بینظیر سے زبانی سمجھوتہ ہوا تھا انہوں نے خلاف ورزی کی،سہیل وڑائچ کی کتاب سے انٹرویو
ایک برادر اسلامی ملک بے نظیر کو بطور وزیربرداشت کرنے کیلئے تیار نہیں تھا
لاہور (پولیٹیکل سیل) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ جب ان کے ملٹری سیکرٹری نے انہیں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کی خبر دی تو ان کے ذہن میں فوراً آیا ”Bloody Hell“یہ تو بہت کام خراب ہوگیا پہلے ہی حالات اچھے نہیں اب معاملات مزید پیچیدہ ہونگے۔ مصنف سہیل وڑائچ کی کتاب ”قاتل کون“ میں شامل انٹرویو میںجنرل مشرف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کو مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی تھی اگر وہ گاڑی سے باہر نہ نکلتیں تو انہیں کچھ نہ ہوتا 30جون 2008ء کو بطور صدر دیئے گئے انٹرویو میں مشرف نے کہا کہ بین الاقوامی تفتیشی ایجنسیوں سے ہماری ایجنسیاں کہیں بہتر ہیں بے نظیر بھٹو قتل کے بارے میں پاکستانی ایجنسیوں نے پوری رپورٹ دے دی تھی اور وہی رپورٹ درست ہے اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ محترمہ کی موت گولی سے نہیں بلکہ گاڑی کا لیور لگنے سے ہوئی تھی محترمہ بے نظیر بھٹو سے معاہدے کے حوالے سے مشرف نے کہا ہمارا زبانی معاہدہ ہوا تھا، کوئی تحریر نہیں لکھی گئی تھی البتہ دونوں طرف کے معاونین نے نوٹس لئے تھے اس گفتگو میں یہ طے ہوا تھا کہ بے نظیر بھٹو الیکشن ہونے کے بعد واپس آئیں گی لیکن انہوں نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور واپس آ گئیں جب پرویز مشرف سے یہ پوچھا گیا کہ آپ سات آٹھ سال تو محترمہ کے خلاف رہے پھر آپ کو معاہدہ کیوں کرنا پڑا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے بہت سے اتحادیوں نے جن میں مغربی ممالک اور امریکہ شامل تھے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی سے معاہدے کے بعد پاکستان میں لبرل طاقتیں مضبوط ہوں گی ان کا خیال تھا کہ بہترین یہ ہوگا کہ میں صدر ہوں اور بے نظیر بھٹو وزیراعظم بن جائیں جبکہ ایک برادر اسلامی ملک والے بے نظیر بھٹو کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ تھے انہوں نے کہا یہ برادر اسلامی ملک چاہتا تھا کہ صدر تو میں ہی رہوں لیکن وزیراعظم نواز شریف ہوں جب بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آگئیں تو مجھے شاہ عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ عدل سے کام لیا ہے بے نظیر بھٹو کی واپسی کے بعد نواز شریف کا پاکستان واپس نہ آنا عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا مجھے شاہ عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ مجھ پر بہت دباﺅ ہے کہ نواز شریف کو واپس آنے دیا جائے پرویز مشرف نے بتایا کہ سعودی فرمانروا انہیں بھائی کہتے تھے انہیں علم تھا کہ میں نے نواز شریف سے ہمیشہ مہربانی سے کام لیا ان کے بھائی شہبازشریف بیمار ہوئے تو میں نے بخوشی علاج کے لئے جانے کی اجازت دے دی نوازشریف کا بیٹا بیمارہوا تب بھی میں نے اجازت دی کہ وہ لندن جا سکتے ہیں نوازشریف کی سعودی عرب سے واپسی کے موقع پر سعودی عرب کی معرفت زبانی طور پر یہ طے ہوا تھا کہ یہ پیپلز پارٹی سے اتحاد نہیں کرینگے ججوں کی بحالی کا مطالبہ نہیں کرینگے اور نہ میری صدارت کی آئینی حیثیت کو چیلنج کریں گے جب مشرف سے یہ پوچھا کہ مسلم لیگ ن نے تو ان میں سے کسی بات پر کمپرو مائز نہیں کیا تو سابق صدر نے کہا کہ وہ جو مرضی کرتے رہیں سچ تو یہ ہے کہ ایک سفارتکار کا کردار بڑا منفی تھا میں نے سعودی عرب کو اس حوالے سے پیغام دے دیا تھا کہ معاہدے کی خلاف ورزی ہورہی ہے باقی ان کی مرضی ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی