واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


واہ کینٹ دھماکے،70سے زائدجاں بحق

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-08-08, 08:22 PM   #1
واہ کینٹ دھماکے،70سے زائدجاں بحق
تفسیر حیدر تفسیر حیدر آف لائن ہے 21-08-08, 08:22 PM

ٹیکسلاکے قریب واہ کینٹ میں پاکستان کی سب سے بڑی اسلحہ ساز فیکٹری کے دونوں دروازوں 2 دھماکے ہوئے ہیں ۔اسپتال ذرائع کے مطابق دونوں دھماکوں میں70زائد افراد جاں بحق اور 80کے قریب زخمی ہوگئے ۔جیو نیوز کے نمائندے کے مطابق پاکستان اسلحہ ساز فیکٹری کے مین گیٹ اور ویپن گیٹ کے قریب یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے ۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک گیٹ پر ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیااس کے فوراً بعد ہی دوسرے گیٹ پر دھماکا ہوا ۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے عین اس وقت ہوئے جب فیکٹری کے ملازمین چھٹی کرکے گھروں کو جارہے تھے۔ ایمبولینسیں اور دیگر امدادی ایجنسیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو مختلف اسپتالوں منتقل کردیا گیاہے۔دھماکے کے فوراً بعدپولیس اور سیکورٹی فورسز جائے وقوع پہنچ گئی اور علاقے کو سیل کردیا گیاہے۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دو مشتبہ لاشوں کو اپنے قبضے میں لے لیا جن پر خود کش حملہ آور ہونے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے،جبکہ قریب ہی واقع مسجد سے ایک خودکش حملے میں استعمال ہونے والی جیکٹ بھی ملی ہے جسے حکام نے ناکارہ بنادیا ہے۔اس کے علاوہ تین مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کئے جانے کی اطلاعات ہیں،ذرائع کے مطابق گرفتار شدگان کی تعداد تین سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔دھماکوں کے بعد اسلام آباد راولپنڈی سمیت پنجاب بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ آرڈیننس فیکٹری بہت بڑے رقبے پرواقع ہے اور اس کا ایک سراٹیکسلاجبکہ دوسرا حویلیاں ایبٹ آباد سے جاملتاہے ۔اور اس فیکٹری میں تیس سے چالیس ہزار ملازمین کام کرتے ہیںَ۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے دھماکے کی شدید مذمت کی ہے ۔دوسری جانب تحریک طالبان نے خودکش دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔دریں اثناء اسپتالوں کی جانب سے خون کے عطیات کی فراہمی کی اپیل کی جارہی ہے۔

بحوالہ : جنگ

 
تفسیر حیدر's Avatar
تفسیر حیدر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 273
Reply With Quote
پرانا 22-08-08, 01:03 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 682
کمائي: 12,905
شکریہ: 0
368 مراسلہ میں 710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Departmen

ڈيرہ اسماعيل خان ميں ايک ہسپتال پر خودکش حملے کے بعد واہ کينٹ ميں آج کا خودکش حملہ اور اس کے نتيجے ميں 100 سے زائد بے گناہ افراد کی ہلاکت اور اس کے بعد طالبان کے ترجمان کا بيان جس ميں نہ صرف ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئ بلکہ مستقبل ميں بھی کراچی اور اسلام آباد ميں ايسے ہی حملوں کی دھمکی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان اور ان سے منسلک مختلف انتہاپسند گروپ نہ صرف يہ کہ پاکستان کے اندر پوری طرح سے فعال ہو چکے ہيں بلکہ وہ پاکستان کے اندر اپنی حکومت اور اپنے نظريات پر مبنی قوانين کے نفاذ کے ليے کسی بھی حد تک جا سکتے ہيں۔ گزشتہ چند ماہ ميں امن معاہدوں اور مفاہمت نما مصالحتی کوششوں کی جو بازگشت سنائ دے رہی تھی اس کے تناظر ميں کيا طالبان کے سياسی اثرو رسوخ ميں اضافہ پاکستان کے مسائل کے حل کا موجب بن سکتا ہے؟ ميرے نزديک يہ ايک انتہاہی سنگين صورت حال ہے اور اگر اس موقع پر پاکستانی قائدين نے درست سياسی فيصلے نہ کيے تو اس کے نتائج پاکستانی عوام کے مستقبل کے ليے انتہائ تباہ کن ہوں گے۔ اس ميں کوئ شک نہيں کہ حاليہ حالات کے تناظر ميں امن کا قيام حکومت پاکستان کی اہم ترجيحات ميں شامل ہونا چاہيے ليکن سب سے اہم سوال يہ ہے کہ کيا مستقل امن قائم کرنے کا يہی موثر طريقہ ہے کہ جو گروہ انتہا پسندی اور دہشت گردی جيسے سنگين جرائم ميں ملوث ہيں، امن کی ضمانت کے عوض پاکستان کے کچھ علاقے ان کی تحويل ميں دے ديے جائيں تا کہ وہ وہاں پر اپنی مرضی کا نظام قائم کر سکيں اور اپنے سياسی اثر ورسوخ ميں اضافہ کريں؟

طالبان کے دور حکومت ميں افغانستان مسلسل خانہ جنگی کا شکار تھا اور اس وقت بھی افغانستان کو بحيثيت ايک ملک تباہی کے دہانے پر لانے ميں ان کا کردار کسی سے پوشيدہ نہيں ہے۔ اس ميں تو کسی کو شک نہيں کہ طالبان کس قسم کے نظام حکومت پر يقين رکھتے ہيں اور انسانی اور سماجی حقوق کے حوالے سے ان کی سوچ کيا ہے۔ گزشتہ ايک دہائ کے دوران انسانی حقوق کی درجنوں تنظيموں کی بے شمار دستاويزات طالبان کے مظالم کی داستانيں سناتی ہيں۔

گزشتہ چند دنوں ميں فاٹا ميں امن معاہدوں کے باوجود دہشت گردی کی بڑھتی ہوئ کاروائياں اس بات کا ثبوت ہيں کہ آپ سانپ کو ساری زندگی دودھ پلاتے رہيں ليکن اس کی فطرت ميں پھر بھی ڈسنا ہے۔

ياد رہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات ميں ہلاک ہونے والے سارے پاکستانی باشندے تھے۔ اس بات سے واضح ہے کہ طالبان سياسی اختلافات پيدا ہونے کی صورت ميں کس قسم کا طرز عمل اختيار کرنے کو ترجيح ديتے ہيں۔کيا پاکستان کی حدود کے اندر امن معاہدوں کے ذريعے طالبان کے سياسی اثرورسوخ ميں اضافے کی پاليسی پاکستان ميں جمہوريت کی مضبوطی کے ضمن ميں درست ہے؟ کيا ايسا کرنے سے امن وامان کی صورت حال خراب ہو گی يا اس ميں بہتری آۓ گی؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
digital, email, fawad, کراچی, پاکستان, پاکستانی, واقعات, نیوز, موقع, منتقل, مسائل, مسجد, آج, اسلام, حل, حال, خون, خودکش, خودکش حملہ, خان, زندگی, طالبان, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:31 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger