|
نواز شریف کو وطن واپسی کیلئے ڈیل، مفاہمت یا اجازت کی ضرورت نہیں، احسن اقبال

23-11-07, 09:12 AM
اسلام آباد( تجزیہ نگار خصوصی … صالح ظافر) اعلیٰ سطح کے ذرائع نے جمعرات کو دی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے کچھ نئے احکامات پر غور کیا ہے اور اس مقصد کیلئے آنے والے ہفتوں میں نئی قانون سازی کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ جنرل پرویز مشرف، جنہیں بینظیر بھٹو کی واپسی کو مفاہمت کے پردے میں قبول کرنا پڑا تھا اب انہیں اپنے ایک اور سخت حریف میاں نواز شریف کی پاکستان واپسی کو بھی برداشت کرنا ہوگا۔ سعودی حکام نے جنرل پرویز کی اس درخواست کو مسترد کردیا ہے کہ جنوری میں انتخابات کے انعقاد تک نواز شریف کو پاکستان کا سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے اور وہ پہلے ہی نواز شریف کو گرین سگنل دے چکے ہیں کہ وہ وطن واپس جا سکتے ہیں۔ واپسی کے سفر کا تعین ”بڑے شریف“ خود کریں گے، توقع ہے کہ وہ جمعہ کو سعودی دارلحکومت سے واپس جدہ جائیں گے اور شام کو اپنے شیڈول کا اعلان کرینگے۔ امریکی اور دنیا کے دیگر دارالحکومت شریف خاندان کی واپسی میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور انہوں نے سعودی دارالحکومت میں حکام سے قریبی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ جدہ میں حسین نواز کی رہائش گاہ پر سامان باندھنے (پیکنگ) کا کام جاری ہے جبکہ بیگم کلثوم نواز اور شہباز شریف بھی واپسی کے سفر پر جانے کیلئے تیار ہیں۔ نواز لیگ کے سیکریٹری اطلاعات احسن اقبال چوہدری نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ ان کے پارٹی رہنما حکومت پاکستان یا سعودی عرب کے ساتھ واپسی کیلئے کسی ڈیل یا مفاہمت میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وطن واپسی کیلئے انہیں حکومت کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اے پی ڈی ایم کی جماعتوں اور ہم خیال گروپس، پی پی پی اور مولانا فضل الرحمن کو اس بات پر راضی کرینگے کہ وہ انتخابات میں شرکت کرنے کے حوالے سے نہ سوچیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک ایسی صورتحال کا سامنا ہے جس میں ایک جانب کھائی اور دوسری جانب کنواں ہے۔ سابقہ حکمراں جماعت ق لیگ کو امید ہے کہ اگر شریف برادران واپس آگئے تو وہ بینظیر سے ہاتھ ملانے کی بجائے ق لیگ کے ساتھ معاہدہ کرنے کو ترجیح دینگے۔ دریں اثناء امریکی و مغربی سفارت کار اسلام آباد میں اپنی نجی گفتگو میں وضاحتیں کر رہے ہیں کہ بینظیر بھٹو کی واپسی میں مغرب نے سہولت فراہم کی تھی لیکن انہیں وزیراعظم بننے کی یقین دہانی نہیں کرائی گئی تھی، یہ قسمت اور پاکستان کے عوام ہیں جو اس بات کا فیصلہ کرینگے۔ دریں اثناء اسلام آباد نمائندہ جنگ کے مطابق احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف انشاء اللہ بہت جلد پاکستان کے عوام کے درمیان ہوں گے۔ ان کی واپسی کی اطلاعات نے ق لیگ کی قیادت کے اوسان خطا کردئیے۔ نواز شریف کی واپسی میں رکاوٹ ڈالنا ممکن نہیں رہا تھا۔ ان کی واپسی کا اعلان پارٹی نے گزشتہ ماہ کردیا تھا کہ وہ نومبر کے وسط تک پاکستان پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ق لیگ کی قیادت کو ہر چیز میں ڈیل نظر آتی ہے چونکہ وہ خود ڈیل کی پیداوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کی موجودگی میں ملک انتشار کا شکار رہے گا لہٰذا ان کا استعفیٰ قومی مجبوری بن چکا ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|