|
نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی

10-12-07, 08:36 AM
نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر ویز
واشنگٹن (نیر زیدی، نمائندہ جنگ) صدر پرویز مشرف نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں اگر عدم استحکام پیدا گیا تو امریکا کو بعد میں پشیمانی ہوگی سی این این کے نامہ نگار Wolf Blitzer سے ایک انٹرویو میں صدر نے امریکن میڈیا کو دعوت دی کہ وہ پاکستان آکر گراؤنڈ کی صورت حال دیکھیں تاکہ انہیں سمجھ میں آئے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کن مشکلات کا سامنا ہے اور پاکستان جو اقدامات لیتا ہے وہ کیوں لیتا ہے۔ الیکشن میں مبینہ متوقع دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے سی این این کے نامہ نگار نے بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کے بیانات پڑھ کر سنائے اور صدر مشرف کا ردعمل مانگا۔صدر نے کہا کہ یہ بیانات اس لئے دیئے جارہے ہیں کیونکہ ان لوگوں کو انتخابات میں اپنی شکست نظر آرہی ہے اس لئے یہ لوگ پہلے سے واویلا کررہے ہیں اور اپنی متوقع شکست کی وضاحت کی تیاریاں کررہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں موجودہ بحران کی ذمہ داری چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر عائد کی کیونکہ بقول صدر مشرف چیف جسٹس نے آئین سے رو گردانی کرکے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لئے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے Wolf Blitzer کو ٹوک کر کہا کہ پاکستان کے چیف جسٹس ڈوگر ہیں نہ کہ افتخار چوہدری اور افتخار چوہدری کے واپس آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پاکستان میںآ زاد اور منصفانہ انتخابات کے بارے میں ایک سوال پر صدر پاکستان نے کہا کہ ”امریکا اور مغرب میں آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک میں کوئی قاعدہ قانون نہیں ہے؟“ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو 8/ جنوری کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیں گے؟ صدر نے کہا کہ نہ وہ اجازت دیں گے اور نہ وہ روکیں گے کیونکہ یہ کام الیکشن کمیشن کا ہے اور امیدوار ضوابط کے مطابق کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرسکتے ہیں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جاسکتے ہیں انہوں نے کہا کہ انہوں نے الیکشن کمشنر سے بات تک نہیں کی۔ صدر پرویز مشرف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آزادانہ انتخابات کے لئے ایک نگراں حکومت قائم کی گئی ہے اور انہوں نے اس کے لئے آئین میں ترمیم کی ہے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی بھی انٹرویو کی ابتداء میں موجود تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 2003ء میں پاکستان سے دراندازی میں اضافہ ہوا ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ وہ صدر کرزئی سے محاذ آرائی نہیں کرنا چاہتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں چھاپہ مار جنگ کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک چھاپہ مار جنگ کرنے والوں کو مقامی آبادی کی حمایت حاصل نہ ہو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی جو لوگ موجود ہیں وہ افغانستان کی درآمد ہیں یہ ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ پاکستان میں عارضی پناہ لیتے ہوں اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کچھ افراد ان کی مدد کرتے ہوں لیکن وہ واپس جاکر افغانستان میں مقامی آبادی کی مدد کے بغیر لڑ نہیں سکتے۔ صدر مشرف نے یہ بھی کہا کہ وہ پاکستان کے لئے اپنی جان بھی دینے کو تیار ہیں۔ دریں اثناء اے ایف پی کے مطابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ 15 دسمبر کو ہر صورت ایمرجنسی اُٹھا لی جائے گی، انہوں نے یہ وعدہ بھی کیا کہ 8 جنوری سے پارلیمانی انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں گے۔ سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ یہ بیانات شکست کی تیاریاں ہیں۔ میرا خیال ہے ان لوگوں کو باوقار طریقے سے الیکشن لڑنا چاہئے اور اگر ان میں سے کوئی ہار جائے تو اسے بردباری سے شکست تسلیم کرلینی چاہئے جو کوئی بھی الیکشن جیتے گا ہم اُسے مبارکباد دیں گے۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|