|
وفاقی کابینہ کا اجلاس: صوبوں کو تشدد سختی سے کنٹرول کرنے کی ہدایت

01-01-08, 10:36 AM
وفاقی کابینہ کا اجلاس: صوبوں کو تشدد سختی سے کنٹرول کرنے کی ہدایت
اسلام آباد (نمائندہ جنگ) نگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو کی صدارت میں پیر کو نگراں وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں پیپلز پارٹی چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد کے واقعات اور ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں ملک کی سیکورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد میاں سومرو نے حالیہ پرتشدد واقعات میں سرکاری و نجی املاک اور بے گناہ شہریوں کے جانی نقصان کا سختی سے نوٹس لیا اور چاروں صوبوں کو ہدایت کی کہ شرپسند عناصر بینکوں اور دکانوں کی لوٹ مار میں ملوث افراد کیخلاف دہشت گردی کے تحت مقدمے چلائے جائیں اور تشدد کے واقعات کو سختی سے کنٹرول کیا جائے۔ وزیراعظم نے انتخابات کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے رابطوں پر بھی کابینہ کو اعتماد میں لیا اور کہا کہ ضرورت ہوئی تو کابینہ کا ہنگامی اجلاس کسی بھی روز بلایا جا سکتا ہے۔ امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حامد نواز خان نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ملک میں حالات معمول پر آ رہے ہیں اور سندھ کے 16اضلاع میں سول انتظامیہ کے ساتھ رینجرز اور فوج کا تعاون حاصل کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مکمل امن بحال ہونے تک فوج متاثرہ علاقے میں موجود رہے گی۔ کابینہ کے اجلاس میں وزارت داخلہ کی طرف سے سانحہ لیاقت باغ کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ضرورت پڑنے پر حکومت سانحہ لیاقت باغ کی تحقیقات کیلئے غیرملکی فارینسک ماہرین کی خدمات حاصل کر سکتی ہے تاہم فی الوقت پاکستانی ماہرین پر مشتمل اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم اس کیس پر اپنی تحقیقات کو کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ لیاقت باغ کے المیے کے بعد ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں پاکستان ریلوے کو 12ارب 38کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پاکستان ریلویز کی ایک رپورٹ کابینہ کے اجلاس میں پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ 8ارب روپے مالیت کی 140 بوگیاں مکمل طور پر جل گئیں اور 17بوگیوں کو 30لاکھ روپے کا جزوی نقصان پہنچا۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|