|
نوازلیگ اورپیپلزپارٹی میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہونے کا امکانات ختم

17-12-07, 02:38 PM
اسلام آباد (تجزیہ نگار خصوصی صالح ظافر) دو سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے مابین سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا تصور اختتام کو پہنچ چکا ہے کیونکہ پیپلزپارٹی آہستہ آہستہ جنرل پرویز مشرف کی جانب بڑھ رہی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نواز شریف انتظامیہ کے خلاف جنگ چھیڑ چکے ہیں اور انہوں نے کسی بھی ایسی سیاسی جماعت یا شخص سے ہاتھ ملانے کے امکان کو مسترد کردیا ہے جو موجودہ انتظامیہ کے لئے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتا ہو، بے نظیر بھٹو اور صدر مشرف نے حالیہ بیک چینل رابطوں کے پیش نظر ایک دوسرے کے بارے میں اپنا نکتہ نظر تبدیل کرنا شروع کردیا ہے، دونوں ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں اور مصالحت کی راہ پر گامزن ہیں۔ پیپلزپارٹی اس حوالے سے پرامید ہے کہ مقامی بلدیاتی اداروں کی معطلی اور تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر پابندی کے خاتمے پر مبنی مطالبے پورے ہوجائیں گے، اس کے برعکس سابق حکمراں جماعت شجاعت لیگ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے پر پابندی کے خاتمے کے مطالبے کی سختی سے مخالفت کرے گی اور اس کے لئے اس نے موجودہ انتظامیہ سے تعاون کے لئے شرط قرار دیا ہے، متحدہ قومی موومنٹ نے بھی متعلقہ حکام کو پیغام پہنچایا ہے کہ مقامی بلدیات کی معطلی کو جارحانہ اقدام کے طور پر دیکھا جائے گا اور اس صورت میں وہ اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے لئے آزادانہ طور پر حکمت عملی مرتب کرنے کے لئے خودمختار ہونگے۔ نواز لیگ کے ذرائع نے اتوار کے روز دی نیوز کو بتایا کہ جماعت اسلامی سے ہمدردی رکھنے والوں نے نواز لیگ سے رابطہ کیا ہے اور اس کو حمایت فراہم کرنے کا اشارہ دیا ہے چونکہ ان کا خیال ہے کہ کسی ایک جماعت یا چھوٹے گروپوں کی جانب سے انتخابات کے بائیکاٹ کے نتائج الٹ نکل سکتے ہیں برطرف ججوں نے بھی بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کے رہنماؤں کو یہ پیغام پہنچایا تھا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ نہ کریں چونکہ اس سے حکومت کو اپنے عزائم پورے کرنے کا موقع ملے گا، ن لیگ کے رہنماؤں نے بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کی حمایت کے حصول کے لئے رابطے قائم کرلئے ہیں، نواز لیگ کے چیئرمین راجہ ظفرالحق نے واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت نے انتخابات تک پیپلزپارٹی سے مفاہمت کا خیال ترک کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے مشن کو لیکر آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور انتخابات تک پیچھے مڑ کر نہیں دیکھیں گے، انہوں نے کہا کہ عوام جس طرح نواز شریف کا استقبال کررہے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ انتخابات لڑنے کا فیصلہ مطلوبہ نتائج پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نواز لیگ 95/ فیصد سیٹوں پرانتخابات لڑ رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ انتخابات کے اختتام پر ہمارے امیدواروں کی کامیابی بہت سے سیاسی پنڈتوں کو حیران کردے گی دریں اثناء مولانا فضل الرحمن کی جانب سے نواز شریف پر تنقید کرنے پر ن لیگ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور ان کی تنقید کو اے پی ڈی ایم سے جے یو آئی کا اخراج قرار دیا جارہا ہے۔ جے یو آئی واضح طور پر شجاعت لیگ کی جانب بڑھ رہی ہے اور کسی اتحاد کی تشکیل کے لئے پیپلزپارٹی اس کا دوسرا انتخاب ہوگی۔ جے یو آئی نواز لیگ سے کسی قسم کا معاملہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|