکھا ہے…”اس حکومت کے دور میں جب NAB نے شوگر مافیا کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تو کیا ہوا؟ نیب کے اس وقت کے ایک جرنیل سربراہ کو رخصت پر جانا پڑا کیونکہ انہیں شوگر مافیا کے خلاف مکمل کارروائی سے روک دیا گیا تھا، عوام اس پس منظر میں سوچتے ہیں کہ اب گندم کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی بھی سرد خانے میں چلی جائے گی کیونکہ ہمارے ممبران پارلیمینٹ کی بڑی تعداد اس ملک کی معیشت میں چینی، کھاد، ٹیکسٹائل اور گندم کے بزنس سے وابستہ ہے، وہ کیسے کسی کے خلاف کوئی کارروائی ہونے دیں گے؟“ ڈیموکریسی ٹیکس دینے والے اور خوردنی تیل پر 24 فیصد ٹیکس کا بوجھ اٹھانے والے غریب عوام کی بدترین حالت کا ذکر کرتے ہوئے لودھی صاحب نے یہ بھی لکھا کہ…” حکومت یہ دعوے کرتی ہے کہ پاکستان میں غربت کم ہورہی ہے اور خوشحالی بڑھ رہی ہے مگر حکومت یہ بھول جاتی ہے کہ اس دور میں روٹی کی قیمت اور نان کے نرخ میں کتنا اضافہ ہوا ہے پہلے روٹی 25 پیسے کی ہوتی تھی اور اب اس کی قیمت 4/روپے ہوچکی ہے…“ کامران خان نے وزیر اعظم سے اپنے انٹرویو میں جب آٹے کی شدید گرانی کا رونا رویا تھا تو آفرین ہے کہ شوکت عزیز صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا… ”اب تو آٹا ماشاء اللہ 13/روپے کلو مل رہا ہے…“ کاش وزیر اعظم ہمیں بھی وہ خطہ، وہ مقام اور وہ دکان بتا دیتے جہاں سے ان کا باورچی 13/روپے کلو آٹا لاتا ہے تاکہ ہمارے جیسے پسماندہ عوام وہیں سے آٹا لے آئیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ دیگر باتوں میں لگ کر ہم آج کی حسین ترین ترکاری ٹماٹر کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں لکھ سکے لیکن اب الیکشن قریب ترہیں اس لئے صاف بتائے دے رہے ہیں کہ ہم صرف اس امیدوار کو ووٹ دیں گے جو 10/کلو ٹماٹروں کا کریٹ ہمارے گھر بھجوائے گا…”صدائے عام ہے یاران ٹماٹر داں کے لئے…“
__________________
میری وجہ سے جس جس کو بھی تکلیف پہنچی ہے میں ان سب سے معافی چاہتا ہوں ۔ خاص طور پر آپ سے جو اس دستخط کو پڑھ رہے ہیں |
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| کراچی, پھول, وزیر, لوگ, مہنگائی, مکمل, آج, ایمان, اللہ, انسان, امیر, اسلامی, بھائی, جواب, جلتا, حال, خلاف, خان, رمضان, شعر, صفحہ, صلح, صاف, صدیقی, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ایرانی ایٹمی پروگرام اور اسرائیلی ہرزہ سرائیاں,,,,کارزار…انور غازی ( آخری قسط) | خرم شہزاد خرم | اپکے کالم | 1 | 19-12-07 10:06 AM |
| کرکٹ چھوڑیئے‘ لوڈو کھیلئے,,,,انداز بیاں اور…اطہر شاہ خان | خرم شہزاد خرم | اپکے کالم | 0 | 19-12-07 09:16 AM |
| دھکے تیری تلاش کے ( دوسری قسط ) | محسن بٹ | سفر نامے | 4 | 06-11-07 11:20 AM |
| جہاد تعریف اور اقسام ::: دوسری اور آخری قسط | عادل سہیل | جہاد | 0 | 11-08-07 02:12 AM |
| جہاد ::: تعریف اور اقسام :: دوسری اور آخری قسط | عادل سہیل | اسلامی نظریہ حیات | 0 | 11-08-07 02:03 AM |