ن لیگ سے تمام امور پر بات چیت جاری ہے‘ عابدشیرعلی کوآج گیس کی عدم فراہمی پرتشویش ہوئی‘ ہم بہت پہلے سے پریشان ہیں‘ قومی اسمبلی میں خطاب
پولیس افسران کی سیاسی پشت پناہی کی جاتی رہی توکرپشن کابازارلگ جائے گا‘ امیرمقام‘ جمشید دستی کا اراکین اسمبلی سے افسروں کے توہین آمیزسلوک پراحتجاج
اسلام آباد (وقائع نگار، نیوز رپورٹر) وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پنجاب کو گیس کی فراہمی اور بجلی کے معاملات سمیت تمام امور پر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان بات چیت چل رہی ہے پنجاب صرف مسلم لیگ ن ہی نہیں ہمارا بھی مسئلہ ہے ہمیں بھی پنجاب کے عوام سے دلی ہمدردی ہے۔ عابد شیر علی کو آج پنجاب کی صنعتوں کو گیس کی عدم فراہمی پر تشویش ہوئی ہے۔ ہم بہت پہلے سے پریشان ہیں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی مسلم لیگ ن کے عابد شیر علی کے صنعتوں کو گیس کی عدم فراہمی سے ہونے والے نقصانات پر پوائنٹ آف آرڈر کا جواب دے رہے تھے وزیراعظم نے عابد شیر علی کو لاجواب کردیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پنجاب اور اس کی صنعتوں کی یاد آئی ہے ہماری وزیراعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف سے بہت پہلے بات ہوچکی ہے۔ ہم نے اس ایشو پر وزیر اعلٰی پنجاب کوپیشکش کی تھی کہ وہ مشترکہ مفادات کی کونسل میں بات کریں اور وہاں پر بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا ہم پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلاکر اس میں فیصلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ درحقیقت عابد شیر علی صاحب نے معاملہ تو اٹھا دیا مگر ان کو اصل حالات کا علم نہیں یہ گیس جس صوبے سے نکلتی ہے پہلے اس علاقے کے عوام کا حق ہے اور بلوچستان کی ہائی کورٹ نے حکم امتناعی جاری کیا ہوا ہے کہ آپ اس علاقے سے گیس دوسرے علاقے میں نہیں لے جاسکتے۔ جب ہم نے وزیراعلٰی پنجاب کو دو آپشن دئے کہ مشترکہ مفادات کی کونسل یا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں معاملہ لے جاتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہئے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عدالتوں کے حکم امتناعی اور آئینی شقوں کے باعث پنجاب کی صنعتوں کو گیس بند کرنا پڑی۔ تاہم اب سردی کی شدت ختم ہونے کے باعث یہ مسئلہ خودبخود حل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں عدالتوں نے بھی حکم امتناعی جا ری کیا ہے۔ پنجاب کے سوا دوسرے تین صوبوں سے گیس نکل رہی ہے اس لئے ان صوبوں میں گیس بند نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ق) کے رہنما امیرمقام نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوامیں پولیس کی زیادتیوں کے بارے میں صورتحال سے آگاہ کیااورکہاکہ اگرایسے ہی کرپٹ پولیس افسروں کی سیاسی بنیادوں پرپشت پناہی کی جاتی رہی توفوج کے جانے کے بعدکرپشن کابازار لگ جائے گا۔ قبل ازیں ملک عظمت نے کہاکہ مالاکنڈکے علاقے میں تمام متاثرین کومعاوضے دئےے جارہے ہیںمگر بونیر کویکسرنظراندازکردیاگیا۔ پےپلزپارٹی کے رُکن اسمبلی جمشید دستی نے وفاقی حکومت کے اداروں کے افسران کی غفلت اوراراکین اسمبلی سے توہین آمیزسلوک پرشدید احتجاج کیااور کہاکہ جب منتخب نمائندے جاتے ہیں توافسران موجودہی نہیں ہوتے اور بات کرتے ہیں توانکا بلڈپریشرہائی ہوجاتاہے۔ انہوںنے کہا کہ میرے حلقے میں اےک کچی آبادی ہے اور اس میں طویل عرصے سے غریب لوگ آبادہیں۔ گزشتہ روزپولیس نے ان پرتشدد کیااور خواتین کی بے حرمتی کی۔ اسکافوری نوٹس لیاجائے۔ ماروی میمن نے مختلف علاقوںکے عوامی مسائل سے آگاہ کیا۔ شہنازشےخ نے پولیس فاﺅنڈیشن کے ایشوپربات کی اور ایف آئی اے کے اےک افسرظفرقریشی کے روےے کی شکایت کی اورکہاکہ پولیس فاﺅنڈیشن میں مجھ سمیت دیگرلوگوں سے زیادتیاں ہوئی ہیں۔ ایم کیوایم کے منورلال نے اقلیتوں کے مسائل پیش کئے اور وزیراعظم سے مطالبہ کیاکہ اقلیتوں کے مسائل ترجےحی بنیادوں پرحل کرائیں جبکہ پارلیمانی سےکرٹری گل جھاکرانی نے توجہ دلاﺅنوٹس کاجواب دےتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس بھی ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ ایوان میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب ایم کیو ایم کے رُکن اسمبلی اقبال محمد علی خان کا نام ضمنی سوال کی اجازت کےلئے پکارا گیا تو سپیکر غلطی سے انہیں چوہدری اقبال محمد کہہ گئیں۔ اس پر ایوان میں قہقہہ لگا۔ اقبال محمد علی خان نے کہا کہ آپ نے مجھے چوہدری بنا دیا اب ہمیں پنجاب میں کام کرنے میں آسانی ہو جائے گی اس پر اے این پی کی رکن بشریٰ گوہر نے کہا کہ یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ پنجاب میں سیاست کے لئے ایم کیو ایم چوہدری ازم کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی