|
ن لیگ سمیت دیگر جماعتوں سے مفاہمت ہوسکتی ہے،شوکت عزیز

29-10-07, 10:40 AM
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ حکمراں مسلم لیگ صوبہ سندھ میں انتخابات کیلئے تیار ہے، مسلم لیگ اپنی کارکردگی اور اتحادیوں کے تعاون سے آئندہ انتخابات جیتے گی، مسلم لیگ نواز سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں سے مفاہمت ہوسکتی ہے تاہم مفاہمتی آرڈیننس کے تحت کسی سزا یافتہ فرد کو رعایت نہیں ملے گی، افہام و تفہیم کی پالیسی کو ڈیل یا ڈھیل نہ سمجھا جائے، کراچی میں 18 اکتوبر کو پیش آنے والے سانحے کی تحقیقات کی تہہ تک پہنچ چکے ہیں، معاملہ خفیہ ہے اس لئے اس وقت اس حوالے سے کچھ بتانا مناسب نہیں، پولیس نے ماضی میں بھی ایسے کیسز حل کئے ہیں اور یہ کیس بھی حل ہوجائے گا اور مجرموں کو بے نقاب کیا جائیگا، سوات میں فوجی آپریشن نہیں ہو رہا بلکہ صوبائی حکومت کی درخواست پر ایف سی اور پولیس کے اہلکار کارروائی کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو گورنر ہاؤس میں مدیران اخبارات اور صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان اور وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم بھی موجود تھے۔ دریں اثناء گورنر ہاؤس ہی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انتخابات کے دوران قیام امن کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ اتحادی جماعتیں مل بیٹھ کر آئندہ وزیراعظم کے لئے متفقہ نام سامنے لائیں گی۔ الیکشن کے دوران مخالفانہ محاذ آرائی کو روکنے کے لئے انتخابی ضابطہ اخلاق کے بارے میں الیکشن کمیشن کو مسودہ ارسال کر دیا گیا ہے جبکہ اس سلسلے میں سیاسی جماعتوں کو بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان قائم کرنے کے لئے جرگہ سمیت قبائلی عمائدین سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سیاست میں سیاسی مفاہمت کا کلچر متعارف کرایا ہے۔ اس وقت تمام سیاسی پارٹیوں سے ہمارے رابطے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلیوں کا اپنی مدت پوری کرنا ایک کارنامہ ہے جبکہ اس مرتبہ قومی اسمبلی سے ریکارڈ قانون سازی بھی ہوئی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہم پیپلز پارٹی سمیت مسلم لیگ (ن) و دیگر جماعتوں سے سیاسی مفاہمت کے لئے بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں اور ان سے بھی سیاسی مفاہمت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ وزیراعظم کیلئے اتحادی جماعتیں مل بیٹھ کر متفقہ نام سامنے لائیں گی تاہم کوئی بھی وزیراعظم ووٹ اور بیلٹ بکس کے بغیر نہیں بن سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) عام انتخابات کے بعد مستقبل کے وزیراعظم کا فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا کہ پارٹی میں وزیراعظم کے تعین کے حوالے سے کوئی بحران ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی یکسر مسترد کردیا کہ ملک کے آئندہ وزیراعظم کا فیصلہ کوئی غیرملک کرے گا‘ عوام آزادانہ‘ منصفانہ‘ غیرجانبدارانہ انتخابات میں اپنے لیڈر کا انتخاب کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ایک حقیقت ہے اور پارٹی کی اسمبلیوں اور سینیٹ میں نمائندگی موجود ہے‘ حکومت ان کے رہنماؤں سے بھی مذاکرات کررہی ہے۔ میاں نوازشریف کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ قانونی معاملہ ہے جسے قانون کے مطابق طے کیا جائے گا‘ نوازشریف سعودی عرب اپنے انتظامات کے تحت واپس گئے تھے‘ سعودی عرب کے حکام انہیں لینے آئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے لہٰذا اس پرمزید کچھ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی‘ حکومت تمام قومی سیاسی جماعتوں اور اتحادی جماعتوں سے بات چیت کررہی ہے کیونکہ حکومت سیاسی مفاہمت پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ حکومت کا انتخابی مہم چلانے کیلئے سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کا کوئی منصوبہ ہے تاہم انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں انتخابی مہم کے دوران اپنے حامیوں کی حفاظت کریں‘ حکومت انتخابی مہم کے دوان سیکیورٹی کو یقینی بنائے گی۔ دریں اثناء گورنر ہاؤس سندھ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے اعلیٰ حکام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات کے دوران پرامن سیاسی عمل کیلئے امن و امان برقرار رکھنا اور عوام کو تحفظ کی فراہمی اولین ترجیح ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کیلئے جامع سیکورٹی پلان تشکیل دینا ہو گا۔ اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد، وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم، مشیر داخلہ سندھ وسیم اختر، چیف سیکرٹری سندھ، ڈی جی رینجرز، سیکرٹری داخلہ سندھ، سی سی پی او کراچی اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے پولیس اور دیگر اداروں پر زور دیا کہ وہ سیاسی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیوں کے پرامن انعقاد کیلئے الیکشن کمیشن کے انتظامات کے سلسلہ میں اس سے بھرپور تعاون کریں۔ اس موقع پر انسپکٹر جنرل پولیس سندھ نے اجلاس کو سندھ میں عام انتخابات کے دوران امن و امان کیلئے کئے گئے انتظامات سے آگاہ کیا۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے الامران گروپ کے چیئرمین عبدالله اومران کی قیادت میں ملنے والے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں، اقتصادی استحکام، پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت کے طریقہ کار نے پاکستان کو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کیلئے ایک بڑا مرکز بنا دیا ہے، گذشتہ سال پاکستان میں 8 ارب 40 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی۔ وزیراعظم نے وفد کو بتایا کہ حکومت کی طرف سے ڈی ریگولیشن، لبرلائزیشن اور نجکاری کے اصلاحاتی ایجنڈہ پر توجہ دینے کی وجہ سے گذشتہ سات سالوں کے دوران ملک کی اقتصادیات اور مجموعی قومی پیداوار میں دگنا اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال توقع ہے کہ فی کس آمدنی ایک ہزار ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ ملک میں مڈل کلاس کی صورتحال بہتر جبکہ غربت میں کمی ہو رہی ہے۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|