صوبہ سرحد کے ضلع نوشہرہ میں حکام نے دعوٰی کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے کینٹ کے علاقے میں ایک مبینہ خودکش حملہ آور کو بارودی جیکٹ اور دیگر مواد سمیت گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور کا تعلق وزیرستان سے بتایا جاتا ہے۔
نوشہرہ پولیس کے مطابق پیر کی صبح نوشہرہ کینٹ کے علاقے لال کرتی میں ایک مبینہ خودکش حملہ آور کسی نامعلوم ہدف کی جانب بڑھ رہا تھا کہ وہاں تعینات فوجی اہلکاروں نے شک کی بناء پر اسے قابو کرنے کے بعدگرفتار کر لیا۔
نوشہرہ پولیس کے سربراہ یامین خان نے بی بی سی کو بتایا کہ حملہ آور کو ایک نامعلوم موٹر سائیکل سوار کینٹ کے علاقے میں چھوڑ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور کی خودکش جیکٹ سے غالباً کوئی فیوز گر گیا تھا اور وہ اسے سڑک پر تلاش کر رہا تھا کہ اس دوران سکیورٹی فورسز نے اسے حراست میں لے لیا۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کے قبضہ سے خودکش جیکٹ ، پانچ کلو بارود اور ایک دستی بم بھی برآمد کیا گیا ہے۔
پولیس اہلکار کے بقول حملہ آور نے دھماکہ کرنے کے لیے اپنے جسم کے مختلف حصوں پر تین بٹن نصب کیے تھے لیکن سکیورٹی اہلکاروں نے اس کا ہاتھ بٹن تک پہنچنے سے پہلے ہی اسے قابو کر لیا۔
حکام کے مطابق حملہ آور کا ہدف یقینی طور کینٹ کا علاقہ ہی تھا کیونکہ اس علاقے میں فوج کے کئی مراکز اور دفاتر قائم ہیں۔ واضح رہے کہ نوشہرہ کینٹ میں اس سے پہلے بھی خودکش اور دیگر بم حملے ہوچکے ہیں جس میں کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔
