| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 273
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 682
کمائي: 12,905
شکریہ: 0
368 مراسلہ میں 710 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ڈيرہ اسماعيل خان ميں ايک ہسپتال پر خودکش حملے کے بعد واہ کينٹ ميں آج کا خودکش حملہ اور اس کے نتيجے ميں 100 سے زائد بے گناہ افراد کی ہلاکت اور اس کے بعد طالبان کے ترجمان کا بيان جس ميں نہ صرف ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئ بلکہ مستقبل ميں بھی کراچی اور اسلام آباد ميں ايسے ہی حملوں کی دھمکی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان اور ان سے منسلک مختلف انتہاپسند گروپ نہ صرف يہ کہ پاکستان کے اندر پوری طرح سے فعال ہو چکے ہيں بلکہ وہ پاکستان کے اندر اپنی حکومت اور اپنے نظريات پر مبنی قوانين کے نفاذ کے ليے کسی بھی حد تک جا سکتے ہيں۔ گزشتہ چند ماہ ميں امن معاہدوں اور مفاہمت نما مصالحتی کوششوں کی جو بازگشت سنائ دے رہی تھی اس کے تناظر ميں کيا طالبان کے سياسی اثرو رسوخ ميں اضافہ پاکستان کے مسائل کے حل کا موجب بن سکتا ہے؟ ميرے نزديک يہ ايک انتہاہی سنگين صورت حال ہے اور اگر اس موقع پر پاکستانی قائدين نے درست سياسی فيصلے نہ کيے تو اس کے نتائج پاکستانی عوام کے مستقبل کے ليے انتہائ تباہ کن ہوں گے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ حاليہ حالات کے تناظر ميں امن کا قيام حکومت پاکستان کی اہم ترجيحات ميں شامل ہونا چاہيے ليکن سب سے اہم سوال يہ ہے کہ کيا مستقل امن قائم کرنے کا يہی موثر طريقہ ہے کہ جو گروہ انتہا پسندی اور دہشت گردی جيسے سنگين جرائم ميں ملوث ہيں، امن کی ضمانت کے عوض پاکستان کے کچھ علاقے ان کی تحويل ميں دے ديے جائيں تا کہ وہ وہاں پر اپنی مرضی کا نظام قائم کر سکيں اور اپنے سياسی اثر ورسوخ ميں اضافہ کريں؟
طالبان کے دور حکومت ميں افغانستان مسلسل خانہ جنگی کا شکار تھا اور اس وقت بھی افغانستان کو بحيثيت ايک ملک تباہی کے دہانے پر لانے ميں ان کا کردار کسی سے پوشيدہ نہيں ہے۔ اس ميں تو کسی کو شک نہيں کہ طالبان کس قسم کے نظام حکومت پر يقين رکھتے ہيں اور انسانی اور سماجی حقوق کے حوالے سے ان کی سوچ کيا ہے۔ گزشتہ ايک دہائ کے دوران انسانی حقوق کی درجنوں تنظيموں کی بے شمار دستاويزات طالبان کے مظالم کی داستانيں سناتی ہيں۔ گزشتہ چند دنوں ميں فاٹا ميں امن معاہدوں کے باوجود دہشت گردی کی بڑھتی ہوئ کاروائياں اس بات کا ثبوت ہيں کہ آپ سانپ کو ساری زندگی دودھ پلاتے رہيں ليکن اس کی فطرت ميں پھر بھی ڈسنا ہے۔ ياد رہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات ميں ہلاک ہونے والے سارے پاکستانی باشندے تھے۔ اس بات سے واضح ہے کہ طالبان سياسی اختلافات پيدا ہونے کی صورت ميں کس قسم کا طرز عمل اختيار کرنے کو ترجيح ديتے ہيں۔کيا پاکستان کی حدود کے اندر امن معاہدوں کے ذريعے طالبان کے سياسی اثرورسوخ ميں اضافے کی پاليسی پاکستان ميں جمہوريت کی مضبوطی کے ضمن ميں درست ہے؟ کيا ايسا کرنے سے امن وامان کی صورت حال خراب ہو گی يا اس ميں بہتری آۓ گی؟ فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ digitaloutreach@state.gov http://usinfo.state.gov |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| digital, email, fawad, کراچی, پاکستان, پاکستانی, واقعات, نیوز, موقع, منتقل, مسائل, مسجد, آج, اسلام, حل, حال, خون, خودکش, خودکش حملہ, خان, زندگی, طالبان, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|