|
نوجوانوں کا مستقبل خطرہ میں ۔وزیر خزانہ کے ساتھ مذاکرات ناکام۔ چھ یونیورسٹیوں کی بندش کا خدشہ

18-09-10, 03:34 PM
دہگر ممالک میں حکومت کی یونیورسٹیاں کھولنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش ہوتی ہے تاکہ اس ملک کے نوجوان زیادہ سے زیادہ اعلیٰتعلیم یافتہ ہوں۔اورملک کا نام روشن کریں ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔
وزیر خزانہ کے ساتھ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں کیونکہ یونیورسٹیوں کو بچانے کے لئے جس قدر گرانٹ کی ضرورت تھی ' وزیر خزانہ نے وہ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے اور یونیورسٹیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے خرچے خود نکالیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یونیورسٹیوں سے یہ بات ایک ایسے موقع پر کی جارہی ہے۔ جب شدید مہنگائی کی وجہ سے عوام کی قوت خرید جواب دے چکی ہے اور اس میں تعلیم خریدنے کی سکت ہی نہیں ہے۔
حکومت نے وزراء کی ایک پوری فوج پال رکھی ہے ان میں سے دس بیس وزیروں کے شاہانہ اخراجات اگر ختم ہو جائیں تو اس رقم سے یونیوسٹیوں کو آکسیجن مل سکتی ہے لیکن یہاں قوم یا قوم کے نوجوانوں کی فکر کس کو ہے؟
حکمرانوں کی خواہش تو بس اس قدر ہے کہ انہیں حکومت کرنے دی جائے چاہے آدھا ملک سیلاب اور آدھا ملک مہنگائی میں غرق ہو جائے۔ یہ آئے تھے عوام کو روٹی ' کپڑا اور مکان دینے اور اب دیگر خبروں کے ساتھ ساتھ قوم کے نوجوانوں پر تعلیم کے دروازے بھی بند کر رہے ہیں۔ ان کی عقلیں سلب ہوگئی ہیں ورنہ ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ اگر یونیورسٹیاں بند ہوگئیں تو ان میں زیر تعلیم نوجوان گھروں میں نہیں بیٹھ جائیں گے بلکہ سڑکوں پر آجائیں گے اور پورے نظام زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیں گے۔ درحقیقت شاہ ایران کے آخری د نوں کا منظر نامہ ابھر رہا ہے اور حکومت خود ہی ایسے اسبا ب بھی پیدا کرتی جاہی ہے کہ اس کے خلاف عوام ہی نہیں یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات بھی سڑکوں پر نکل آئیں۔مگر ہمیںکوئی پرواہ نہیں کوئی جئے کوئی مرے سسرا گھول پتاشے پئے
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|