| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 |
|
Senior Member
![]() |
حکومت کی جانب سے آئین میں وسیع پیمانے پر ترامیم کے لیے دونوں ایوانوں میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل ستائیس رکنی کمیٹی کے قیام کے ساتھ ہی جنوبی پنجاب پر مشتمل نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
سرائیکی علاقے پر مشتمل نئے صوبے کی حمایت جہاں مسلم لیگ (ق) کے بعض پارلیمینٹیرینز کرتے ہیں وہاں حزب مخالف کی مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما جاوید ہاشمی اور ان کی جماعت کے جنوبی پنجاب سے منتخب بعض اراکین کے علاوہ حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی اراکین بھی حامی دکھائی دیتے ہیں۔ لسانی بنیاد پر ’سرائیکی صوبہ‘ بنانے کا مطالبہ تو تقریباًگزشتہ پچیس برسوں سے کیا جاتا رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے بعض منتخب اراکین اسمبلی نے اب انتظامی بنیاد پر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا مطالبہ ایوانوں کے اندر سے شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں راجن پور سے پیپلز پارٹی کے منتخب رکن اسمبلی سردار اطہر خان گورچانی نے جب جنوبی پنجاب میں غربت، بدحالی، اور بھوک کا ذکر کرتے ہوئے جنوبی پنجاب پر مشتمل نیا صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تو ایوان میں موجود مختلف جماعتوں کے اراکین نے بھی ان کی حمایت کی۔ اٹک سے مسلم لیگ (ق) کے رکن پنجاب اسمبلی ملک شیر علی نے مطالبہ کیا کہ شمالی پنجاب کو بھی ایک صوبہ بنایا جائے کیونکہ وہاں کے عوام کو بھی حقوق نہیں ملتے۔ اطہر گورچانی کی اس بات پر مسلم لیگ (ن) کے وارث کلو سے تلخ کلامی بھی ہوئی اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے بھی ملکی حالات کے پیش نظر متنازع معاملات کو نہ چھیڑنے کا کہتے ہوئے معاملے کو دبا دیا۔ لیکن اطہر گورچانی کا کہنا ہے کہ وہ دوبارہ صوبائی اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھائیں گے۔ بدھ کو لاہور سے فون پر بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یکم جولائی سے شروع ہونے والے مالی سال میں سولہ اضلاع پر مشتمل جنوبی پنجاب کے لیے پانچ ارب روپے کا پیکیج دیا گیا ہے جب کہ لاہور میں رنگ روڈ پر صرف چھبیس ارب روپے لگے ہیں۔ ’جنوبی پنجاب کوئی تحصیل نہیں ہے سولہ اضلاع ہیں اس کے لیے پانچ ارب روپوں سے کیا بنے گا۔ یہ رقم تو ایک تحصیل کے بجٹ کے برابر ہے؟‘۔ انہوں نے کہا کہ ہم لسانی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی بنیاد پر پنجاب کی تقسیم چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ’اگر بھارتی پنجاب جو آبادی اور آراضی کے لحاظ سے پاکستانی پنجاب سے چھوٹا ہے، انتظامی بنیاد پر تقسیم ہوسکتا ہے تو ہمارا پنجاب کیوں نہیں ہوسکتا۔ ہمارا آدمی صادق آباد سے دس گھنٹے کی مسافت کے بعد بمشکل لاہور پہنچتا ہے اور اگر کسی کو تفتیش تبدیل کروانی ہو تو چار سے چھ روز لاہور میں گزارنے پڑتے ہیں اور پورے مہینے میں جتنی ان کی آمدن نہیں ہے وہ انہیں ایک ہفتے میں خرچ کرنا پڑتا ہے۔‘ ایک سرائیکی قوم پرست رہنما تاج محمد لنگاہ کہتے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑا ’بریک تھرو‘ ہے کہ جو بات سرائیکی علاقے کے ان جیسے سیاستدان، شاعر، دانشور، ادیب، غریب اور متوسط طبقے کے لوگ کرتے تھے آج اس کی گونج منتخب ایوانوں میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ ’یہ عوام کے دباؤ کا نتیجہ ہے کہ آج سرائیکی علاقے سے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ہوں، شاہ محمود قریشی یا پھر مسلم لیگ (ن) کے رانا محمود الحسن، تہمینہ دولتانہ یا مسلم لیگ (ق) یا کوئی اور جماعت ان کے لوگوں نے سرائیکیوں کو حقوق دلوانے کے نام پر ووٹ لیے ہیں اور آج اگر ان میں سے کسی نے سرائیکی صوبے کی مخالفت کی تو انہیں آئندہ ووٹ ہی نہیں ملیں گے۔‘ تاج محمد لنگاہ نے بتایا کہ آئینی ترامیم کے لیے بنائی گئی ستائیس رکنی پارلیمانی کمیٹی کو وہ خط بھیج رہے ہیں کہ سرائیکی صوبے کی شق اس میں شامل کریں۔ تاج لنگاہ نے کہا کہ ان سمیت کئی جماعتوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا اس لیے یہ ضروری ہے کہ پارلیمانی کمیٹی عوامی سماعت کر کے عوام کی رائے جانے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ ’اسفند یار ولی ہوں یا مولانا فضل الرحمٰن یا الطاف حسین انہوں نے سرائیکی صوبے کی حمایت کی ہے اور اب بھی وہ حامی ہیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ سرائیکی صوبے کی شق آئینی ترامیم کے پیکیج میں شامل کریں۔ کوئی جماعت اس کی مخالفت کی جرات نہیں کرے گی۔‘ جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے حوالے مسلم لیگ (ق) سینیٹر اور سابق وفاقی وزیر برائے اطلاعات محمد علی درانی کہتے ہیں کہ پنجاب کو انتظامی بنیاد پر پانچ صوبوں میں تقسیم ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بہاولپور، ملتان، شمالی پنجاب کو صوبہ بننا چاہیے۔’ قائد اعظم نے بہاولپور کو صوبہ بنانے کا عہد کیا تھا جس کی یحیٰی خان نے عہد شکنی کی۔ انیس سو چون میں جب ون یونٹ بنا تو بہاولپور بھی اس میں شامل ہوگیا لیکن جب ون یونٹ ختم ہوا تو یحیٰی خان نے بہاولپور ریاست کو علیحدہ صوبہ بنانے کے بجائے پنجاب میں ضم کردیا۔‘ سینیٹر درانی نے بتایا کہ بہاولپور کو انتظامی حکم کے ذریعے پنجاب کا حصہ بنایا گیا اس لیے اگر وزیراعظم چاہیں تو وہ ایک انتظامی حکم کے ذریعے بہاولپور کی صوبائی حیثیت بحال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایک آئینی ترمیم کا بل پیش کرنے والے ہیں جس کے تحت کسی صوبے کو انتظامی بنیاد پر تقسیم کرنے کا اختیار متعلقہ صوبے کی اسمبلی کو سادہ اکثریت کی بنیاد پر دیا جائے گا، جیسا کہ بھارت اور دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔ تاکہ انتظامی بنیاد پر صوبہ بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت نہ پڑے۔‘ واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنما جاوید ہاشمی نے دو روز قبل اسلام آباد پریس کلب میں ’میٹ دی پریس‘ میں پنجاب کو تقسیم کرکے مزید صوبے بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جب کہ اس طرح کا مطالبہ پیپلز پارٹی کے وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار سردار قیوم جتوئی، رکن قومی اسمبلی جمشیدی دشتی اور بعض دیگر اراکین کے علاوہ مسلم لیگ (ق) سردار بہادر خان سِیہڑ اور ریاض پیرزادہ، مسلم لیگ (ف) کے رکن قومی اسمبلی جہانگیر خان ترین اور رکن پنجاب اسمبلی مخدوم احمد محمود بھی کرتے رہے ہیں۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جس طرح بلوچستان میں آئے دن وفاق کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے اور چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے اُسے روکنے کے لیے پنجاب کو کم از کم دو حصوں میں تقسیم کرکے صوبوں کو زیادہ خودمختاری دینے کی ضرورت بعض ملکی سیاسی قوتوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی محافظ پاک فوج کو بھی محسوس ہو رہی ہے۔ ماخذ: بی بی سی اردو
__________________
فرحان دانش کا بلاگ وال چاکنگ http://www.farhandanish.tk |
|
|
|
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
نئے صوبوں کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے اوراب ٹی وی پر مذاکرے شروع ہو گئے ہیں اور سنا ہے کہ اس مطالبہ کو ایوان صدر کی حمایت حاصل ہے۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
مقبول
|
بنا دینا چایہئے نیا صوبہ کیا حرج ہے اس میں۔
|
|
|
|
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 349
کمائي: 5,604
ميرا موڈ:
شکریہ: 287
256 مراسلہ میں 659 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا خیال ہے کہ نئے صوبوں کی ضرورت نہیں ہے کراچی کو صوبہ بنادینا چاہئے
کیا خیال ہے فرحان؟ |
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 4,800
کمائي: 43,369
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,789
2,820 مراسلہ میں 5,978 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کراچی سے لیکر سکھر تک اردو صوبہ بنے گا چاہیے ایم کیو ایم بنائیں یا نہیں بنائیں ادھر بھی آگ سینوں میں لگ رہی ہے
__________________
ابھی تو قید میں ہیں جذبوں کی آندھیاں دل میں لیکن ہمارا جو صبر ٹوٹا تو قیامت ہو گی |
|
|
|
|
|
#7 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
لسانیت کی بنیاد پر کوئی صوبہ نہیں بننا چاہیئے ۔ اگر ایسا ھو گیا تو پاکستان میں تو تقریباً 70 سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں اور ہر زبان کے لوگوں کی کسی نا کسی علاقے میں اکثریت ہے اس طرح تو ہر شہر ہی ایک صوبہ بن جائے گا۔
__________________
![]() بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے اسلام ترا دیس ہے ، تو مصطفوی ہے |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے رضی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | فیصل ناصر (30-06-09), راجہ اکرام (30-06-09) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 4,800
کمائي: 43,369
ميرا موڈ:
شکریہ: 1,789
2,820 مراسلہ میں 5,978 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کراچی ، حیدرآباد ، میرپورخاص ، نواب شاہ اور سکھر ان شہروں میں اردو قوم کی اکژیت ہے اور یہی صوبے بنے گا انشااللہ |
|
|
|
|
| wajee کا شکریہ ادا کیا گیا | فرحان دانش (30-06-09) |
|
|
#9 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
بھائی یہ تو پاکستان بننے سے پہلے سے ہیں اب کوئی ایسی مثال قائم نہیں کی جانی چاہیئے ۔ہاں ایڈمسٹریٹر پوائینٹ آف ویو سے کسی علاقے کو صوبہ بنانا مقصود ھو تو پر اور بات ہے ۔
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے رضی کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | راجہ اکرام (30-06-09), عبداللہ حیدر (29-06-09) |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,034
ميرا موڈ:
شکریہ: 952
1,400 مراسلہ میں 3,861 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
السلام علیکم، ہاں شاندار آئیڈیا ہے - ویسے اس سے اچھا آئیڈیا یہ ہے کہ الگ ملک ہی کیوں نہ بنا دیا دیا۔ اردوستان، پنجابستان، سرائیکستان، بلوچستان اور پشتونستان باقی اور کسی زبان کی کمی رہ گئی ہے تو اس کو بھی الگ کر دیں۔ مذھب کے نام کے بعد یہ لسانی بنیادوں پر انشا اللہ پہلے ممالک ہوں گے۔ سب خوش رہیں گے پھر، کیوں کہ اس کے بعد مزید تقسیم کی فی الحال گنجائش نہیں بچے گی، اگر بعد میں مزید تقسیم کا کوئی نیا فارمولا آگیا تو پھر اس کے بعد سوچیں گے۔ میری طرف سے تجویز فائنل ہے۔ والسلام طاہر
__________________
|
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 4 صارفین نے طاھر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 40
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,034
ميرا موڈ:
شکریہ: 952
1,400 مراسلہ میں 3,861 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کاش میں اپنے آپ کو شکریہ کہنے کے قابل ہوتا
![]() والسلام طاہر |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 34
مراسلات: 7,469
کمائي: 37,339
ميرا موڈ:
شکریہ: 6,096
3,830 مراسلہ میں 9,539 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مسائل کا حل صوبوںکی تقسیم کی بجائے وسائل کی منصفانہ تقسیم ہونا چاہیے۔ اگر سندد سے اردو سپیکنگ علاقے نکال لیے جائیںتو سندد توایک ہفتہ بھی نہیں چل سکتا ہے۔ اگر بلوچستان کو اس بنیاد پر مزید تقسیم کیا جائے کہ اس کا رقبہ بہت بڑآ ہے تو کیا یہ منصفانہ کام ہوگا۔ جتنے لسانیت کے مسائل صوبہ سرحد میںہیںشائد اتنے تو سندھ میںبھی نہیں۔
مسائل کو حل کرنے کی بجائے شترمرغ کی طرحریت میں سر گھسانا قطعا غیر مناسب ہے۔ جیسا کہ لوڈشیڈنگ کے لیے مزید پاور پلانٹ بنانے کے بجلی کو مہنگا کرنے کا نسخہ آزمایا جا رہا ہے۔
__________________
"یہ ضروری تو نہیں کہ ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کے ساتھ زندگی بھی بتا سکیں" |
|
|
|
| مندرجہ ذیل 5 صارفین نے منتظمین کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | فیصل ناصر (30-06-09), مباح (30-06-09), راجہ اکرام (30-06-09), رضی (30-06-09), عبداللہ حیدر (30-06-09) |
|
|
#14 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() ![]() |
دولت کی منصفانہ تقسیم ہو تو کوئی ضرورت ہی نا محسوس ہو
|
|
|
|
| مندرجہ ذیل 2 صارفین نے فیصل ناصر کو اس مفید مراسلہ کی وجہ سے شکریہ ادا کیا ہے | راجہ اکرام (30-06-09), رضی (30-06-09) |
|
|
#15 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 7,243
کمائي: 118,020
شکریہ: 14,188
5,243 مراسلہ میں 11,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
انتظامی حالات کے تحت علاقوں کی تقسیم حکمت عملی کے تحت ہوا کرتی ہے اور اس سے ملک کے نظم و نسک کو منظم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکن ذاتی خواہشات، لسانی بنیاد یا اس طرح کے کسی دوسرے ارادے سے کی گئی تقسیم اگرچہ ابتدا میں تو بڑی دلفریب لگتی ہے لیکن اس کے نتائج بڑے بھیانک ہوتے ہیں۔
خاص طور پر لسانیت کی عصبیت تمام عصبیتوں میں سب سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس میں بل بوتے پر کی جانے والی تقسیم بھیانک نتائج پر منتج ہو سکتی ہے۔ سکھر تک اگر اردو صوبہ بنے گا تو پھر اہل سند کے پاس کیا رہ جائے گا۔جو وہاں کے مقامی باشندے ہیں۔ سکھر کے بعد تو شکار پور، لاڑکانہ، گھوٹکی، پنو عاقل کے علاوہ کوئی اہم جگہ نہیں ہے، اور ان علاقوں پر کوئی صوبہ کیا جئے گا۔ کراچی سے لے کر سکھر تک اگر نگاہ دوڑائی جائے تو اس بیچ سندھی اکثریت کے کئ اضلاع ہیں، جن میں نوابشاہ، کنڈیارو، مورو، سانگھڑ، بدین اور مٹیاری قابل ذکر ہیں۔ اگر اردو سوبہ سکھر تک بن بھی گیا تو سندھی اور مہاجر کا جھگڑا تو پھر بھی چلتا رہے گا۔ کراچی میں پٹھان بھی ایک بڑی اکثریت میں ہیں جن کی گزشتہ کئی نسلیں یہیں پر پلی بڑھی ہیں۔ ان کے لئے بھی جگہ بنانی پڑےگی۔ قصہ مختصر یہ تقسیم انتہائی مہلک ہو سکتی ہے۔ موجودہ حالات میں نئے صوبے کی آواز اٹھانے کے پیچھے جو عناصر شامل ہیں ان کا ادراک ضروری ہے۔ محمد علی درانی خود وفاقی وزیر رہے۔ ان کی پارٹی نے غیر مشروط اختیارات کے مزے لوٹے ، تب یہ صوبہ ضروری کیوں نہیں تھا۔ اصل مسئلہ پنجاب حکومت کو کمزور کرنا ہے، جس کے لئے قاف لیگ سرگرم ہے، صدر صاحب اگرچہ نواز شریف کو بھائی کہتے ہیں لیکن پنجاب میں پی پی پی کی حکومت قائم کرنا ان کا دیرینہ خواب ہے جو موجودہ حالات میں پورا ہوتا ہوا نظر نہیںآرہا۔ اس لئے درپردہ اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ایک اہم بات یہ بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ایک طرف سوات اور وزیر ستان میں حالات انتہائی نازک ہیں، بلوچستان میں بھی امن کی مثالی صورتحال نہیں ہے ان حالات میں پنجاب کو غیر مستحکم کرنا اور پنجابی اور سرائیکی کو لڑانے کی کوشش ملک کے لئے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ خدارا ہوش کیجئے اور دشمن کو خوش مت کیجئے۔ سب سے اہم کام ملک کی حفاظت ہے، اگر ملک مستحکم ہو جائے تو پھر یہ مسائل آپس میں بیٹھ کر طے کئے جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر ’خاکم بدہن‘ ملک کو کچھ ہو جاتا ہے تو یہ سارے صوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ اس لئے ملکی مفاد کو مقدم رکھ کر سوچئے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
__________________
قریب ہے یارو روزِ محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیوں کر جو چپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا محتاج اصلاح و دعا |
|
|
|
![]() |
| Bookmarks |
| Tags |
| pakistan, پاک, پاکستان, پاکستانی, وزیر, وزیراعظم, لوگ, لوٹے, نفرت, نواز شریف, نظر, مسائل, آبادی, آج, اردو, بھائی, تحریر, حل, خوش, شاندار, علی, صوبہ, صوبے, صورتحال, صدر |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پنجاب کابینہ کا اجلاس، صوبے میں مقامی حکومتوں کا ریکارڈ سیل | عبدالقدوس | خبریں | 0 | 24-04-08 01:59 PM |
| مظفرآباد:نئےالیکشن، زور پکڑتا مطالبہ | عدنان | خبریں | 0 | 19-04-08 12:25 AM |
| بھارت میں راہول گاندھی کو وزیراعظم بنانے کی تحریک زور پکڑ گئی، خلیجی اخبار | عبدالقدوس | خبریں | 1 | 16-04-08 10:23 AM |
| یوسف کا معاملہ طول پکڑ گیا | عدنان | کرکٹ | 0 | 21-12-07 05:56 PM |
| سیاسی اکھاڑے میںایک نئے بحران کی زور آزمائی | عبدالقدوس | اپکے کالم | 0 | 19-09-07 06:36 AM |