”میڈم سپیکر!
1۔ ہم ایک مدت بعد پھر اس ایوان میں بجٹ پیش کرنے کے لیے آئے ہیں۔ 12سال قبل جب ہم نے بجٹ پیش کیا تھا یقینی طور پر وہ اور بجٹ تھا، اور سماج تھا اور ایوان تھا اورمختلف پاکستان تھا۔
2۔ بجٹ کا اتنا بڑا سائز تو نہیں تھا لیکن اتنے بڑے خسارے بھی نہیں تھے۔ اس سماج کی اتنی بڑی آبادی تو نہیں تھی مگر سماج میں اتنی غربت، بھوک، ننگ، بے روزگاری اور بیماری بھی نہیں تھی۔ اتنا بڑا ایوان تو نہیں تھا لیکن اس ایوان کو اتنے گھمبیر مسائل کا سامنا بھی نہیں تھا۔یقیناً پاکستان تو وہی ہے لیکن اتنے بڑے خطرات اور بحرانوں کے بھنور میں تونہ تھے۔
3۔ ہم نے لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں کا خاتمہ کر کے ملک حوالے کیا تھا مگر آج پھر نہ صرف پورا ملک بلکہ لوگوں کی تقدیریں اور امیدیں بھی اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ یہ زرعی ملک تھا جس کو قحط زدہ کر کے ہمارے حوالے کیا گیا ہے۔ امن وامان کے چھوٹے موٹے مسائل تو تھے مگر دہشت گردوں کے آگے اتنی بے بسی تو نہ تھی کہ جس سے معصوم اور بے گناہ لوگوں کی زندگیاں عذاب بن جائیں۔ ہر شہر میں موت اترے اور ہر گھر پر خوف کا پہرہ ہو، اور تو اور ہماری بہادر قائد محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو اس ملک کے عوام سے چھین کر ان کی روحوں کو چھلنی اور ان کے احساس کو بھی زخمی کر دیا گیا ہو، اور پوری قوم اور دنیا سے ان کی آس اور امید چھین لی گئی ہو۔
میڈم سپیکر!
4۔ ہو سکتا ہے کہ اتنے وسائل نہ ہوں مگر اس قدر بھیانک مسائل بھی نہیں تھے۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ معاشی ڈھانچہ اتنا بڑا نہ ہو مگر اس قدر کھوکھلا اور دیمک زدہ ڈھانچہ بھی نہیں تھا جو کسی بھی ہلکی سی جنبش سے ٹوٹ کر بکھرنے کے قریب ہو۔ زندگی تو تھی مگر اتنی بے رونق اور مشکل نہ تھی کہ لوگ زندگی کو ہی بوجھ سمجھیں۔ جمہوریت تھی،اسقدر آمریت کے پنجوں میں جکڑا ہوا ملک نہ تھا جس میں سانس لینا بھی مشکل ہو۔
میڈم سپیکر!
5۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہمیں اقتدار دیا گیا، ایک ٹوٹا پھوٹا بحرانوں میں گھرا، اندھیروں میں ڈوبا ، تباہ حال، خطرات میں گھرا، غربت زدہ، قحط زدہ، دہشت زدہ، نا انصافیوں میں قید، زخموں سے چور پاکستان ہمارے حوالے کیا گیا۔ ہمارے قائد شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے خون کے چراغ جلا کر اس ملک میں اور اس ملک کے غریبوں کے گھروں میں روشنی کی ہے۔ ہم ایک بار پھر اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور قوم سے عہد کرتے ہیں کہ اس ملک کو بھنور سے ضرور نکالیں گے۔
میرا صرف ہنر تھا کہ خونِ جگر
نذر میں نے کیا مجھ سے جو بن پڑا
میڈم سپیکر!
ہم کہاں کھڑے ہیں؟
6۔ اِس سے قبل کہ میں اِس ایوان کے غوروخوض کے لیے بجٹ کی مخصوص تجاویز پیش کروں، ضروری ہو گا کہ میں ورثے میں ملنے والی معیشت اور رواں مالی سال میں جاری بجٹ کے حالات کے بنیادی خدوخال پر روشنی ڈالوں۔اِس سے میرے ساتھیوں کو ہمیں درپیش معاشی حالات سمجھنے میں مدد ملے گی۔
7۔ ہمیں ورثے میں ملنے والی معیشت 11 ستمبر2001ءکے واقعات سے پیدا ہونے والے حالات پر قائم تھی۔ معاشی ترقی ہوئی مگر وہ دیرپا ثابت نہ ہو سکی۔ مغرب سے سرمائے کی ایک بڑی مقدار نکال کر ترقی پذیر ممالک کو منتقل کی گئی، مالیاتی منتقلیوں(Transfer) کے غیر رسمی چینلز بند کر دیے گئے جس کے نتیجے میں بنکاری کے معمول کے چینلز کے ذریعے ترسیلات(Remittances) کا بہت بڑا بہا¶ آیا۔ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حلیفوں سے قابلِ ذکر امداد حاصل ہوئی۔غیر ملکی سرمائے کے بہا¶ میں قابلِ ذکر اضافے سے ملک کو ذرِمبادلہ کے زخائر کے ساتھ ساتھ درآمدات کے لیے زیادہ طلب(Demand) کی بلند سطح قائم رکھنے میں مدد ملی۔ معیشت کے حجم میں نمایاں اضافہ ہوا اور بلند شرحِ نمو حاصل ہوئی۔ تاہم زیادہ تر شرحِ نمو کاروں، ٹی وی سیٹ، ریفریجریٹرز، ائرکنڈیشنرز، اور موبائل فون وغیرہ جیسی اشیاءکے استعمال میں اضافے کی صورت میں ہوئی۔ دیرپا بنیادوں پر بلند شرحِ نمو میں مدد دینے کے لیے صنعت، بنیادی ڈھانچے اور زراعت میں اِس تناسب سے سرمایہ کاری نہیں کی گئی۔ ترقی اور لازم انفراسٹرکچر(Infrastructure) کے درمیان اِس فرق کی عکاسی اِس حقیقت سے ہوتی ہے کہ ہمارے پاس اِس طرح کی دیرپا اشیاءکے استعمال کے لیے بجلی ہی نہیں ہے۔ اِسی طرح موٹر کاروں میں اضافے کے مطابق شہری سڑکوں میں توسیع نہیں کی گئی۔
میڈم سپیکر!
8۔ 9مارچ 2007ءکو عدالتی بحران شروع ہونے کے بعدملک کو کئی صدموں(Shocks) کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ترقی کی کمزور بنیاد سامنے آ گئی، اس کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بڑے پیمانے پر خوراک کی قِلت کے Shocks آئے۔ اِن بحرانوں کے باوجود حکومت بے عملی کا شکار رہی اور اِن چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے درکار تکلیف دہ فیصلوں میں سیاسی مصلحت کی بنا پر تاخیر کی اِس لیے کہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات سر پر تھے۔ موجودہ بجٹ نے اِن بحرانوں سے منسلک تمام خرابیوںکا سامنا کیا ہے۔ یہ خرابیاں اِس قدر ہیں کہ اِن سے گذشتہ 4برسوں کے دوران معیشت کو حاصل ہونے والے ثمرات ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔
9۔ دورانِ سال پیش آنے والے غیر موافق واقعات پر ایک فوری نظر ڈالنے سے ہمیں معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے میں مدد ملے گی۔
(1)....2007-08ءمیںمعیشت گذشتہ سال کے 7.2 فیصدکے ہدف اور 6.8 فیصد کی حقیقی شرحِ نمو کے مقابلے میں 5.8 فیصد کی شرح سے ترقی کرے گی۔
(2).... مینوفیکچرنگManufacturing اور زراعت دونوں شعبوں میں ہدف سے کم بالترتیب 5.4 فیصد اور 1.5 فیصد ترقی ہوئی۔
(3).... افراطِ زرکی شرح گذشتہ سال کی 7.8 فیصد کے مقابلے میں 11 فیصد ہے۔
(4)....موجودہ حکومت کی مربوط کوششوں کے باوجود رواں سال کے لیے بجٹ خسارے کا تخمینہ GDP کے 4 فیصد ہدف کے مقابلے میں 7فیصد ہے۔
(5).... بجٹ میں Subsidiesکی مد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا جو بڑی حد تک اِس بھاری خسارے کا سبب بنا۔407 ارب روپے کی اِن Subsidies میں پٹرولیم کے لیے 175 ارب روپے، بجلی کے لیے 133 ارب روپے، گندم کے لیے40 ارب روپے اور ٹیکسٹائل و کھاد کے لیے 48 ارب روپے شامل ہیں۔ جبکہ سبسڈی کی مد میں بجٹ میں صرف 114 ارب روپے رکھے گئے تھے۔
(6).... غیر معمولی مالیاتی خسارے کے باعث ادائیگیوں کے توازن کو بھی بے مثال خسارے کے سامنا ہے۔ حسابِ جاریہ کے خسارے کا تخمینہ 11.9 ارب ڈالر یا GDP کا 7 فیصد ہے۔
(7).... زرِ مبادلہ کے ذخائر جو کہ اکتوبر 2007ءمیں 16.5ارب ڈالر تھے، کم ہو کر اپریل 2008ءتک 12.3 ارب ڈالر سے کم رہ گئے۔ اِس سے شرحِ مبادلہ(Exchange Rate) پر اثر پڑا، جولائی 2007ءسے اپریل 2008ءتک تقریباً 6.4 فیصد کم ہو گئی ہے۔
(

.... زیادہ تر خسارہ سٹیٹ بنک سے قرضے حاصل کر کے پوراکرنا پڑا۔ جس کا مطلب ہے کہ مزید نوٹ چھاپے گئے۔ مرکزی بنک سے کم سے کم مئی 2008ءتک 551 ارب روپے کے قرضے حاصل کیے گئے جس کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ نوٹوں کی اِس چھپائی کا مطلب سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ بغیر پیداوار کے سرمایے میں اضافے سے صرف قیمتوں میں اضافہ ہونا تھا جو کہ ہم دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں اِس عمل کو روکنا ہو گا۔ بصورتِ دیگر افراطِ زر کی شرح موجودہ شرح سے بھی کہیں زیادہ ہو جائے گی اور جیسا کہ میں نے کہا افراطِ زر کی یہ شرح پہلے ہی ملک کی تاریخ میں بلند ترین سطح ہے۔
میڈم سپیکر!
10۔ مالی سال2008-09ءکا بجٹ ایک دیرپا منصوبے کا حصہ ہے جس پر موجودہ حکومت کام کر رہی ہے اور جسے جلد ہی حتمی شکل دے دی جائے گی۔اِسی طرح ہم بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے ایک طویل مدتی جائزہ لے رہے ہیں۔ آئندہ سال کے دوران پیش آنے والے مجموعی اقتصادی حالات کے حوالہ سے اہم مفروضات پر روشنی ڈالنا مفید ہوگا جو بجٹ پر اثرانداز ہوں گے۔ اِن میں:
(i).... سال 2008-09ءکے دوران مجموعی قومی پیداوار کی شرح میں 5.5 فیصد اضافہ۔
(ii)....افراطِ زر کو 12 فیصد تک محدود کرنا۔
(iii).... GDP کے تناسب سے مجموعی سرمایہ کاری کی سطح25 فیصد رکھنا۔
(iv).... مالیاتی خسارہ 4.7 فیصد تک محدود کرنا۔
(v).... حسابِ جاریہ کے خسارے کو کم کر کے GDP کے 6فیصد تک لانا۔
(vi).... جون 2009ءکے آخر تک زرِ مبادلہ کے ذخائر 12 ارب ڈالر تک لاناشامل ہیں۔
ترقیاتی منصوبہ
11۔ سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری ترقی کا ایک اہم محرک ہے۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں نجی شعبے کے مقابلے میں اِس میں کمی آئی ہے مگر یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ نجی شعبہ اقتصادی ترقی کا زیادہ بوجھ برداشت کرے۔ قومی اقتصادی کونسل نے مالی سال 2008-09ءکے لیے 549.7 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے کی منظوری دی ہے جو 2007-08 کے لیے بجٹ کے ہدف 520ارب روپے سے5 فیصد زیادہ ہیں۔
مالی سال 2008-09ءکے لیے بجٹ تخمینے اور
مالی سال 2007-08 کے لیے نظرثانی شدہ تخمینے
12۔ ہم بجٹ 2008-09 کے لیے مندرجہ ذیل بنیادی اہداف مقرر کر رہے ہیں۔
(1) اقتصادی استحکام بحال کرنے کے لیے
٭ مالیاتی خسارہ میںنمایاں کمی کرنا
٭ سبسڈیز کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانا
٭ جاریہ اکا¶نٹ کے خسارے میں کمی
٭ غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنا
(2) نقد رقوم کی فراہمی کے متعین پروگرام کے ذریعہ کمزور طبقوں کو تحفظ فراہم کرنا اور اُن کی آمدنی میں اضافہ کرنا
(3) زراعت اور مینو فیکچرنگ کے شعبوں کی پیداوار اور مقابلے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے پر توجہ مرکوز کرنا۔
(4) حکومت کی طرف سے اقتصادی نمو، سرمایہ کاری اور نجی شعبہ کو قائدانہ کردار دینے کے عزم کے اعلان کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا۔
(5) نمو کی رفتار تیز کرنے کے لیے سازگار ڈھانچے کی فراہمی میں حائل بنیادی رکاوٹیں دور کرنا۔
(6) سماجی اعشاریوں میں حقیقی تبدیلی لانے کے لیے اِس شعبہ کے لیے مختص فنڈز میں اضافہ کرنا
(7) کم لاگت کے گھروںکی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنا تاکہ گھروں کی ضرورت اور اُن کی فراہمی میں خاص طور سے کم آمدنی والے طبقوں کے لیے فرق کو کم سے کم کیا جائے۔
13۔ مالی سال 2008-09 ءکے لیے بجٹ کا تخمینہ رواں سال 2007-08ءکے بجٹ کی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔
14۔ رواں سال کے نظرثانی شدہ مالیاتی خسارے 7 فیصد کے مقابلہ میں آئندہ مالی سال 2008-09 بجٹ خسارے کا تخمینہ مجموعی ملکی پیداوار کا 4.7 فیصد ہے۔ اس سے نمایاں مالیاتی رد و بدل(Adjustment) اور سرکاری مالیات میں استحکام ظاہر ہوتا ہے۔ ہمارے لیے اس ہدف کا تعین محصولات جمع کرنے کے نظام میں بہتری اور اخراجات پر کنٹرول کے اقدامات کے ذریعہ ممکن ہوگا۔
15۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے محصولات کے 2007-08 کے لیے نظرثانی شدہ تخمینے 1000 ارب روپے سے بڑھ کر 2008-09 کے لیے 1250ارب روپے ہو جائیں گے۔ یہ اضافہ 25 فیصد کے برابر ہے۔ قدرتی نمو(Natural Growth) اور بجٹ میں تجویز کردہ صوابدیدی کوششیں ہمیں محصولات کی وصولی میںمعقول اضافے کی توقع کی بنیاد فراہم کریں گے۔آئندہ سال وفاقی اخراجات کا تخمینہ 1493 ارب روپے ہے جبکہ 2007-08 کے لیے نظرثانی شدہ تخمینہ 1516 ارب روپے تھا۔ ہم مالیاتی نظم و ضبط کے لیے مجوزہ اقدامات کی بنیاد پر اخراجاتِ جاریہ میں مزید بچت کی کوشش کریں گے۔
16۔
حکومت نیشنل فنانس کمیشن دوبارہ تشکیل دے گی اور صوبوں کی جانب سے NFC کے ارکان کی نامزدگی موصول ہوتے ہی کمیشن کا اجلاس طلب کرے گی۔صوبوں کو گرانٹ سمیت رقوم کی منتقلی کا اندازہ رواں سال کے لیے نظر ثانی شدہ تخمینے 490 ارب روپے کے مقابلہ میں2008-09 میں 606 ارب روپے ہے۔ یہ اضافہ 24 فیصد ہے۔ متوقع آمدنی اور اخراجات ظاہرکرتے ہیں کہ صوبوں کے کیش بیلنس(Cash Balance) میں اُن کے PSDP کے لیے صوبوں کے اپنے حصے اور فاضل اخراجات پورے کرنے کے بعد79 ارب روپے کا اضافہ ہوگا۔
17۔ مذکورہ بالا اندازوں کی بنیاد پر ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ بجٹ معیشت کو مستحکم کرنے، مالیاتی نظم و ضبط کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ معاشی بحالی میں بھی معاون ثابت ہو گا۔ ہماری کامیابی کاپیمانہ مالیاتی مارکیٹ کے اعتماد میں مزیدکمی کے عمل کے رُکنے میں ہے اور مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کی طرف سے سرمایہ کاری میں مزید اضافے سے ہو گا۔
کمزور طبقات پر اثر
میڈم سپیکر!
18۔ اس امر کا دستاویزی ثبوت بکثرت موجود ہے کہ پاکستان میں گذشتہ دہائی کے دوران آمدنی کی تقسیم بتدریج خراب ہوئی۔ اِس عرصے کے دوران حاصل ہونے والی دولت مساویانہ طور پرتقسیم نہیں ہوئی۔ اگرچہ بیشتر افراطِ زر بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ ہے اور قیمتوں میں مطلوبہ اضافے کا ایک بڑا حصہ اب بھی منتقل کیا جانا باقی ہے۔ کمزور طبقات اور مقررہ آمدنی والے گروپوں کو درپیش حالات کم سے کم غیر مستحکم اور زیادہ سے زیادہ ناقابلِ برداشت سطح پر ہیں۔ ہم غریبوں کی حالتِ زار سے الگ تھلگ رہنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے پاس اب بھی اقدامات کا وقت ہے۔ اِس سے قبل کہ وہ ریاست کی جانب سے اپنی زندگیوں میں کسی نتیجہ خیز کردار سے مایوس ہو جائیں، اُن کے مطالبات کو پورا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ہمیں اِن لوگوں کو بڑھتی ہوئی قیمتوں اور حقیقی آمدنیوںمیں کمی کی مشکلات سے دور کرناچاہیے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے بانیوں نے سماجی انصاف کو جمہوریت کے لیے اپنی جدوجہد کا بنیادی اصول بنایا۔ اسی طرح ہم بھی اِن گروپوں کے لیے اپنی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اور موجودہ بجٹ اِس مسئلے کا حل پیش کرے گا۔
بنیادی ڈھانچہ کی کمی
19۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ بڑھتی ہوئی اور دیرپا نمو(Growth) کے لیے درکار Infrastructure کے اہم منصوبوں میں نہ توسرکاری شعبے میں سرمایہ کاری کی گئی اور نہ ہی نجی شعبے میں اِس کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ مثال کے طور پر بجلی کے شعبے میں ملک اپنی تاریخ کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سامناکر رہا ہے۔بجلی کی طلب اور رسد میں فرق تقریباً 4,500میگا واٹ ہے۔ میں اِس نُکتے کو اجاگر کرنا چاہوں گا کہ یہ فرق اِس حقیقت کے باوجود پڑا کہ باوجود گذشتہ دہائی میں نجی شعبے سے 6,500 میگا واٹ اضافہ کیا گیا جو تمام پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنی انرجی پالیسی 1994ءکے تحت منظور کی تھی۔ یہ IPPs جو ہمارے لیے مفید وسیلہ ثابت ہوئے، کو بلاجواز بدنام کیا گیا اور اُن پر تنقید کی گئی۔ حالانکہ انرجی پالیسی 1994ءکے تحت دی گئی مراعات کے تحت سسٹم میں اضافی گیس قابلِ ذکر مقدار میں شامل کی گئی لیکن اب اِس وقت طلب اور رسد کے درمیان فرق 1.5 ارب مکعب فٹ ہے۔ اور اگر سسٹم میں اضافی فراہمی کے اہم ذرائع شامل نہ کیے گئے تو اِس فرق میں مزید تیزی سے اضافہ ہو گا۔ ہمیں مقامی ذرائع کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک سے درآمد اور سرحد پار پائپ لائنوں کے ذریعے گیس کی فراہمی میں اضافہ کرنا ہو گا۔ اپنی موجودہ سہولیات کے بہتر استعمال کی خاطر بجلی کے شعبے کو گیس کی فراہمی ترجیحی بنیاد پر بڑھانی ہو گی۔
20۔ جب ہم نے اقتدار سنبھالا، قوم کو لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ درپیش تھا۔ ہم نے صورتحال کا جائزہ لیا اور عوام کے ساتھ ساتھ صنعت و زراعت کے شعبوں کو بجلی کی قلت سے چھٹکارہ دلانے کے لیے مختصر درمیان اور طویل مدت کے مختلف اقدامات کررہے ہیں۔ اِن اقدامات میں بجلی کے استعمال میں بچت، موجودہ پیداواری صلاحیت کے مطابق بجلی کی پیداوار اور اس کا باکفایت استعمال شامل ہے جس سے 1500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔ ہم قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ اِن اقدامات کے ذریعے لوڈ شیڈنگ میں بڑی حد تک کمی ہو جائے گی۔ ٹیکسٹائل کی صنعت کے لیے 24 گھنٹے مسلسل بجلی کی فراہمی جاری رہے گی جبکہ آٹے اور گھی کی ملوں کو روزانہ 18 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے گی۔ زرعی ٹیوب ویلوں کو ہر رات 10 گھنٹے مسلسل بجلی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ رعایتی نرخوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔
21۔ پانی کی دستیابی اب ملک کو درپیش ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں توسیع کی اِس سے پہلے اِس قدر ضرورت نہ تھی تاہم پانی کا باکفایت استعمال بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔ اِس لیے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں اِضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کے باکفایت استعمال پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
میڈم سپیکر!
22۔ زراعت ہماری معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن گذشتہ 8سال کے دوران اسے نظر انداز کیا گیا۔ کسانوں کے لیے ریلیف اور ترغیب کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے کے لیے مراعات کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اقدامات اور سمتوں کا تعین کیا جا رہا ہے۔ تاکہ زرعی شعبہ قومی معیشت میںاہم کردار ادا کر سکے۔ اِن اقدامات کی تفصیل اس طرح ہے:۔
(i) گندم کی امدادی قیمت 510 روپے فی 40 کلو گرام سے بڑھا کر 625 روپے کرنا۔
(ii) عالمی قیمتوں اور پیداواری لاگت کو مدِنظر رکھتے ہوئے بوائی کے آئندہ سیزن سے پہلے یعنی اگست ستمبر میں گندم کی آئندہ فصل کے لیے امدادی قیمت پر نظرثانی کی جائے گی۔
(iii) ملک بھر میں ڈیموں کی تعمیر، آبپاشی کے نظاموں کی بحالی، نکاسی ¿ آب کے نظام میں بہتری اور نہروں اور کھالوں کو پختہ کرنے کے ذریعہ آبی وسائل کے باکفایت استعمال اور دستیابی میں بہتری لانے کے لیے PSDP میں 75 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
(iv) زرعی پیداوار کے اعلیٰ معیارکوقائم رکھنے اور اِس کی برآمد میں سہولت پیدا کرنے کے لیے ملک بھر میں Cold Chainقائم کی جائے گی جس سے ہمارے فروٹ اور زرعی پیداوار کو برآمد کرنے میں مدد ملے گی۔
(v) قابل کاشت رقبے میں اضافہ اور بہتری کے لیے غیر ملکی تعاون سے بلڈوزروں کی درآمد کے انتظامات کئے جا رہے ہیں۔
(vi) ڈی اے پی فصلوں کی پیداوار میںاضافے کے لیے نہایت اہم کھاد ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ اس اہم کھاد کے استعمال کی حوصلہ شکنی کا باعث ہے۔ اور زرعی پیداوار کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ حکومت ڈی اے پی کھاد پر سبسڈی کو دوگنے سے زیادہ کرتے ہوئے 470 روپے فی بیگ سے بڑھا کر 1000 روپے فی بیگ کر رہی ہے۔ دیگر کھادوں پر سبسڈی کی فراہمی بھی جاری رہے گی۔ کھادوں پر سبسڈی کی مد میں مختص رقم 25 ارب روپے سے بڑھا کر 32 ارب روپے کر دی گئی ہے۔کھادوں اور زرعی ادویات کی درآمد اور اندرون ملک فروخت پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔
(vii) صنعتی اور دیگر شعبوں کے مقابلہ میں زرعی شعبہ میں قرضوں کی فراہمی محدود ہے۔ اگلے مالی سال کے دوران زرعی شعبہ کو قرضوں کے لیے 30 ارب روپے کی اضافی رقم فراہم کی جائے گی۔ اس شعبہ کو قرضوں کی مد میں پہلے ہی 130 ارب روپے فراہم کئے گئے ہیں۔
(viii) ہم زرعی ترقیاتی بنک کو بھی مزید فعال بنا رہے ہیں اور اس کے دائرہ کار میں اضافہ کریں گے۔
میڈم سپیکر!
23۔ مذکورہ بالا اقدامات کے ساتھ ساتھ زرعی شعبہ کو مالیاتی اقدامات کے ذریعہ مزید مراعات اور سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ یہ اقدامات درج ذیل ہیں۔
(i) ملک میں چاول کی صحت مند اور معیاری پیداوار کو یقینی بنانے کے لیے چاول کے بیج کی درآمد پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے۔
(ii) غلے کو جہاز سے اتارنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ایسی مشینیں اور آلات جو مقامی طور پر تیار نہیں کیے جاتے، ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کی مقامی سطح پر تیار ہونے کی شرط کو ختم کردیا گیا ہے۔
(iii) فصلوں کی انشورنس کے پریمیئم پر عائد 5فیصد ایکسائز ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات سے فصلوں کی پیداوار بڑھے گی اور عام آدمی کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔
لائیو سٹاک اور ڈیری
24۔(الف) مویشی اور دودھ دیہی آبادی کی آمدنی اور روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ پاکستان دنیا بھر میں دودھ پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے، اس استعداد سے پوری طرح استفادہ نہیں کیا گیا۔ اس شعبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے سفید انقلاب کے لیے وزیرِاعظم کے خصوصی اقدام کے تحت اس شعبہ کے لیے PSDP کے ذریعہ 1.5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ اس منصوبہ میں مویشیوں کی افزائش و پرورش، گوشت کی پیداوار، مویشیوں کے لیے علاج معالجہ کی سہولت، دودھ اکٹھا کرنے، اسے محفوظ کرنے اور دیگر ڈیری مصنوعات کی پیداوار کو ترقی دینا، جانوروں اور پودوں کی صحت کا معائنہ کرنے کے لیے سہولتوں کے مربوط قومی ادارے کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
(ب) ماہی پروری کے شعبہ میں ایکوا کلچر (Aqua Culture) اور جھینگے پالنا(Shrimp Farming)، پاکستان کے مخصوص اقتصادی زونز (EEZ) کے سٹاک اسسمنٹ سروے پروگرام (Stock Assessment Survey Programe) اور گوادر میں ماہی پروری کے تربیت کے منصوبہ جیسے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ جن کے لیے بجٹ میں 1.1 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
25۔ کاشتکاروں کو معیاری بیج کی فراہمی کے لیے National Commercial Seed Programe تیار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں Bt کاٹن کی مختلف اقسام متعارف کروانے کے لیے مذاکرات کا تیزی سے آغاز کر دیا گیا ہے۔اِس سے کپاس کی پیداوار میں ہمارے کسانوں کی پیداوار کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔