|
ن لیگ کے اُمیدواروں نے عدلیہ اور آئین کی بحالی کا حلف اٹھا لیا،آئین سے کھیلنے والے ہاتھ روکنا ہو نگے،نواز شر یف

07-02-08, 02:38 AM
ن لیگ کے اُمیدواروں نے عدلیہ اور آئین کی بحالی کا حلف اٹھا لیا،آئین سے کھیلنے والے ہاتھ روکنا ہو نگے،نواز شر یف
لاہور(نمائندہ جنگ)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے عام انتخابات کے لئے مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں سے عدلیہ اور آئین کی بحالی کا حلف لے لیا، مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے اگر پاکستان کو بچانا ہے، ملک کو مہذب اور باوقار ملک بنانا ہے تو ہمیں آئین کی عزت و حرمت سے کھیلنے والے ہاتھوں کو روکنا ہو گا، اور فوج کو اپنی آئینی ذمہ داریوں تک محدود کرنا ہوگا، اگر ہم ایسا نہ کر سکے اور 3 نومبر والی واردات کو برداشت کر گئے تو عدلیہ کبھی بھی پورے قد کے ساتھ کھڑی نہیں ہو سکے گی، اگر عدلیہ نہ کھڑی ہو سکی تو پاکستان کبھی اقوام عالم کی صف میں باعزت اور پروقار مقام حاصل نہیں کر سکے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ماڈل ٹاؤن میں ملک بھر کے مسلم لیگ (ن) کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں سے عدلیہ کی بحالی کا حلف لینے کی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ امیدواروں سے حلف سابق چیف جسٹس آف پاکستان سعید الزماں صدیقی نے لیا۔ تقریب سے میاں شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک فون پر ڈھیر ہوجانے والی پرویز مشرف نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا۔ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججز کسی صورت عوام کو انصاف فراہم نہیں کرسکتے تقریب سے جسٹس سعید الزماں صدیقی، جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد، بیگم بشریٰ اعتزاز احسن اور احسن اقبال نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں امیدواروں سمیت ججز، وکلاء، ارکان سول سوسائٹی سمیت نے بھی شرکت کی۔میاں نواز شریف نے کہا کہ جسٹس افتخارمحمدچوہدری سمیت دیگر معزول جج جلد بحال ہوں گے،حکمرانوں نے ملکی ادارے تباہ کرکے رکھ دیئے ہیں،(ق) لیگ کے سیاسی مسخروں کے بیانات مضحکہ خیز ہیں۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ پرویز مشرف نے فوج کو کس کام پر ڈال دیا ہے، فوج جیسے حساس ادارے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کی ہوس میں اہم ادارے کو داؤ پر لگا دیا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ آزاد عدلیہ اس لئے ضروری نہیں کہ پاکستان میں آئینی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے غیرآئینی طور پر معزول کئے گئے تمام جج صاحبان کی عزت و احترام کے ساتھ اپنے عہدوں پر بحالی کو اپنے منشور کی سب سے اہم ترجیح بنایا ہے ہم اسی نقطے کی بنیاد پر انتخابات کا بائیکاٹ کرنا چاہتے تھے لیکن اپوزیشن کی کچھ جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی کو آمادہ نہ کر سکے پھر ہم نے اسی نقطے کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا میں نے اسی لئے قوم سے کہا تھا کہ یہ انتخابات نہیں ریفرنڈم ہو گا اس نقطے پر یہ ریفرنڈم کہ کیا قوم جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دوسرے جج صاحبان کی بحالی چاہتی ہے یا نہیں آج پھر میں اپنی اس بات کو دوہرا رہا ہوں کہ 18 فروری اس ریفرنڈم کا دن ہے کہ قوم پرویز مشرف کے 3 نومبر کے اقدامات کو غلط خیال کرتی ہے یا درست۔ انہوں نے کہا کہ میں انتخابات میں حصہ لینے والی دوسری جماعتوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ 3 نومبر کے آمرانہ اقدام کی توثیق نہ کرنے اور ججوں کی بحالی کے بارے میں واضح اور دوٹوک موقف اپنائیں۔ میرا مخاطب وہ سیاسی مسخرے نہیں جو ڈکٹیٹر کے قدموں میں سر رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|