واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


ننھے مجاہد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-12-11, 06:04 PM   #1
ننھے مجاہد
allah ke bande allah ke bande آف لائن ہے 13-12-11, 06:04 PM


پشاور: بارہ سالہ ‏عزیرہ گل جس کے پاس اپنی آنٹی کی پشاور سے بھیجی ہوئی تھوڑی سی استعمال شدہ کتاب ہے، لڑکیوں کی تعیلم کے حقوق کے لئے لڑ رہی ہے۔ سوات وادی کے کبال علاقے میں اس کا اسکول ابھی بری حالت میں ہے، جب طالبان کی وجہ سے کشیدگی نے 2008 میں اسکول کودھماکوں میں جلا دیا تھا، اس وقت سے گل ضد پر ہے کہ وہ اسکول ٹیچر بننا چاہتی ہے اور وادی کی لڑکیوں کو پڑھانا چاہتی ہے۔
گل وادی میں اس تبدیلی کو لانے میں اکیلی نہیں ہے۔ ایسی ایک اور کہانی جس نے بین الاقوامی میڈیا میں کھلبلی مچادی ہے، وہ ہے مالا یوسف زئی کی۔
اس کے بین الاقوامی امن ایوارڈ کے لئے چنا گیا کیونکہ اس نے لوگوں کو اپنے علاقے کے بارے میں آگاہ کیا۔ اس کی نامینیشن نے سوات کے مسائل کو ملک کے لاکھوں لوگوں کے سامنے ظاہر کیا جس سے اسے بین الاقوامی شہرت ملی اور پرائم منسٹر سے انعام ملا۔
یہ واحد جدوجہد کرنے والی نہیں ہے۔ منگورہ کی بارہ سالہ لدیا بی بی کا کہنا ہے "کہ میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں"۔ "یہ واحد طریقہ ہے جس سے میں یہاں کے لوگوں کی مدد کرسکتی ہوں اور خصوصا عورتوں کو صحیح مدد حاصل ہو"۔
19 سالہ ماریہ تور پکائی جو جنوبی وزیرستان میں بڑی ہوئی، جہاں عورتیں بہت ہی کم گھر سے باہر نکلتی ہیں۔ اس نے ‎‎ثقافت کو للکارا اور سکواش کھیلنے لگی مگر اب وہ اعلی درجے کی نیشنل ٹینس کھلاڑی ہے۔
"مجھے معلوم ہے کہ میری بیٹی الگ تھی اور میں اس کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتا تھا"۔ ماریہ کے والد، شمسل قیوم وزیر نے کہا، جو اسے 2002 میں پشاور لے کر گیا، تاکہ اسے وہ مواقعے مل سکیں جو اس گھر پر نہ مل سکے۔
اس نے کہا،"ہمیں طالبان کی طرف سے دھمکیاں ملیں جس میں کہا گیا کہ اس کو کھیلنے سے روک دو"۔
آج پکائی ٹورونٹو میں رہتی ہے اور ٹریننگ کرتی ہے، اس کی کہانی دوسروں کے لئے مثال ہے۔ اس نے کہا،"میں ہمیشہ اپنی زمین کے سخت پتھروں کے بارے میں سوچتی ہوں کہ انہوں نے مجھے کتنا سخت بنایا ہے"۔
ملا ہزائی توقیر، ایک دادا اور ریٹائرڈ ٹیچرجو اب منگورہ میں اسکول سے باہر ہونے والے بچوں کے لئے کلاسیں چلاتے ہیں، ان کا کہنا ہے،"اتنی ساری چھوٹی بچیاں ہیں جو مستقبل کو بدل سکتی ہیں۔ میری بیٹیاں پڑھی لکھی ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ وہ خاندانوں کے مستقبلوں کو بدل سکتی ہیں، اس لئے میں جس جس کی مدد کرسکتا ہوں ان کی میں مدد کرنا چاہتا ہوں"۔
"میں سوچتا ہوں کہ ایک دن میری اور ان کی کوششیں اصل میں فرق اور تبدیلی لائیں گی"۔

allah ke bande
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Aug 2011
مراسلات: 123
شکریہ: 17
60 مراسلہ میں 95 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 88
Reply With Quote
پرانا 13-12-11, 10:27 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مراسلات: 440
کمائي: 7,019
شکریہ: 0
236 مراسلہ میں 412 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے ان جیسے چھوٹے بچوں کا تعلیم کے لیئے جذبہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے ان کو شاید اندازہ نہ ہو کہ یہ آنے والی نسلوں کے لیئے کتنا بڑا کارنامہ کر کے جا رہے ہیں۔ یہی بچے کل کی مائیں اور باپ ہیں اور ان کے دل میں شدت پسندی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
کلمہ حق آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, ہے۔, ہے،, کہانی, کوششیں, کلاسیں, گھر, وقت, والی, میڈیا, ملک, مسائل, معلوم, انعام, اتنی, استعمال, بچوں, بارہ, بدل, سکواش, طالبان, عورتیں, عورتوں, علاقے, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:18 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger