واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


وفاقی بجٹ برائے 09-2008۔ بجٹ تقریر کا مکمل متن پارٹ تھری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-06-08, 08:56 PM   #1
وفاقی بجٹ برائے 09-2008۔ بجٹ تقریر کا مکمل متن پارٹ تھری
شیخ ہمدان شیخ ہمدان آف لائن ہے 11-06-08, 08:56 PM

42۔ مائیکرو فنانس: چھوٹے قرضے غریب لوگوں کی زندگی میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ چھوٹے قرضے لینے والے شہریوں کی تعداد اڑھائی سے تین کروڑ کے درمیان ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ خواتین چھوٹے قرضے حاصل کرنے والوں کا 45 فیصد ہیں۔ حکومت 2010ءتک مزید 30 لاکھ افراد کو چھوٹے قرضوں تک رسائی فراہم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اور چھوٹے قرضوں کا دائرہ کار دیہی علاقوں تک بڑھایا جائے گا۔
43۔ کم لاگت کے گھروں کی فراہمی: شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے عوام کو روٹی کپڑا اورمکان کا نعرہ دیا۔ اُن کے اسی عرم کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے اپنے 100 روزہ پروگرام میں سرکاری ملازمین اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے فراہم کیے جانے والے سرکاری گھروں کی تعداد میں 10 لاکھ کا اضافہ کرنے کا اعلا ن کیا۔ اِن منصوبوں کو رواں سال کے دوران شروع کرنے کے لیے 2 ارب روپےRevolving Fund کے طور پر مختص کرنے کی تجویز ہے۔ مزید رقوم کا انتظام نئے وسائل (Innovative Financing)سے کیا جائے گا۔ تاکہ ان منصوبوں کی تکمیل کا انحصار محض بجٹ وسائل کی دستیابی پر نہ رہے۔
مالیاتی نظم و ضبط کی بحالی
میڈم سپیکر!
44۔ معیشت کے استحکام کے لیے مالیاتی خسارے کو کنٹرول کرنا اولین ضرورت ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ہم کئی سمتوں میں پیش رفت کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کئی مجوزہ اقدامات اس مالیاتی بل (Finance Bill) میں شامل کیے گئے ہیں۔ جو منظوری کے لیے اس ایوان کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔
(1) غیر ترقیاتی اور تنخواہوں کے علاوہ (Non Salary) اخراجات کو منجمد کرنا: پہلے اہم اقتصادی اقدام کے طور پر حکومت کے غیر ترقیاتی اور تنخواہوں کے علاوہ (Non Salary) اخراجات کو گذشتہ سال کی نظر ثانی شدہ سطح پر منجمد کرنے کی تجویز ہے۔ یہ اقدام بجٹ کی صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کرنے اور اہم اداروں کی رضا مندی حاصل کرنے کے بعد کیا گیا۔ لیکن بجٹ بہت پہلے سے شائع کرنا پڑا اور یہاں اُس کی عکاسی نہیں ہے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ اس اصول پر کاربند رہتے ہوئے اس بجٹ میں اضافی رقم کی کٹوتی کر دی جائے گی۔
(2) دفاتر کے لیے اثاثہ جات کی خریداری پر پابندی: عوامی وسائل کی مزید بچت کرنے کے لیے کاروں، ائرکنڈیشنرز اور دیگر دفتری سامان کی خریداری پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
(3) وزیراعظم سیکرٹریٹ، قومی اسمبلی اور سینٹ کے بجٹ میں کٹوتی: اس سلسلے میں سب سے پہلے وزیراعظم نے اپنے دفتر کا بجٹ کم کرنے کی قربانی دی۔ اُن کے آفس کا بجٹ 329.8 ملین روپے سے کم کر کے 230.9 ملین روپے کر دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی اورسینٹ نے بھی اپنے غیر ترقیاتی اور تنخواہوں کے علاوہ اخراجات گذشتہ سال کی سطح پر رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔ میڈم سپیکر! ہم آپ کے بھی شکر گذار ہیں کہ آپ نے قومی اسمبلی کا بجٹ رضاکارانہ طور پر کم کیا ہے اور سینٹ میں یہی قدم رضاکارانہ طور پر اٹھایا گیا ہے۔
(4) قومی احتساب بیورو(NAB) کے بجٹ میں کٹوتی: وزیرِ اعظم نے قومی اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں قومی احتساب بیورو کے کردار کو محدود کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ اس فیصلہ کے مطابق اس ادارہ کے لیے مستقبل میں اُس کے کردار سے عدم مطابقت رکھنے والے بجٹ کا کوئی جواز نہیں۔ چونکہ اس ادارہ کو ختم کرنے کے لیے قانونی اور ضابطے کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے، اِس لیے اس کے اختیارات میں کمی کی جائے گی۔ چنانچہ قومی احتساب بیورو کے بجٹ میں 30 فیصد کٹوتی کی تجویز ہے۔
(5) دفاعی بجٹ کی تفصیل پارلیمنٹ میں پیش ہوگی: پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر حکومت نے یک سطری دفاعی بجٹ پیش کرنے کا ماضی کا طریقہ کار ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دفاعی اخراجات کی تمام متعلقہ تفصیلات پارلیمنٹ میں بحث اور نظرثانی کے لیے دستیاب ہوں گی۔ ایوان میں پیش کردہ بجٹ دستاویزات میں غالباً یہ تمام تفصیلات موجود نہیں ہیں تاہم بجٹ پر بحث کے اختتام سے قبل ہم یہ تمام تفصیلات ایوان میں پیش کر دیں گے اور تمام سروسز کے لحاظ سے تفصیلات ایوان میں مہیا کی جائیں گی۔ دستیاب وسائل کے باکفایت استعمال کے ذریعہ زیادہ مالیاتی نظم و ضبط کے حوالہ سے اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
(6) Subsidiesکا بتدریج خاتمہ: اس وقت بجٹ پر سبسڈیز کا ناقابل برداشت بوجھ ہے۔ اکثر سبسڈیز غیر ضروری ہیں اور ان سے وہ طبقے مستفید ہو رہے ہیں جو نہ تو ضرورت مند ہیں اور نہ اُنہیں سبسڈی دی جانی چاہیے۔ ایک اندازے کے مطابق اسوقت بجٹ سے مجموعی طور پر 400 ارب روپے کی سبسڈیز دی جا رہی ہیں۔ ملکی مالیات کو تحفظ دینے کے لیے سبسڈیز میں تفصیلی کٹوتی ضروری اور ناگزیر ہے۔
(7) مرکزی بنک سے قرضہ کے حصول کو محدود کرنا: مرکزی بنک سے قرضوں کا حصول ناقابلِ قبول سطح پر پہنچ چکا ہے۔ یہ افراطِ زر کے دبا¶ کی بڑی وجہ ہے اور اسے روکا جانا چاہیے۔ جزوی طور پر یہ بنکوں کے علاوہ مالیاتی وسائل کے حصول کے حوالہ سے متبادل ذرائع نہ ہونے اور سرمائے کی مارکیٹ(Capital Market) کے نسبتاً کم ترقی یافتہ ہونے کا نتیجہ ہے۔ اِس مسئلہ کے حل کے لیے ہم متعدد اقدامات کر رہے ہیں۔ ”گورنمنٹ کمرشل پیپر“ (Government Commercial Paper) کے نام سے ایک نیا طریقہ تشکیل دیا جا رہا ہے جس کا اجراءجلد کر دیا جائے گا۔ یہ قرضے تین ماہ، چھ ماہ اور ایک سال کے لیے بااختیار تجارتی بنکوں سے فوری دستیاب ہوں گے۔ قومی بچت کی سکیموں میں مختصر عرصے کے لیے قرضوںکی فراہمی اور دیگر پراڈکٹس (Products) متعارف کروائی جائیں گی۔ اور سب سے اہم یہ کہ قرضوں کی پرائسنگ (Pricing) زیادہ پرکشش بنائی جائے گی اور اس کی مارکیٹ نرخوں سے مطابقت پیدا کی جائے گی۔ ان تبدیلیوں کے نتیجہ میں قرضوں کے حصول کے لیے مرکزی بنک پر انحصار میں خاطرخواہ کمی ہو گی۔
Foreign Exchange Regulation Act میں ترمیم کی جا رہی ہے تاکہ سٹیٹ بنک زرِ مبادلہ کی غیر قانونی سرگرمیوں(Operations) کو موثر طور پر کنٹرول کر سکے۔ اِسی طرح Security Exchange Commission of Pakistan (SECP) کو بھی قانون سازی کے ذریعے موثر بنایا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو Insider Tradingاور غلط طریقوں سے بچایا جا سکے۔
ریلیف کے اقدامات
میڈم سپیکر!
45۔ جیسا کہ میں پہلے واضح کر چکا ہوں کہ قیمتوں میں اضافہ سے تنخواہ دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس طبقہ کا بڑا حصہ سرکاری ملازمین پرمشتمل ہے۔ چنانچہ یہ ضروری ہے کہ اس طبقہ کو فوری ریلیف (Relief) فراہم کیا جائے۔ اس طرح پنشنرز کا تعلق بھی اسی طبقہ سے ہے۔ اور انہیں بھی کچھ ریلیف (Relief) ملنا چاہیے۔اِس کے علاوہ سرکاری بچت سکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو بھی ریلیف ملنا چاہیے۔ کیونکہ ان کے منافع میں قیمتوں میں اضافہ کے مقابلہ میں خاطر خواہ کمی ہوئی۔
46۔ اِن ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے مذکورہ بالا طبقات(Groups) کو مندرجہ ذیل ریلیف (Relief) فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
(i) وفاقی حکومت کے تمام ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 20 فیصد اضافہ کی تجویز ہے۔ یہی اضافہ مسلح افواج کے لیے بھی ہو گا۔
(ii) تمام سویلین اور فوجی پنشنرر کی پنشن میں 20 فیصد اضافہ کی تجویز ہے۔
(iii) کم سے کم پنشن 300 روپے سے بڑھا کر 2000 روپے کر دی گئی ہے۔
(iv) گریڈ ایک تا 19 کے سرکاری ملازمین کے کنوئنس الا¶نس میں 100 فیصد اضافہ کی تجویز ہے۔
(v) گریڈ ایک تا 16 کے سرکاری ملازمین کے لیے میڈیکل الا¶نس 425 روپے سے بڑھا کر 500 روپے ماہوار کر دیا گیا ہے۔
(vi) کم سے کم اجرت 4600 سے بڑھا کر 6000 روپے ماہانہ کر دی گئی ہے۔
(vii) قومی بچت سکیموں کے منافع کی شرح میں 2 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس شرح پر اب سال میں دو بار کی بجائے ہر تین ماہ بعد نظرثانی کی جائے گی تاکہ بچت سکیموں کے منافع کی شرح اور مارکیٹ شرح میں فرق کو کم سے کم کیا جا سکے۔
(viii) بیماری، حادثہ، زلزلہ یا دہشت گردی کے نتیجہ میں معذور ہونےوالے سرکاری ملازمین کو پنشن کی پوری مراعات ملیں گی۔ اس سلسلہ میں 10 سال سروس کی شرط ختم کی جاتی ہے۔
(ix) گریڈ ایک تا 15 کے کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کیا جا رہا ہے۔
(x) سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن پر نظرثانی کے لیے (Pay and Pension Commission) قائم کیا جائے گا۔
( xi) اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے ججوں کی اسامیاں 16سے بڑھا کر 29 کی جا رہی ہیں۔
میڈم سپیکر!
47۔ اب میں مالی سال 2008-09ءکے لیے محصولات کی تجاویز کی طرف آتا ہوں۔ زرعی نمو، صنعتی اور توانائی کے شعبوں کے لیے اکثر مالی مراعات پہلے ہی پیش کی جا چکی ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ہمارا سامنا ایک Challenging معیشت سے ہے۔ تیزی سے دگرگوں ہوتی ہوئی صورتحال کو مستحکم کرنا ہماری اولین ضرورت ہے۔ اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لیے متعدد دور رس اقدامات کئے گئے ہیں تاکہ بجٹ پر بوجھ کم کیا جا سکے۔ تاہم یہ اقدامات مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لیے بجٹ میں متعین اہداف کے حصول کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ چنانچہ باقی کا بوجھ تقسیم کرنے کے لیے محصولات میں اضافہ کرنا ہو گا۔
میڈم سپیکر!
48۔ یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ٹیکس ایڈمنسٹریشن (Tax Administration) کی محصولات جمع کرنے کی کوششوں اور خدمات کے معیار کے حوالہ سے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ٹیکس ایڈمنسٹریشن (Tax Administration) میں اصلاحات سیاسی حکومت کا عزمِ مسلسل ہو گا جس کا مقصد Tax Administration کو ایک جدید، ترقی پسند، موثراور قابل اعتماد ادارہ بنانا ہے۔ اس کے نتیجہ میں محصولات میں زیادہ سے زیادہ اضافے، ٹیکس/جی ڈی پی کے تناسب میں بہتری لانی ہو گی۔ ٹیکسوں کی بنیاد کو وسعت دینے، آڈٹ کے نظام کو مضبوط بنانے، قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل، ٹیکس قوانین کے اطلاق کے لیے جدید Techniques کا استعمال، معیاری خدمات اور ٹیکس قوانین سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو گا۔
49۔ ٹیکس سے متعلقہ تجاویز اس ایوان کے سامنے پیش کرنے سے پہلے میں یہ بتاناچاہتا ہوں کہ تمام تر مشکلات کے باوجود اِس سال کے دوران محصولات کی سطح ایک Trillion روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ بالواسطہ ٹیکسوں کا بھاری بوجھ براہ راست ٹیکسوں کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ جو 39 فیصدتک پہنچ چکے ہیں۔ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکس / جی ڈی پی کے کم تناسب کے باعث FBR کے محصولات میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
کسٹمز
50۔ درآمدی اخراجات بڑھنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے درآمدکنندگان نے سامان تعیشّ اور غیرضروری سامان کی درآمدات جاری رکھیں۔اس امر کی بے حدضرورت ہے کہ سامان تعیشّ اور غیرضروری اشیا کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے تاکہ درآمدات اور برآمدات کے درمیان تجارتی خسارے کو ممکنہ حدتک کم کیا جاسکے۔چنانچہ یہ تجویز ہے کہ تقریباً 300غیرضروری اشیا جو سامان تعیشّ اور سامانِ آرائش کے زمرے میں آتی ہیں ان پر ڈیوٹی 15%، 20%اور 25%سے بڑھاکر علی الترتیب 30% اور 35% کردی جائے۔ ان اشیا ءمیں خوشبویات، سامان آرائش و زیبائش، کراکری، ٹائلز، فرنیچر، شکار کا اسلحہ اور گھریلو سامان از قسم ائیرکنڈیشنر، ریفریجریٹر، ڈیپ فریزر، کوکنگ رینج، وغیرہ شامل ہیں۔ جن دیگر اشیاءپر ڈیوٹی بڑھانے کی تجویز ہے ان میں بسکٹ، چاکلیٹ، Cookies، سگریٹ، سگار اور بنی بنائی غذائی اشیاءبھی شامل ہیں۔
51۔ اسی طرح وہ عمدہ شاندار اور موٹرکاریں اور جیپیں یعنی (Luxury Vehicles)جو 1800cc انجن یا اس سے زیادہ بڑے انجن والی ہوں ، ان پر ڈیوٹی کی شرح 90% سے بڑھاکر 100%کرنے کی تجویز ہے۔ ایسی پرُانی موٹر کاریں اور Jeepsجو 1800ccسے کم انجن پر مشتمل ہوں ، ان پر مروّجہ سکیم کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی اور دوسرے ٹیکسز پر مشتمل ایک مقررہ (Fixed)رقم ادا کرنی ہوتی ہے۔ یہ مقررہ رقم یعنی (Fixed duty & Taxes) کو 10%تک بڑھانے کی تجویز ہے۔ موبائل فون کی درآمد پر 500روپے فی سیٹ کی (Specific duty)لگانے کی تجویز ہے۔ پان پر امپورٹ ڈیوٹی کی موجودہ شرح 150روپے فی کلوگرام ہے، اسکو 200روپے فی کلوگرام کرنے کی تجویز ہے۔
سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی)
میڈم سپیکر!
52۔ صنعتی ترقی کے لیے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز کے بعض اقدامات درج ذیل ہیں۔
53۔ اقتصادی ترقی کی شرح برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ مناسب محاصل اکھٹے کئے جائیں جو کہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے جا سکیں۔ سیلز ٹیکس کی موجودہ شرح 15%ہے جو کہ اس خطے میں نسبتاً کم ہے جبکہ بعض ملکوں میں اس کی شرح 20% تک ہے۔ چنانچہ زیادہ محاصل کے حصول کے لئے یہ تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس کی شرح کو 15% سے 16% کر دیا جائے۔ PDC کی Cross-Subsidization کے لیے متعلقہ قانون میں ترمیم کی جا رہی ہے تاکہ حکومت جب ضروری سمجھے CNG اور LPG جیسے ضروری ایندھن پر Petrolium Development Levyعائد کر سکے۔
54۔ مزید یہ تجویز ہے کہ Telecom کے شعبے کے لئے سیلز ٹیکس کی شرح 15% سے بڑھا کر 21% کی جا رہی ہے۔
55۔ یہ تجویز ہے کہ 850CC سے زیادہ کی گاڑیوں کی درآمد اور اندرون ملک فروخت پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 5% عائد کی جائے۔
56۔ ہمارے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح کو قریبی ہمسایہ ممالک کی شرح کے برابر لانے کے لئے اور Tax to GDP Ratio کو بڑھانے کے لئے یہ تجویز ہے کہ بینکنگ، انشورنس اور فرنچائز سروسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 5% سے بڑھا کر 10% کر دی جائے۔
57۔ افراط زر کی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تجویز ہے کہ سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی فکسڈ شرح 750 روپے فی میٹرک ٹن سے بڑھا کر 900 روپے فی میٹرک ٹن کر دی جائے۔
انکم ٹیکس
میڈم سپیکر!
58۔ اب میں براہ راست ٹیکسوں کے لیے تجویز کردہ بعض اہم اقدامات پر روشنی ڈالوں گا۔
59۔ اگرچہ پچھلے تین برس میں ٹیکس گزاروں کی تعداد میں 20% سالانہ کی شرح سے اضافہ ہوا ہے تاہم 16 کروڑ کی آبادی میں ٹیکس گزاروں کی تعداد کا صرف 22 لاکھ ہونا اس خطے کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اسی طرح ٹیکس، جی ڈی پی کی شرح جو پچھلے کافی برسوں سے 11 فیصد پر رکی رہی ہے کسی بہتر کارکردگی کی آئینہ دار نہیں ہے۔ آپ کی حکومت ٹیکس بیس کو وسعت دینے کے لئے دو اقدامات تجویز کرتی ہے:۔
(i) ان میں ایک تو انکم ٹیکس کی 35 exemptions کو واپس لینے کی تجویز ہے جو نہ صرف یہ کہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے بلکہ گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں ایک نہایت جرات مندانہ اقدام ہے۔
(ii) دوسری تجویز ”لبرل انویسٹمنٹ ٹیکس سکیم“ کی ہے جس کے ذریعے کوئی بھی ٹیکس گزار اپنے گزشتہ کاروبار اور اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو پر صرف 2% کی شرح سے ٹیکس ادا کر کے Documented economyکے فروغ میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکے۔ یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ ایسے ٹیکس گزاروں کے ماضی کے حسابات کی چھان بین نہ کی جائے۔ اس سلسلے میں حکومت بڑے وسیع پیمانے پر ایک پروگرام چلانا چاہتی ہے تاکہ ٹیکس، جی ڈی پی کی شرح اور ٹیکس گزاروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔
میڈم سپیکر!
60۔ براہ راست ٹیکسوں کے ذریعے Tax Reliefs درج ذیل ہیں:۔
(i) 0.5 فیصد کی شرح سے کم سے کم ٹیکس ان کمپنیوں پر عائد کیا جاتا ہے جو یا تو خسارہ دکھاتی ہیں یا کسی چھوٹ کی وجہ سے ٹیکس ادا نہیں کرتیں۔ ظاہر ہے کہ کمپنیاں یہ ٹیکس اپنی equity میں سے ادا کرتی ہیں جو کہ ایک منفی عمل ہے۔ لہذا تجویز ہے کہ اس ٹیکس کو ختم کیا جائے تاکہ معاشی ترقی کا راستہ کھل سکے اور ٹیکس گزار اپنے کاروبار کو مزید فروغ دے سکیں۔
(ii) تنخواہ دار طبقے کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بھی تجویز کیاجاتاہے کہ تنخواہ سے آمدنی رکھنے والے ٹیکس گزاروں کے لئے قابل ٹیکس آمدنی کی بنیادی حد 1,50,000 سے بڑھاکر 1,80,000جبکہ خواتین ٹیکس گزاروں کیلئے بنیادی حد 2 لاکھ سے 2 لاکھ چالیس ہزارکردی جائے ۔ اِس اقدام سے تنخواہ دار طبقہ مستفید ہوگا۔
(iii) تنخواہ دار ٹیکس گزاروں کی آسانی کے لئے 0.25 فیصد سے 20 فیصد تک کے 21 درجے رکھے گئے تھے، تاہم ایسی صورتیں سامنے آئی ہیں جن سے ایک درجے سے دوسرے درجے تک آمدنی بڑھنے سے ٹیکس کی شرح مزید اونچی ہو گئی ہے۔ تنخواہ میں سالانہ اضافے سے اس قسم کی صورتحال پیش آ سکتی ہے لہذا تجویز ہے کہ آمدنی کے ہر درجے پر ٹیکس میں "مارجینل ریلیف" دیا جائے۔
میڈم سپیکر!
61۔ براہ راست ٹیکس ریونیو کے اقدامات درج ذیل ہیں:۔
62۔ ایڈوانس انکم ٹیکس: یہ انفرادی اور تجارتی درآمد پر، 0 سے 5 فیصد تک پیشگی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ اس سہولت سے صنعتکاروں اور تاجروں میں نہ صرف یہ کہ تفریق پیدا ہوتی ہے بلکہ اس کو حکومتی کارندوں کے میل ملاپ سے غلط استعمال کئے جانے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس عمل کو شفاف بنانے کے لئے تجویز ہے کہ صنعتی اور تجارتی دونوں درآمدات پر دو (2)فیصد کی یکساں شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔ اس ٹیکس کو صنعتی کمپنیوں کے لئے adjustable بنایا گیا ہے۔
63۔ صنعتی اور تجارتی صارفین جن کا بجلی کا بل 20,000 روپے ماہانہ سے زائد ہو ان پر 10 فیصد کی شرح سے پیشگی ٹیکس عائد کیا جائے جو ان کے حتمی ٹیکس سے منہا کیا جا سکے گا۔ اس اقدام سے ان ٹیکس گزاروں کو اپنا سالانہ جملہ ٹیکس بارہ اقساط میں ادا کرنے کی سہولت مل جائے گی۔
میڈم سپیکر!
64۔ کچھ عرصہ پہلے تک صرف جائیداد سے آمدنی پر ایک فرد یا جماعتِ اشخاص کی آمدنی ڈیڑھ لاکھ سے زائد ہونے کی شکل میں 5 فیصد کی شرح سے ٹیکس واجب الادا تھا۔ یہ اقدام نہایت واضح طور پر زیادہ آمدنی والوں کے حق میں تھا۔ اس تفریق کو ختم کرتے ہوئے "زیادہ کماﺅ تو زیادہ ٹیکس دو" کے اصول پر تجویز کیا جاتا ہے کہ اس مد میں زیادہ آمدنی والوں پر بتدریج 5 فیصد سے 15 فیصد تک ٹیکس عائد کیا جائے۔
65۔ پچھلے عرصے میں سب سے زیادہ منافع بخش سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ میں دیکھی گئی ہے جس سے صنعتی ترقی بھی متاثر ہوئی ہے۔ سرمایہ کاری کا رخ صنعتوں کی طرف موڑنے اور پلاٹوں کی بے اندازہ قیمتوں کو اعتدال پر لانے کے لئے تجویز کیا جاتا ہے کہ آباد کاروں اور بلڈرز کے لیے بالترتیب، پلاٹوں پر 100 روپے فی مربع گز اور تعمیر شدہ جائیداد پر 50روپے فی مربع گز کی شرح سے ٹیکس عائد کیا جائے۔
میڈم سپیکر!
66۔ یہ بجٹ اقتصادی استحکام، سماجی انصاف اورمعاشرے کے تمام طبقوں کی خوشحالی کے ایک نئے دور کا نقیب ہو گا۔ یہ پاکستان کا وہ تصور ہے جو شہیدذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے صدر کے طور پر 14 اپریل 1972ءکے تاریخ ساز دن اس وقت دیا جب ملکی آئین کی تشکیل کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ انہوں نے کہا تھا کہ:
”انسان اور خطوں کے درمیان انصاف اور برابری کی ضرورت کے علاوہ ہماری حکمت عملی میں ایک بنیادی نظریہ کارفرما ہے۔ صرف منصفانہ معاشی اور سماجی نظام کی بدولت ہی ہماری قومی یکجہتی اور اقتصادی طاقت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ صرف اُسی صورت ہو سکتا ہے جب ملک کے تمام حصوں میں رہنے والے ہر ایک کسان،ہر ایک مزدور اور تمام لوگوں کو اس بات کا یقین ہو جائے کہ ان میں سے ہر ایک سب کی بھلائی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ا ور قوم کی تخلیقی صلاحیتوں کو پوری طرح استعمال میںلایا جائے۔ بصورتِ دیگر ہم قومی بحران پر قابو نہیں پا سکیں گے۔“
67۔ یہ بجٹ پاکستان کے تمام لوگوں کے لیے ہے۔ یہ ان تمام طبقات سے قربانیاں چاہتا ہے جو قربانیاں دے سکتے ہیں۔ یہ غریبوں اور کمزوروں کو تحفظ دے گا۔ یہ ایک جامع پیغام اور شراکت کا احساس دیتا ہے۔جن بحرانوں کا ہمیں سامنا ہے وہ کٹھن ضرور ہیں لیکن یہ قوم ماضی میں بھی ایسی آزمائشوں سے گذر چکی ہے اور ہم اب بھی یہ ثابت کر دیں گے کہ ہم ان چیلنجوں کا کامیابی سے سامنا کرنے اور ان پر غالب آنے کے اہل ہیں۔ پاکستان پائندہ باد“

 
شیخ ہمدان's Avatar
شیخ ہمدان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 50
مراسلات: 280
شکریہ: 12
163 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 177
Reply With Quote
شیخ ہمدان کا شکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان (11-06-08)
پرانا 11-06-08, 10:40 PM   #2
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,788
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: وفاقی بجٹ برائے 09-2008۔ بجٹ تقریر کا مکمل متن پارٹ تھری

اچھی معلومات دی ھے اپ نے جناب۔
The Great آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
finance, pakistan, فروخت, کورٹ, پاکستان, وزیراعظم, قواعد, قدم, نیا طریقہ, نظر, مکمل, موبائل, موجودہ, مقابلہ, منتقل, متعارف, آئینہ, آبادی, بجٹ پر بحث, خواتین, ذوالفقار علی بھٹو, روزہ, راستہ, زلزلہ, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہنساتا تھا مجھ کو، تو پھر رُلا بھی دیتا تھا محمدعمر شعر و شاعری 2 14-11-09 09:35 AM
ترے جیسا میرا بھی حال تھ ،ا نہ سکون تھا نہ قرار تھا The Great شعر و شاعری 0 27-08-09 11:25 AM
وفاقی بجٹ برائے 09-2008۔ بجٹ تقریر کا مکمل متن پارٹ ون شیخ ہمدان خبریں 2 11-06-08 11:44 PM
وفاقی بجٹ برائے 09-2008۔ بجٹ تقریر کا مکمل متن پارٹ ٹو شیخ ہمدان خبریں 2 11-06-08 10:38 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:41 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger