واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


نواز لیگ کی ڈیڈ لائن، پیپلزپارٹی نے کھلے حملے شروع کردیئے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-02-11, 06:51 AM   #1
نواز لیگ کی ڈیڈ لائن، پیپلزپارٹی نے کھلے حملے شروع کردیئے
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 21-02-11, 06:51 AM

شاہین صہبائی
دبئی ....میاں نواز شریف کی بے اثر اور لاحاصل 45 روزہ ڈیڈلائن جیسے ہی ختم ہونے کے قریب پہنچ رہی ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کی ہائی کمان کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے خلاف بالواسطہ اعلان جنگ اس سویلین- ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لئے آخری چارہ ثابت ہوسکتی ہے جو اب ایک ایسے اونٹ کی شکل اختیار کرگیا ہے جو تین سال سے جمہوریت کی من مانی تشریحات کررہا ہے اور جس کی پیٹھ پر کرپشن، بدتر طرز حکمرانی اور ناپختہ سوچ کا زبردست وزن موجود ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے جنگ کا اعلان ایک حقیقت بن چکا ہے اور صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بنائی جانے والی بریگیڈ کے سربراہ صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا ہیں جنہوں نے بڑی چالاکی کےساتھ اپنے وقار اور وڈیرانہ انداز کے ہتھیار ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر 90 (نائن زیرو) میں ڈال دیئے۔ اپنے روایتی جگا اسٹائل اور تیز و تند زبانی حملے کرنے والے ذوالفقار مرزا نے موجودہ نظام کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے کئی لکیریں عبور کرلی ہیں، اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نظام کو سیاست دانوں کی ایک گینگ نے ہائی جیک کرلیا ہے، اور وہ اس قدر پراعتماد ہوچکے ہیں کہ وہ اس جمہوریت کی جڑوں کو نشانہ بنانے سے بھی باز نہیں آتے جس کے بارے میں یہ اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ اسی کی وجہ سے وہ اقتدار میں ہیں۔ اس بات کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ ذوالفقار مرزا کس بات کے لئے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی زبان اور اسٹائل سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے آقا نے انہیں پاکستان مسلم لیگ (ن) پر حملوں کا کام سونپا ہے تاکہ یہ لگے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی بالغ النظری اور پیپلز پارٹی کو مزید وقت دینے کی پالیسی زبردست تباہی پر منتج ہوئی ہے۔ یہ دیکھنے کےلئے کہ پیپلز پارٹی آخر کہاں جا رہی ہے، ذوالفقار مرزا کا اتوار کا بیان پیش خدمت ہے: ”ہم بدمعاش نہیں ہیں لیکن بدمعاشی کرنا پڑی تو کریں گے۔ میں نواز شریف اور عمران کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں۔ ہم آسانی سے حکومت چھوڑنے والے نہیں۔ سندھ میں نواز لیگ کا ایک دفتر نہیں بچے گا۔ پی پی کا دشمن ملک کا دشمن ہے“۔ یہ کھلی دھمکیاں اور الٹی میٹم کسی بھی طرح جمہوریت کے مفاد میں نہیں ہیں لیکن اس حکمت عملی کا حصہ ضرور ہوسکتے ہیں جس کے تحت صدر آصف علی زرداری نے ملک چلانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ ان کا واحد مقصد یہ ہے کہ اپنے اربوں روپے کی جائیداد اور اثاثوں کی حفاظت اور اقتدار میں رہنا ہے، چاہے اس کےلئے ان کی حکومت اہم ترین معاملات کے حوالے سے کس قدر ناکام ثابت کیوں نہ ہوجائے۔ اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور وزیرعظم گیلانی کی ملک چلانے کے حوالے سے حکمت عملی صرف شاندار محلوں میں رہنے تک محدود ہے، پرتعیش عہدوں پر یہ لوگ اپنے ساتھیوں کو مقرر کرتے ہیں اور اس کے بعد انہیں بدعنوانی کےلئے اربوں روپے دیتے ہیں، ملک کی چھوٹی بڑی عدالتوں کی حکم عدولی کرکے اپنے کالے دھن کو محفوظ کرتے ہیں، مفاہمت کے نام پر دیگر سیاسی جماعتوں اور اتحادیوں کےساتھ چوہے بلی کا کھیل کھیلتے ہیں اور پانچ سال تک منظر عام پر رہتے ہیں۔ ان مقاصد کے حصول کےلئے ان لوگوں نے ہر اس ادارے کو خریدنے، اسے ڈرانے دھمکانے، اسے تباہ کرنے یا پھر اسے اپنے پیروں تلے روندنے کی کوشش کی ہے جس سے انہیں خطرہ تھا۔ انہوں نے زبردست عوامی جدوجہد کے بعد بحال ہونے والی اعلیٰ عدلیہ کے احکامات نہیں مانے، آزاد میڈیا کے حلقوں بشمول جنگ گروپ کو ڈرایا دھمکایا اور سزائیں دیں، سرکاری فنڈز کے غلط استعمال سے انہوں نے وکلاءکو تقسیم کردیا اور انہیں خریدا اور اہم ترین قومی اداروں مثلاً آئی ایس آئی، قومی احتساب بیورو (نیب)، الیکشن کمیشن، ہائر ایجوکیشن کمیشن، محتسب وغیرہ، کا پراسرار انداز سے کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ کئی کوششوں میں یہ لوگ کامیاب بھی رہے۔ منتخب حکومت کی سنجیدہ نوعیت کی ذمہ داریوں کو پیپلز پارٹی نے نظر انداز کردیا۔ کئی معاملات میں اسٹیبلشمنٹ نے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا۔ لہٰذا ملک کی خارجہ و دفاعی پالیسی، اقتصادی و مالیاتی حکمت عملی، تجارت و بیوپار کے اہم ترین معاملات، داخلی سلامتی اور سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کو ان کے دائرہ¿ اختیار سے باہر کردیاگیا۔ ان پالیسیوں اور اداروں کو چلانے کےلئے فوج نے مداخلت کی اور پس پردہ رہ کر ان معاملات کا کنٹرول سنبھالا، کئی معاملات میں تو سویلینز نے ان سے پوچھا تک نہیں۔ اس کے باوجود پیپلز پارٹی کو سیاسی اور جمہوری عمارت برقرار رکھنے کا موقع دیا گیا اور اسی لیے زبردست کرپشن، اقربا پروری، خود سر رویہ اور خراب طرز حکمرانی کو برداشت کیا گیا۔ معاملات درست کرنے کےلئے سیاست دانوں کو وقت دیا گیا، انہیں وقت دیا گیا کہ وہ جرا¿ت اور اخلاقیات کا مظاہرہ کریں، جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو متاثر کرکے دکھائیں اور ثابت کرکے دکھائیں کہ ملک چلانے کےلئے پاکستانی سیاست دانوں کو وقت اور جگہ ملے تو وہ کچھ کرکے دکھا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا اور اب صورتحال یہ ہے کہ ایک صوبے کا وزیر داخلہ اور دوسرے صوبے کا وزیر قانون ایک دوسرے کو ”بدمعاش“ (Rogues and Scoundrels) کہہ رہے ہیں۔ جیو ٹی وی کے ہمارے ایک ساتھی کامران خان نے پیپلز پارٹی کی قیادت کے 20 یو ٹرن اقدامات کا ذکر کیا ہے جس کے تحت ایک کے بعد دوسری تباہی آئی، چالاکی کے ساتھ طاقت حاصل کرنے کےلئے ایک کے بعد دوسرا گوریلا حملہ کیا گیا، سلامتی اور خارجہ کی پالیسی کے سلسلے میں فاش غلطیاں کی گئیں لیکن ٹرائیکا کے اجلاسوں میں انہیں منہ کی کھانا پڑی اور یہ پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن اس کے باوجود بھی انہوں نے سبق حاصل نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کو ملنے والے اس وقت میں میاں نواز شریف اہم کھلاڑی تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی کا وہ خوف ختم ہوجائے کہ فوج سیاسی جھگڑوں کو استعمال کرکے بغاوت کرسکتی ہے۔ اس قدر بھیانک انداز سے سیاسی نظام کا استحصال کرنے اور پیپلز پارٹی کو نہ روکنے کا الزام انہیں ہی دینا چاہئے۔ لیکن اب وہ بھی ایک ایسی سڑک پر پہنچ چکے ہیں جو ختم ہوچکی ہے۔ کئی مرتبہ مسٹر زرداری اور گیلانی نے انہیں بے وقوف بنایا ہے اور اب یہ ان کےلئے خود کشی کے مترادف ہوگا کہ وہ مسٹر زرداری اور گیلانی کے ساتھ مزید عرصہ تک چور سپاہی کا کھیل کھیلیں۔ اتوار کو اسلام آباد میں ہونےوالی ملاقات میں زرداری اور گیلانی کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں اس بات کی حکمت عملی طے کی گئی کہ آخر کس طرح میاں نواز شریف کو سرکس کے مداری کی طرح جھولے میں جھلایا جائے۔ اس صورتحال میں واحد خاموش تماشائی (سویلین اور خاکی اسٹیبلشمنٹ) انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل کررہا ہے اور کانپتی ٹانگوں کے ساتھ یہ سوچ رہا ہے کہ صورتحال کو کیسے سنبھالا جائے۔ میڈیا کے ساتھ نجی بات چیت میں خاکی کمانڈرز الفاظ کو چبانے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ براہِ راست بات کرتے ہیں۔ انہیں یہ نہیں معلوم کہ آخری حد کیا ہونا چاہئے کیونکہ ان کی براہِ راست مداخلت سے ملک پر خراب اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اس کے باوجود تیونس، مصر، لیبیا، یمن، بحرین اور دیگر پڑوسی ممالک میں پیش آنے والے واقعات نے صورتحال کو ایک نیا رخ دیدیا ہے۔ مصر کی صورتحال سب سے زیادہ توجہ کا مرکز رہی کیونکہ مصر میں عوام نے ایک بدعنوان حکومت کو ہٹا دیا لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ فوج نے ملک پر قبضہ کرلیا۔ لیکن اس کے باوجود امریکا میں اس تبدیلی کے سلسلے میں کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی حالانکہ امریکا میں ایسے قوانین نافذ ہیں جن کے تحت اگر کسی ملک میں فوج بغاوت کردے تو از خود اس ملک پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں۔ مصر کے معاملے میں فوج کا استقبال کیا گیا کیونکہ اوباما انتظامیہ خود حسنی مبارک کو نکالنا چاہتی تھی۔ نجی محفلوں میں امریکی عہدیدار اور سفارت کار پیپلز پارٹی کی حکومت کو بھی اسی طرح نکالنے اور اس کی کرپشن اور خراب طرز حکمرانی کو ختم کرنے کے متعلق بات کرتے ہیں لیکن چونکہ سویلین نظام کی ایک عمارت قائم ہے لہٰذا انہیں صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے۔ اہمیت کے حامل تمام معاملات پر امریکا جنرل کیانی سے بات کرتا ہے اور ان ہی پر انحصار کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں کھلی جنگ ناگزیر ہوچکی ہے، امریکا پارلیمنٹ کے ذریعے آنے والی کسی بھی تبدیلی کا خیر مقدم کرے گا۔ لیکن اگر پیپلز پارٹی نے گندا کھیل کھیلا جیسا کہ ڈاکٹر مرزا دھمکی دے چکے ہیں اور نواز شریف بھی اسی لب و لہجے میں جواب دیتے ہیں، تو واشنگٹن پارلیمنٹ سے باہر آنے والی بھی تبدیلی کا خیر مقدم کرے گا۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ صورتحال کیسے تبدیل ہوتی ہے لیکن سندھ کے وزیر داخلہ نے جو الفاظ اور لب و لہجہ اختیار کیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پارٹی نے تمام منظر ناموں اور تناظر پر بحث کرلی ہے اور جائزہ بھی لے لیا ہے اور سندھ میں مسلم لیگ (ن) کے دفاتر بند کرنے کی بات ظاہر کرتی ہے کہ پی پی اپنی زبردست طاقت کا مظاہرہ کرنے کےلئے تیار ہے چاہے اس کےلئے اسے اپنا غیر جمہوری چہرہ ہی کیوں نہ دکھانا پڑ جائے۔ اب یہ نواز شریف پر انحصار کرتا ہے کہ وہ ملک کو کہاں لے جانا چاہتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو مزید ڈھیل دینے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک طرف تو وہ پیپلز پارٹی اور اس کی لوٹ کھسوٹ روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو دوسری طرف وہ پیپلز پارٹی کو ایک کے بعد دوسرے قومی ادارے پر قبضہ کرنے سے بھی نہیں روک سکتے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوگا کہ نواز شریف ذوالفقار مرزا اور ان کے آقاﺅں کی دھمکیوں سے ڈر گئے ہیں اور اسی لیے نرم لہجہ اختیار کےے ہوئے ہیں۔ لیکن اہم ترین فیصلہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کا ہوگا کیونکہ گزشتہ تین سال سے وہ زبردست لوٹ کھسوٹ کا مظاہرہ دیکھ رہی ہے اور آنکھیں بند کےے ہوئے ہے لیکن اگر پیپلز پارٹی جمہوری عمارت کو منہدم کرنے اور سندھ سے دیگر سیاسی جماعتوں کو نکال باہر کرنے کی بات کرے گی تو کیا یہ ان کےلئے قابل قبول امر ہوگا۔ اگر وہ بلاواسطہ یا بالواسطہ کارروائی کرے گی تو اس کا سارا الزام سیاست دانوں کو جائے گا اور اس کے بعد واشنگٹن کا رد عمل بالکل ویسا ہی ہوگا جیسا اس نے مصر کی صورتحال پر کیا۔ فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 55
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (21-02-11)
جواب

Tags
پاکستان, پاکستانی, واقعات, واشنگٹن, وزیر, وزیراعظم, لوگ, نواز شریف, چور, موجودہ, معلوم, الزام, انتظامیہ, اسلام, اعلیٰ, جیو ٹی وی, جواب, دیکھو, روزہ, راستہ, زرداری, سیاست, علی, صدر زرداری, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
صدرزرداری نے پیپلزپارٹی پر ”ایک زرداری سب پر بھاری“ کا نعرہ لگانے پر پابندی لگا دی گلاب خان خبریں 0 26-12-10 06:49 AM
پیپلزپارٹی کے موجودہ جمہوری دور کے سب سے خطرناک کھیل کا آغاز ہوگیا، بھارتی ٹی وی گلاب خان خبریں 0 16-12-10 04:14 AM
میرا تعلق ذوالفقارعلی بھٹو کی پیپلزپارٹی سے ہے ‘ آصف علی زرداری کی پارٹی سے champion_pakistani خبریں 4 10-07-08 11:17 PM
پیپلزپارٹی بینظیرکے قتل کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی مجازہے ابو کاشان خبریں 0 16-01-08 09:46 AM
پیپلزپارٹی نے عام انتخابات کیلئے آپریشنل پلان بنایا ہے،شاہ محمودقریشی عبدالقدوس خبریں 0 17-12-07 02:49 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 01:29 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger