سیکریٹری خارجہ خود ڈیوس کیس سے نمٹ رہے ہیں، امریکی ڈرائیور کے فرار ہونےکی اطلاعات
اسلام آباد (ماریا نا بابر) امریکی حکومت ان خبروں کی تردید نہیں کررہی کہ لاہور قونصلیٹ کے جس امریکی ڈرائیور نے گزشتہ جمعرات کو ایک موٹر سائیکل سوار شخص کو کچل کر ہلاک کردیا تھا وہ پہلے ہی پاکستان سے فرار ہوکر جا چکا ہے۔ گزشتہ رات سے یہ اطلاعات گردش کررہی ہیں کہ یہ نامعلوم امریکی باشندہ، جس نے فون کال پر دو پاکستانیوں کو ہلاک کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کی مدد کےلئے پہنچنے کی کوشش کی تھی، پاکستان سے جاچکا ہے۔ ریمنڈ ڈیوس نے حکام کو بتایا ہے کہ مدد کےلئے آنے والی گاڑی میں چار امریکی سوار تھے۔ ٹیلی گراف میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا تھا کہ دوسری گاڑی میں آنے والا ڈرائیور پاکستان سے جاچکا ہے۔ امریکی ترجمان کورٹینی بیل سے اس سلسلے میں جب رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں میرے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں لہٰذا تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔ دفتر خارجہ واقعے کے دن سے ایسے ردعمل کا اظہار کررہا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ جبکہ امریکی ڈرائیور کے فرار ہونے کے حوالے سے جب پوچھا گیا تو وہاں سے بھی کوئی جواب نہ ملا۔ وزارت داخلہ کے امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے پاس ان کے کمپیوٹرز میں اس نوعیت کی معلومات موجود ہوتی ہیں تاہم متعلقہ حکام نے اس سلسلے میں دی نیوز سے بات چیت سے انکار کردیا۔ وزیر داخلہ رحمن ملک کے فون پر پیغام بھی بھیجا جاچکا ہے۔ اس ساری صورتحال کے باوجود وزیرداخلہ رحمن ملک نے کنفیوژن میں اس وقت مزید اضافہ کردیا جب انہوں نے اعلان کیا کہ ریمنڈ ڈیوس کے پاس سفارتی پاسپورٹ ہے۔ پہلے دن سے کسی نے بھی اس بات سے اختلاف نہیں کیا کہ ریمنڈ ڈیوس کے پاس سفارتی پاسپورٹ ہے۔ جو بات رحمن ملک نے نہیں بتائی وہ یہ ہے کہ انہوں نے دفترخارجہ کو بتایا تھا کہ ڈیوس کے پاس اب سفارتی پاسپورٹ پر ”سفارتی ویزا“ ہے۔ ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر مختلف اقسام کے ویزے لگ سکتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈیوس کے پاسپورٹ پر ”آفیشل ویزا“ لگا تھا لیکن وزارت داخلہ نے اسے معجزاتی طور پر تبدیل کرکے ”ڈپلومیٹک ویزا“ میں تبدیل کردیا ہے۔ مزید کارروائی سے پہلے دفتر خارجہ یہ ویزا دیکھنا چاہتا ہے۔ سیکریٹری دفتر خارجہ سلمان بشیر بذات خود ریمنڈ ڈیوس کیس سے نمٹ رہے ہیں۔ ایک عہدیدار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان اور امریکا دونوں کےلئے مشکل صورتحال ہے۔ رحمن ملک کی وجہ سے حکومت کو اس وقت بھی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر کوئی سفارت کار درخواست کرتا ہے تو اسے ویزا دینا ہی پڑتا ہے۔ ایک زیادہ تجربہ کار اور زیرک عہدیدار نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ ماضی میں پاکستان نے کئی امریکی سفارت کاروں بشمول امریکی شہریوں کی ویزا درخواستیں مسترد کرچکا ہے حتیٰ کہ سفیر کی سطح کے لوگوں کی درخواست بھی مسترد کی جاچکی ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب کے سفیر کی حیثیت سے جنرل (ر) اسد درانی کےلئے ریاض میں انکار کردیا گیا تھا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی