|
وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ اپنی پارٹیوں کے بھرپور مشوروں سے فیصلے کر رہے ہی

18-04-08, 07:49 AM
وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ اپنی پارٹیوں کے بھرپور مشوروں سے فیصلے کر رہے ہیں
اسلام آباد ( رپورٹ: … انصار عباسی) وفاقی اور صوبائی نظام میں پالیسیوں سے متعلق بڑے فیصلے اور اہم انتظامی تبدیلیاں وزیراعظم سمیت اور صوبائی چیف ایگزیکٹوز اپنی جماعتوں کے بھرپور مشوروں سے کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچستان میں حکمران جماعتوں کے سربراہان کی دلچسپی کم ہے لہٰذا وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی کو اس معاملے میں طاقتور سمجھا جا رہا ہے۔ اگر زرداری ہاؤس وزیراعظم سیکریٹریٹ اور سندھ میں چیف منسٹر آفس کو مشورے دے رہے ہیں تو یہ پورا نظام (شو) رائیونڈ اور ڈیفنس (شریف برادران کی رہائش گاہ) کے مشوروں سے چل رہا ہے۔ اس معاملے میں صوبہ سرحد کا ولی باغ بھی پیچھے نہیں۔ صوبہ سرحد کا وزیراعلیٰ ہاؤس بھی اپنے معاملات کیلئے ولی باغ سے بھرپور مشاورت کر رہا ہے۔ ماضی میں وزیراعظم شوکت عزیز فوجی حکمران کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی تھے، لیکن آج انتہائی معروف سیاسی رہنما اپنے نامزد کردہ عہدیداروں کو بھرپور (بہترین) مشورے دے کر نظام چلا رہے ہیں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ججوں کی بحالی جیسے بڑے معاملات پر سیاسی فیصلے اتحادی جماعتوں کے اعلیٰ سربراہان کی جانب سے کئے جا رہے ہیں اسکے باوجود وفاقی اور صوبائی چیف ایگزیکٹوز کے مابین موجودہ توازن ایک جانب ہے لیکن دوسری طرف یہ توازن سیاسی رہنماؤں کی حمایت میں ہے۔ ماضی میں خالص سیاسی حکومتوں کے دوران، چاہے وہ ذوالفقار بھٹو کی ہو یا پھر 1988ء سے 1999ء تک بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کی، خاص طور پر وزیراعظم اور عام طور پر وزرائے اعلیٰ طاقتور تسلیم کئے جاتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سیاسی جماعتوں کے اعلیٰ سربراہ (بینظیر بھٹو اور نواز شریف) وزیراعظم بن گئے۔ شہباز شریف، آفتاب خان شیرپاؤ، نواب اکبر بگٹی، منظور وٹو اور جام صادق وغیرہ جیسے وزرائے اعلیٰ طاقتور رہ چکے ہیں، جبکہ عارف نکئی، عبداللہ شاہ، غلام حیدر وائیں اور چند دیگر وزرائے اعلیٰ کمزور ترین تصور کئے جاتے ہیں۔ لیکن آج، یہ پہلی بار ہے کہ حقیقی جمہوری نظام میں، وفاقی اور صوبائی سطح پر، انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعتوں کی اعلیٰ ترین قیادت باہر بیٹھ کر اپنے نمائندوں کو مشورے دے کر نظام چلا رہی ہیں۔ داخلہ مشیر رحمن ملک، قومی سلامتی کے مشیر میجر جنرل (ر) محمود علی درانی، پرنسپل سیکریٹری سراج شمس الدین، دو عمومی سفیروں حسین حقانی اور سلمان فاروقی سمیت اب تک مقرر ہونے والے وزیراعظم کے تمام اعلیٰ مشیر پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے مشوروں سے ان عہدوں پر رکھے گئے ہیں۔ ضمنی انتخابات میں آصف زرداری کی جانب سے شرکت کرنے کے حوالے سے متضاد اطلاعات ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ ضمنی انتخابات میں حصہ لینگے لیکن زرداری کے قریبی ساتھی کہتے ہیں کہ وہ الیکشن نہیں لڑیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ گیلانی عبوری میعاد کیلئے وزیراعظم نہیں بنے۔ تاہم اگر زرداری حتمی طور پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کے وزیراعظم بننے کے امکانات بڑھ جائیں گے اور اس سے چیف ایگزیکٹو (وزیراعظم) کا آفس مزید طاقتور بن جائے گا۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ دوست محمد کھوسہ عبوری مدت کیلئے منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ ہیں۔ صوبائی اسمبلی تک پہنچنے کیلئے شہباز شریف ضمنی انتخابات میں حصہ لینگے اور وہ مستقبل میں پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوجائیں گے۔ اگرچہ دوست محمد کھوسہ فائلوں پر دستخط کرتے ہیں اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھتے ہیں، لیکن تمام فیصلے، چاہے وہ انتظامی ہوں یا سیاسی، شہباز شریف سے صلاح مشوروں کے بعد ہو رہے ہیں۔ سندھ کے معاملے میں اگرچہ سید قائم علی شاہ مستقل وزیراعلیٰ ہیں لیکن صورتحال پنجاب کے مقابلے میں کافی مختلف نہیں۔ سید قائم علی شاہ، جو پہلے بھی وزیراعلیٰ سندھ رہ چکے ہیں، کو کمزور حکمران سمجھا جاتا ہے تاہم وہ زرداری کے مشوروں پر عمل کر رہے ہیں۔ صوبہ سرحد کے وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی قومی سیاست میں ایک نیا اضافہ ہے لیکن انہیں وزیراعلیٰ بنائے جانے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی کے قریبی عزیز ہیں۔ صوبہ سرحد میں کبھی بھی اے این پی کا امیدوار وزیراعلیٰ نہیں بنا لیکن کہنہ مشق سیاست دان ہونے کے باوجود ولی خان والوں نے صوبے پر نوجوان امیدواروں کے ذریعے نظام چلانے کا فیصلہ کیا۔ جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پیر صابرشاہ وزیراعلیٰ ہوا کرتے تھے، اس وقت بیگم نسیم ولی حقیقی طور پر طاقتور خاتون ہوتی تھیں۔ قبائلی اثر رسوخ اور کم مفادات کے باعث سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت بلوچستان میں اعلیٰ انتظامی تبدیلیوں میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ اسلئے اسلم رئیسانی کو صوبہ چلانے کیلئے طاقتور وزیراعلیٰ تصور کیا جا رہا ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|