واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


واہ رے قسمت۔۔۔۔۔ صدر آصف علی زرداری، ان کے بچوں اور بیگم نصرت بھٹو کی اربوں روپے کی لاٹری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-05-10, 03:34 AM   #1
واہ رے قسمت۔۔۔۔۔ صدر آصف علی زرداری، ان کے بچوں اور بیگم نصرت بھٹو کی اربوں روپے کی لاٹری
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 14-05-10, 03:34 AM

انصار عباسی
اسلام آباد… وفاقی شریعت کورٹ کے حالیہ فیصلے کے نتیجے میں صدر آصف علی زرداری، ان کے بچوں اور بیگم نصرت بھٹو کی اربوں روپے کی لاٹری لگ گئی ہے۔ گزشتہ ماہ سنائے جانے والے فیصلے میں وفاقی شریعت کورٹ نے 1977ء کے اس وقت کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل محمد ضیاء الحق کے احکامات کو کالعدم قرار دیدیا ہے، ان کے دور میں حکومت نے 2/ ٹرسٹ کمپنیوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ ٹرسٹ کمپنیاں ذوالفقار علی بھٹو نے متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی مالی معاونت کے ساتھ شروع کی تھیں اور اس میں ملک کے مختلف حصوں میں جائیدادیں حاصل کی گئی تھیں۔ ان ٹرسٹس کا نام تبدیل کرکے شیخ زید بن سلطان النہیان ٹرسٹ اور شیخ سلطان ٹرسٹ کردیا گیا تھا۔ اب وفاقی شریعت کورٹ نے 1977ء کے ان احکامات کو اسلام سے متصادم قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان ، اس کی وزارتوں اور ڈویژنوں کو حکم دیا ہے کہ حکومت کے زیر انتظام دو ٹرسٹس، شیخ زید بن سلطان النہیان ٹرسٹ اور شیخ سلطان ٹرسٹ، کی ملکیت، ان کی جائیدادیں اور اثاثے بینظیر بھٹو کی اولاد اور بیگم نصرت بھٹو کو واپس کئے جائیں۔ فیصلے میں اس بات کی بھی عکاسی کی گئی ہے کہ ایک ٹرسٹ میں مرتضیٰ بھٹو بھی ٹرسٹی تھے لیکن بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد مقدمہ میں صدر آصف علی زرداری اور ان کے بچوں کی نمائندگی کرنے والے کمال اظفر نے دی نیوز کو بتایا کہ فیڈرل شریعت کورٹ میں جب 2002ء میں یہ پٹیشن دائر کی گئی تھی اس وقت مرتضیٰ بھٹو ٹرسٹی نہیں تھے لہٰذا عدالتی فیصلے میں صرف بینظیر بھٹو کی اولاد اور بیگم نصرت بھٹو کا فائدہ ہوگا۔ عجیب بات ہے کہ 1977ء کا یہ فیصلہ بینظیر بھٹو کی دو حکومتوں کے دوران تو کالعدم قرار نہیں دیا جا سکا لیکن اب ایسا اس وقت ممکن ہوپایا ہے جب متعلقہ وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے درخواست گزار کی اس استدعا کی حمایت کی کہ جنرل ضیاء کے اقدام کو غیر اسلامی قرار دیا جائے۔ وفاقی شریعت کورٹ شریعت کورٹ میں بینظیر بھٹو نے یہ درخواست 2002ء میں دائر کی تھی لیکن اس کا فیصلہ 15/ اپریل 2010ء کو سنایا گیا۔ کئی برسوں تک نظر انداز کی گئی درخواست کی سماعت 23/ اکتوبر 2007ء میں شروع ہوئی اور اس کے بعد اس پٹیشن پر 12/ فروری 2008ء، 26/ مارچ 2008ء، 9/ اپریل 2008ء، 22/ اکتوبر 2008، 6/ جنوری 2009ء، 13/ جنوری 2009ء، 11/ مارچ 2009ء، 10/ اپریل 2009ء اور 7/ اپریل 2010ء سماعتیں ہوئیں۔ جس تین رکنی بینچ نے اس مقدمہ کا فیصلہ سنایا وہ فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر آغا رفیق احمد خان، جسٹس سید افضل حیدر اور جسٹس شہزادو شیخ پر مشتمل تھا۔ جسٹس سید افضل حیدر کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ عدالت ہذا میں یہ پٹیشن مارچ 2002ء میں دائر کی گئی تھی۔ اس درخواست پر کوئی سماعت نہیں ہوئی تاوقتیکہ 23/ اکتوبر 2010ء کو وفاقی حکومت کو درخواست سماعت کیلئے منظور کئے جانے سے قبل نوٹس بھجوائے گئے۔ 11/ مواقعوں پر درخواست کی سماعت کراچی اور اسلام آباد میں ہوئی۔ آخری مرتبہ اس مقدمہ کی سماعت 15/ اپریل 2010ء کو ہوئی جب فریقین نے اپنے دلائل مکمل کرلئے اور عدالت نے ایک مختصر آرڈر جاری کیا۔ فیصلے میں مختصر حکم نامہ جاری کرنے کی وجوہات موجود ہیں تاہم پٹیشن منظور کرتے ہوئے مارشل لاء کے احکامات کو اسلام سے متصادم قرار دیا گیا۔ پس منظر کے حوالے سے، فیصلے میں درج ہے کہ مرحوم وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیوہ بیگم نصرت بھٹو اور دو مرتبہ ملک کی وزیراعظم منتخب ہونے والی ان کی صاحبزادی محترمہ بینظیر بھٹو اور ان کے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو نے 8/ اگست 1974ء کو ”پیپلز فاؤنڈیشن“ کے نام سے ایک ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔ تینوں بانی اس کے ٹرسٹی تھے جبکہ درخواست گزار نمبر ایک (بینظیر بھٹو) اس ٹرسٹ کی چیئرپرسن بھی تھیں۔ 5/ جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق کی جانب سے فوجی بغاوت کے بعد ٹرسٹ اور اس کے ایسوسی ایٹس کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثے 28/ستمبر 1977ء کو جاری ہونے والے MLO-26 کے تحت منجمد کردیئے گئے۔ ضیاء حکومت نے پیپلز فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز اور ہر اس ادارے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو معطل کردیا جو اس کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ ان کے تمام اختیارات مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کو تفویض کئے گئے۔ نصرت بھٹو نے مارشل لاء آرڈر کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا تاہم ان کی درخواست کو 1985ء میں خارج کردیا گیا۔ جب یہ درخواست سندھ ہائی کورٹ میں زیر التواء تھی اس وقت جنرل ضیاء الحق نے ٹرسٹس کے نام تبدیل کرنے کا حکم جاری کیا جس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ٹرسٹ کا نام شیخ زید بن سلطان النہیان ٹرسٹ اور پیپلز فاؤنڈیشن ٹرسٹ کا نام شیخ سلطان ٹرسٹ رکھ دیا گیا۔ دونوں ٹرسٹس کے بورڈ آف ٹرسٹیز کو تبدیل کردیا گیا اور صدارتی احکامات کے تحت ان کا تقرر صدر نے کرنا تھا۔ وفاقی شریعت کورٹ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ ٹرسٹ کے معاملات اور انتظامات دستاویز میں وضح کردہ طریقہ کار کے مطابق ٹرسٹیز کی جانب سے اپنی حدود کے اندر رہ کر اچھے طریقے سے چلائے جا رہے تھے۔ اس پورے عرصے کے دوران ٹرسٹیز کو مختلف ذرائع سے عطیات اور متحدہ عرب امارات کے سربراہ مملکت کی جانب سے حصہ ملتا رہا تاکہ ٹرسٹ کے مقاصد پورے کئے جا سکیں۔ درخواست گزار (بینظیر بھٹو) نے اپنے وکیل کمال اظفر کے ذریعے وفاقی شریعت کورٹ کے سامنے یہ موقف پیش کیا کہ یہ تمام اقدامات اسلام سے متصادم تھے اور انہیں ایسا ہی قرار دیا جائے اور تمام احکامات کالعدم قرار دیئے جائیں۔ یہ بھی استدعا کی گئی کہ مدعا علیہان کو ہدایت دی جائے کہ ٹرسٹ کے اثاثے اور جائیدادیں درخواست گزار کے حوالے کی جائیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی جانب سے کیا جانے والا اقدام نقصان پہنچانے، ہراساں کرنے اور بالآخر درخواست گزاروں کو ختم کرنے کی غرض سے کیا گیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ٹرسٹیز کو ہٹانے اور ٹرسٹ کے اثاثے کسی قانونی طریقے کے بغیر منجمد کرنے کے جنرل محمد ضیاء الحق کے اقدامات آئین کے آرٹیکل 23/ اور 24/ کی خلاف ورزی ہے۔ 75/ صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزاروں کے وکیل نے جامعہ دارالعلوم کراچی کے مولانا ساجد الرحمن صدیقی سے کہا کہ وہ عدالت کو بتائیں کہ مارشل لاء کے تحت جاری کیا جانیوالا فیصلہ اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے یا نہیں۔ ”سرکار کی نمائندگی کرنے والے فاضل وکیل نے درخواست گزار کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں مختصر جواب میں بتایا کہ وہ درخواست گزار کی جانب سے جس مذہبی اسکالر کا حوالہ دیا گیا ہے اس کے بتائے ہوئے دلائل پر قرآن کریم کی احکامات کی مخالفت نہیں کرسکتے۔ فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ عدالت کے اس سوال کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مارشل لاء آرڈرز کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے، کے جواب میں سرکاری وکیل نے بیان دیا کہ وہ قرآن کریم کی کسی آیت یا رسول کریم کی زندگی سے متعلق کسی روایت کا حوالہ پیش نہیں کرسکتے۔ فیصلے کے مطابق، وزارتوں / ڈویژنوں بشمول خزانہ ڈویژن، آڈیٹر جنرل آف پاکستان، وزارت مذہبی امور، وزارت بہبود آبادی، وزارت سماجی بہبود و خصوصی تعلیم، وزارت صحت، وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس اور وزارت اطلاعات و نشریات نے عدالتی نوٹس کے جواب میں اپنے پیرا وائز بیانات جمع کرائے۔ ”تمام مذکورہ بالا وزارتوں اور ڈویژنوں نے بیان دیا کہ مذکورہ ٹرسٹ آئین کے آرٹیکل 270-A کے حوالے سے آئین کے شیڈول نمبر 7 کے تحت ہے۔ تاہم یہ بات آئین کے آرٹیکل 230-D کی کسوٹی پر پورا اترنے کیلئے اس بات کی تردید نہیں کرتی کہ جن شقوں کو چیلنج کیا گیا ہے وہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں یا نہیں۔ یہی بات آئین کی تمہید سے بھی واضح ہوتی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 2-A قرارداد مقاصد کو آئین کا ضروری حصہ بناتا ہے۔ اس سلسلے میں آرٹیکل 3، 4، 5، 6، 20، 23، 24، 31، 37 اور 38 کا حوالہ پیش کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق مذکورہ بالا وزارتوں/ڈویژنوں نے اپنے بیانات کی حمایت میں مندرجہ ذیل دلائل پیش کئے: جو بیانات یہاں پیش کئے گئے ہیں وہ اسلامی روایات کے مطابق ”ٹرسٹس“ کے متعلق وضح کردہ شقوں کے منافی ہیں۔ مرحوم وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے قائم کردہ پبلک ویلفیئر ٹرسٹ کا کنٹرول جنرل ضیاء الحق نے سنبھال لیا تھا، انہوں نے منتخب وزیراعظم کو ہٹایا اور ان کی جانب سے کئے گئے اقدامات پر غور کیا، اس میں ان کا مقصد پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے متعلق آئینی اور قانونی نظریات کا فروغ تھا یا ٹرسٹ پراپرٹیز کے متعلق قانون شریعت (Mohammadan Law) کی خلاف ورزی کی گئی…… “۔ وفاقی شریعت کورٹ کے مطابق ان وزارتوں / ڈویژنوں نے یہ بھی کہا کہ مارشل لاء آرڈر کے تحت ٹرسٹ کا کنٹرول سنبھال لینا اسلامی روایات کے منافی ہے۔ ”مذکورہ بالا وزارتوں/ ڈویژنوں نے متفقہ طور پر درخواست گزار کی استدعا سے ان الفاظ کے تحت اتفاق کیا: ”درخواست گزار کا دعویٰ جائز اور مناسب ہے کیونکہ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا مارشل لاء آرڈر (MLO) کا ڈیکلیریشن نمبر 21، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا زون C برائے P.O.4 برائے 1978ء اور P.O. برائے 1979 کا ڈیکلیریشن نمبر 26 اسلامی روایات کے منافی ہیں۔ نتیجتاً پیپلز فاؤنڈیشن ٹرسٹ کو اس کے اثاثوں سمیت اصل حالت میں بحال کیا جاتا ہے۔ اس عدالت کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ ٹرسٹ کے اثاثے یا ٹرسٹ کی پراپرٹی اس کے حقیقی یا بانی ٹرسٹیز یا انتقال کرجانے والے ٹرسٹیز کی وارثوں کے حوالے کی جائے “۔ فیصلے کے نتیجے میں لکھا ہے کہ، اسلامی تعلیمات، قرانی آیات، آئینی شقوں وغیرہ پر بحث کے بعد یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ مذکورہ معاملے میں اٹھائے جانے والے تمام اقدامات اور کسی بھی عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے بشمول مارشل لاء انتظامیہ کے فیصلے مذکورہ بالا اسلامی حوالہ جات کے منافی ہیں لہٰذا قانون کی نظر میں ان فیصلوں کی کوئی اہمیت نہیں اور ان کا کوئی قانونی اثر نہیں ہوگا۔ کمال اظفر نے دی نیوز کو بتایا کہ انہوں نے اس کیس میں بینظیر بھٹو یا ان کے وارثوں سے ایک پائی بھی نہیں لی، جنرل ضیاء نے ناجائز طریقے سے ٹرسٹ پر قبضہ کیا۔

روزنامہ جنگ کی خبر
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,236 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 119
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-05-10), ھارون اعظم (15-05-10), اویسی (14-05-10)
پرانا 14-05-10, 07:20 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 456
کمائي: 10,007
شکریہ: 147
332 مراسلہ میں 834 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر یہ بات صحیح ہے تو زرد آری کا نیا امتحان شروع
شریف آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شریف کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-05-10), اویسی (14-05-10)
پرانا 14-05-10, 09:02 AM   #3
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,775
شکریہ: 53,120
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی جان اس شئیرنگ پر میری جانب سے بہت بہت شکریہ قبول فرمائیے!
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (15-05-10), اویسی (14-05-10)
جواب

Tags
کورٹ, کمال, کراچی, پاکستان, وزیراعظم, قرآن, نیوز, نظر, مکمل, ممکن, انتظامیہ, اسلام, اسلامی, بچوں, جواب, خلاف, خبر, درخواست, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, زندگی, علی, صدارتی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بے نظیر بھٹو کی برسی آج منائی جائے گی، قافلوں کی گڑھی خدابخش آمد گلاب خان خبریں 0 27-12-10 03:44 AM
بینظیر کے قاتلوں سے واقف ہوں عدالت میں انکشاف کروں گی، عابدہ حسین گلاب خان خبریں 2 17-12-10 01:11 AM
خیبر پختونخواہ، بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی۔ہلاک ہونیوالوں کی تعداد 300 سے زائد ہو گئی، لاکھوں پاکستانی خبریں 4 30-07-10 08:07 PM
بینظیر بھٹو کی شہادت کا بدلہ اصل قاتلوں کے بجائے بے گناہوں سے کیو ں لیا گیا،الطاف حسین عبدالقدوس خبریں 0 07-01-08 07:42 AM
اندرون سندھ سرچ آپریشن جاری،کروڑوں روپے کا لوٹا ہوا سامان برآمد،سیکٹروں گرفتار خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 08:49 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:30 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger