|
وزیر ستان میں دہشتگر دوں کی کمر ٹوٹ گئی ،جر گے کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جائیگا،وزیر داخلہ

07-02-08, 02:40 AM
وزیر ستان میں دہشتگر دوں کی کمر ٹوٹ گئی ،جر گے کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جائیگا،وزیر داخلہ
اسلام آباد(جنگ نیوز) نگراں وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز نے کہا ہے کہ عام انتخابات کی فضا خراب کرنے والے عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا،پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوات، فاٹا اور وزیرستان میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے اور اب وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں جس کیلئے نمائندہ جرگہ تشکیل دیا جائے گا اور اسی کے ذریعے پائیدار امن قائم کیا جائے گا،سیاسی رہنماؤں کی نظربندی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا تاہم اگر کسی کی سرگرمیاں امن عامہ کے لئے خطرہ بن گئیں تو اسے نظر بند کیا جاسکتا ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم آئندہ تین روز میں دوبارہ پاکستان آئے گی۔ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ملزموں کا سراغ لگا لیا ہے اور ان کے خلاف کیس تیار کئے جارہے ہیں جبکہ طالبان نے سوات وزیرستان تک فائربندی کا اعلان کر دیا،طالبان تحریک کے ترجمان نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی ہم سے لڑنا نہیں چاہتا تو ہم بھی نہیں لڑیں گے اور اگرجنگ مسلط کی گئی تو بھرپور مقابلہ ہو گا،تاہم انہوں نے حکومت سے خفیہ مذاکرات کی سختی سے تردید کر دی جبکہ فوجی ترجمان نے سیز فائر سے متعلق لا علمی کا اظہار کیا ہے،تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی کو عام انتخابات کا ماحول خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ جو عناصر الیکشن کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کریں گے ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کیلئے اب بھی خطرات ہیں اور الیکشن کے دوران بھی انہیں خطرات موجود ہوں گے لیکن حکومت نے جس طرح محرم کے دوران سخت سیکیورٹی اقدامات کئے اسی طرح کے اقدامات الیکشن میں بھی کئے جائیں گے۔ انہوں نے عوام سے اس سلسلہ میں تعاون کی اپیل کی اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ عوام کو آگاہ کرے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ کرنے والے پرامن احتجاج کر سکتے ہیں لیکن امن عامہ کے لئے خطرہ پیدا نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے دہشت گردی روکنے کے لئے اسکریننگ مشینیں اور آلات نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان میں روٹ کلیئرنس آلات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں فوجی آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے اور اب چھوٹی موٹی کارروائیاں ہوتی ہیں۔ فاٹا اور وزیرستان میں بھی دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے‘ اب وہ بات چیت کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے اہم اور بااثر عمائدین پر مشتمل نمائندہ جرگہ تشکیل دیا جائے گا تاکہ شدت پسند دوبارہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ کر سکیں۔دوسری جانب قبائلی علاقوں میں مقامی طالبان کی تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے وزیرستان سے لیکر سوات تک تمام علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے خلاف جاری کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔یہ اعلان تحریک طالبان پاکستان کے مطابق حکومت کی جانب سے وزیرستان اور سوات میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن میں نرمی کے بعد کیا جا رہا ہے۔ تحریک کے ترجمان مولوی عمر نے کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی سے ٹیلی فونک گفتگو کر تے وضاحت کی کہ ’ ہم پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی ہم سے لڑنا نہیں چاہتا تو ہم بھی ان سے نہیں لڑیں گے لیکن اگر کوئی ہم پر جنگ مسلط کرے گا تو بھرپور مقابلہ کریں گے۔ترجمان نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ حکومت اور مقامی طالبان کے مابین خفیہ مذاکرات کے بعد ایک دوسرے پر حملے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|