رقم چیریٹی فنڈزسے لی جاتی ہے، آڈٹ رپورٹ، آبزرویشنز میٹنگ میں طے ہوگئیں، ترجمان
اسلام آباد (عمر چیمہ) وزیر اعظم ہاؤس مشہور زمانہ محاورے ”اول خویش بعد درویش“ کا مظہر بنا ہوا ہے جہاں غریب اور ضرورت مند لوگوں کیلئے مختص لاکھوں روپے کے فنڈز پی ایم ہاؤس کے سینکڑوں ملازمین کو مفت کھانا فراہم کرنے پر خرچ کئے جا رہے ہیں وزیر اعظم گیلانی کے دور اقتدار کے پہلے سال کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس روزانہ تین وقت کا کھانا اور شام کی چائے تمام ملازمین اور رہائشیوں کو فراہم کرتا ہے اور اس ضمن میں ہونے والے اخراجات غریب اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرنے کیلئے مختص فنڈز سے پورے کئے جاتے ہیں ملازمین اور دیگر افراد کو مرغی، بیف، انڈے، دال، چائے، چینی، آٹا، گھی اور سبزیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ آڈٹ مشاہدے کے مطابق تقریباً 340افراد روزانہ پی ایم ہاؤس میں ناشتہ، 199 افراد دوپہر کا مفت کھانا، 310 افراد چائے اور 191 افراد رات کا مفت کھانا کھا کر ضرورت مند افراد کے فنڈز کو لوٹنے کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چیریٹی فنڈز کے علاوہ غریبوں کیلئے تحفے خریدنے کیلئے مختص فنڈز بھی اس لنگر پر خرچ ہوتے ہیں اور وزیراعظم ہاؤس جو ملازمین کو مفت کھانا فراہم کرنے کا پابند نہیں اس کے باوجود یہ عمل فیشن بن چکا ہے اس سلسلے میں انتظامیہ دو طرح سے مجرمانہ غفلت میں ملوث ہے ایک تو یہ کہ یہ کھانا چیریٹی کے پیسوں سے فراہم کیا جاتا اور دوسرا یہ کہ اس کام کیلئے کبھی اوپن ٹینڈر جاری نہ کرکے لوگوں کو فائدے سے محروم رکھا گیا ہے۔ چیک کے بجائے نقد ادائیگی سے انکم ٹیکس کی رقم کے 3لاکھ 66ہزار روپے سے زائد کی رقم ضائع کر دی گئی حیرت انگیز طور پر وزیر اعظم گیلانی نے ورثے میں ملنے والا پیشہ ورانہ اصولوں کے خلاف عمل نہ صرف جاری رکھا بلکہ سابقہ آمرانہ دور کے مقابلے میں اسے وسعت دی گئی۔ آڈیٹرز نے واضح کیا ہے کہ یہ عمل شوکت عزیز کے دور میں بھی جاری تھا تاہم شوکت عزیز کے دور میں اس مد میں سال 2007-08کے دوران 45لاکھ 31ہزار 342روپے خرچ ہوئے جبکہ وزیر اعظم گیلانی کے دور میں سال 2008-09کے دوران اس مد میں 59لاکھ 52ہزار 176روپے خرچ ہوئے۔ مزید یہ کہ جب انتظامیہ سے اس سلسلے میں وزیر اعظم کا اجازت نامہ پیش کرنے کا کہا گیا تو وہ اجازت نامہ پیش کرنے سے قاصر رہے اور اگر وزیر اعظم نے اس کی اجازت نہیں دی تو مفت کے کھانے ان کے علم میں لائے بغیر فراہم کئے جا رہے ہیں جس سے ان کی انتظامی صلاحیت ظاہر ہوتی ہے۔ آڈیٹرز نے آخر میں ہدایت دی ہے کہ انتظامیہ کو ایسے اخراجات کیلئے وزیراعظم کی اجازت درکار ہوگی اور اس کیلئے الگ مد تخلیق کی جائے اور پھر اس مقصد کیلئے مختص علیحدہ مد سے اخراجات کئے جائیں۔ جب دی نیوز نے وزیر اعظم ہاؤس سے رابطہ کیا تو وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان شبیر انور نے بتایا کہ یہ آڈٹ آبزرویشنز ڈیپارٹمنٹل آڈٹ کمیٹی کی میٹنگ میں طے ہوگئی ہیں اور اس کی آڈیٹر جنرل کے آفس سے تصدیق ہوسکتی ہے۔ تاہم دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایک آڈیٹر نے بتایا کہ معاملات طے ہو جانے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ بدعنوانی نہیں ہوئی انہوں نے کہا کہ معاملات طے ہونے کا مطلب ہے کہ رقم کا ضیاع مجوزہ اتھارٹی نے معاف کر دیا ہے لیکن غلطی تب تک ٹھیک نہیں ہوگی جب تک ضائع ہونے والی رقم متعلقہ ذمہ داران سے وصول نہ کی جائے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی