|
وفاقی وزراء نے ڈگریوں کی جانچ رکوانے کیلئے حکمت عملی ترتیب دیدی جانچ پڑتال کا عمل فیصلہ کن مرحلے میں

14-07-10, 03:53 AM
اسلام آباد ( صالح ظافر) قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کا عمل فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، جب کہ چونکا دینے والے انکشافات سامنے آنے والے ہیں کیونکہ 718 قانون ساز وں کی ڈگریوں کے حوالے سے حتمی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے جبکہ اس ضمن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی دی گئی ڈیڈ لائن گزر چکی ہے۔ ان بچ جانے والے افراد میں جعلی ڈگری کے حامل وفاقی وزراء ، وزرائے مملکت ، مشیران اور صوبائی وزراء شامل ہیں ۔ صدارتی کیمپ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء نے قانون سازوں کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال رکوانے کیلئے حکمت عملی ترتیب دیدی ہے کیونکہ وہ اسکروٹنی کے اس عمل کے نتائج سے خوفزدہ ہیں۔ ایچ ای سی کو ڈگریوں کی جانچ کا مشکل ترین کام سونپا گیا تھا اور ساتھ ہی اسے وزراء کے شدید دباوٴ کا بھی سامنا تھا کیونکہ اب آنے والی فہرست میں انتہائی نوازے گئے قانون سازوں کے نام بھی شامل ہونگے جوکہ جعلی کاغذات اور ڈگریوں کی بناء پر متعدد مراعات کے مزے لے رہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع نے جنگ کو بتایا کہ ایچ ای سی کے چیئرمین جاوید لغاری سے 3طاقت ور وفاقی وزراء نے رابطہ کرکے اسکروٹنی رکوانے کیلئے مدد طلب کی لیکن چیئرمین نے اس معاملے میں بے بسی کا اظہار کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب یونیورسٹی سے 93 ارکان اور شاہ عبدالطیف یونیورسٹی سے 13 ارکان کا ریکارڈ غائب ہے۔ واضح رہے کہ ایچ ای سی کے چارٹرڈ کے مطابق اگر ڈگری کا یونیورسٹی میں ریکارڈ نہ ہو تو اس ڈگری کو جعلی تصور کیاجائے گا۔ اب تک 33 ڈگریوں کو مشکوک جبکہ 29 کو جعلی قرار دیا جاچکا ہے ۔ ذرائع نے نشاندہی کی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان جعلی ڈگریوں کے معاملے میں بروقت کارروائی کو ممکن بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے کیونکہ ابھی تک اس سارے معاملے کی ذمہ داری کسی کو نہیں سونپی گئی ہے حالانکہ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئے ہوئے 2 ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدارتی کیمپ سے تعلق رکھنے والے وزراء اس عمل میں تاخیر کیلئے ہر ممکن حربے استعمال کررہے ہیں اور وہ اس کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو استعمال کررہے ہیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اب بھی 38 ڈگریاں تصدیق کیلئے بھیجی جانا باقی ہیں جبکہ اس کی کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو مزید 12 ڈگریوں کا کوئی علم نہیں کیونکہ وہ اس کے پاس جانچ کیلئے آئی ہی نہیں ۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی میں خبر
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,236 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|