|
نواز شریف کو دوبارہ جلا وطن کرنے کے فیصلے پر صدر مشرف کو کڑی تنقید کا سامنا

14-09-07, 09:03 AM
September 12, 2007
سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کو دوبارہ ملک بدر کرنے کے صدر جنرل پرویز مشرف کے فیصلے کو حزبِ مخالف اور اخبارات اپنے اداریوں میں مسلسل تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اِس اقدام سے صدر مشرف کے ایک اہم سیاسی حریف کو راستے سے تو ہٹا دیا گیا ہے لیکن اِس کی وجہ سے عدالتِ عظمیٰ کی طرف سے پاکستانی صدر کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جہاں پہلے ہی صدر کے دو عہدوں کے خلاف درخواستیں زیرِِ سماعت ہیں۔
پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے نائب امریکی وزیرِ خارجہ جان نیگروپانٹے نے بدھ کو اسلام آباد میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اِس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان میں آئندہ عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ انداز میں منعقد کرائے جائیں گے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ کے قائد نواز شریف کو زبردستی دوبارہ جلا وطن کرنے کے بعد انتخابات میں تمام سیاسی جماعتوں کو برابر کے مواقع دینے کے سرکاری بیانات کی نفی ہوئی ہے۔
نواز شریف کی ملک بدری سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امریکی نائب وزیرِ خارجہ نیگروپونٹے نے کہا کہ نواز شریف کی جلا وطنی ایک قانونی معاملہ ہے اور اِس کے بارے میں صرف پاکستانی حکام اور عوام ہی کوئی فیصلہ یا رائے قائم کر سکتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ پاک امریکہ اسٹریٹجک مذاکرات میں یہ معاملہ نہیں اُٹھایا گیا۔
نو مارچ کو عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس کو معطل کرنے کی ناکام کوشش کے بعد اور ملک میں خودکش حملوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد سے صدر مشرف پر تنقید اور اقتدار چھوڑنے کے مطالبات میں بھی تیزی آئی ہے۔
لیکن اِن مطالبات سے صرفِ نظرکرتے ہوئے صدر مشرف اور اُن کی حامی حکمراں مسلم لیگ نے موجودہ اسمبلیوں ہی سے صدر کو دوبارہ صدر منتخب کرانے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ موجودہ اسمبلیوں سے صدر مشرف کو دوبارہ صدر منتخب کرانے کے لیے خود ساختہ جلا وطن رہنما بے نظیر بھٹو کے ساتھ سیاسی ڈیل کرنا ناگزیر ہوگا۔
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر
|
پاکستانی
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
شکریہ: 10,319
3,107 مراسلہ میں 7,465 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|