|
وکلاء تنظیموں کا فیصلہ ،ماتحت عدلیہ میں کام بحال،روزانہ ایک گھنٹہ علامتی ہڑتال کی جائیگی

13-11-07, 09:13 AM
کراچی ( اسٹاف رپورٹر،نمائندگان جنگ) وکلاء تنظیموں کے مشترکہ فیصلے کے تحت ماتحت عدلیہ میں وکلاء نے کام بحال کر دیا ہے تاہم پی سی او کے تحت عدلیہ کے خلاف اقدامات پر احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے وکلاء روزانہ ایک گھنٹے علامتی ہڑتال کریں گے۔کراچی میں سٹی کورٹس اور دیگر ماتحت عدالتوں میں کام شروع ہو گیا۔ وکلاء تنظیموں نے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی بحالی کے بغیر نگران حکومت کے قیام اور انتخابات کے انعقاد کا اعلان بے معنی ہے۔وکلاء تنظیموں نے طلبہ ، اساتذہ ، تاجروں ، صحافیوں ، ڈاکٹروں اور این جی اوز سمیت مختلف طبقات پرزور دیا کہ وہ عدلیہ کی بالادستی کیلئے ان کی جدوجہد میں انکا ساتھ دیں، تفصیلات کے مطابق پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کے فیصلہ کے خلاف ماتحت عدالتوں میں وکلاء کو مقدمات کی پیروی کی اجازت دیدی گئی تاہم انہوں نے ہدایت کے مطابق دن میں ایک گھنٹہ ہڑتال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ جیل سے 900 قیدیوں کو سٹی کورٹس لا کر عدالتوں میں پیش کیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کے اندر اور باہر ڈنڈے، بندوقوں، حفاظتی شیلڈوں سے لیس سروں پر ہیلمٹاور جسموں پر جیکٹیں پہنے پولیس کے جوان موجود رہے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا اجلاس پیر کو شہدائے پنجاب ہال میں ہوا۔ قرارداد میں آرمی ایکٹ 1952ء سندھ بار کونسل میں جو ترامیم کی گئیں وہ بلا جواز اور ناقابل قبول ہے۔ جمہوریت کو بحال کیا جائے۔ ایمرجینسی مارشل ہٹایا جائے میڈیا پر سے پابندی ختم کی جائے۔ ملیر کورٹ، سٹی کورٹس سے رینجرز اور پولیس کو ہٹایا جائے۔ گرفتار وکلاء اور جن لوگوں کو عدلیہ کی بحالی کے لئے کام کرتے ہوئے گرفتار کیا ہے انہیں رہا کیا جائے۔سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کا اجلاس بار کے سابق صدر اختر حسین کی زیر صدارت ہوا۔ سپریم کورٹ کے سابق ججوں فخر الدین جی ابراہیم اور ناصر اسلم زاہد نے بھی خطاب کیا۔ قرارداد میں پاکستان بار کونسل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی کال کو سپورٹ کرتے ہوئے پی سی او اور ایمرجینسی کی مذمت کی ہے اور یہ قرار دیا کہ ملک مارشل لاء کے زیر اثر ہے اور ان ججوں کی تعریف کی جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا اور اس فیصلے کی توثیق کی ،وکلاء نے کہا کہ پی سی او ججز کے سامنے مزید 16 نومبر تک پیش نہیں ہونگے اس کے بعد وکلاء قیادت مزید لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ قرارداد میں بار کے ممبران سے اپیل کی ہے کہ بار کے ان ممبران کا بھی سوشل بائیکاٹ کریں جو بار کا فیصلہ نہیں کر رہے ہیں اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والوں کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایمرجینسی ہٹائے بغیر اور اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی بحالی کے بغیر پرویز مشرف کی جانب نگران حکومت کے قیام اور عام انتخابات کا اعلان بے معنی ہے اور فراڈ ہے جو پاکستان کے عوام کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ قرار داد میں آرمی ایکٹ میں ترمیم، ملٹری کورٹس میں سویلین کے خلاف مقدمات چلانے کے اعلان کی مذمت اور ان اقدامات کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بار کونسل ایکٹ میں ترمیم کی مذمت کی ہے اورکہا کہ یہ غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدام قابل قبول ہے اس کی مزاحمت کی جائے گی۔ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر پابندیوں کی مذمت کی ہے جس کی وجہ سے عوام اطلاعات کی فراہمی سے محروم کئے جا رہے ہیں۔ میڈیا کے سندھ ہائیکورٹ میں داخلہ پر پابندی کی مذمت کی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ متحد ہو جائیں۔ ملک گیر سطح پر تحریک شروع کریں۔ میڈیا سے کہا ہے کہ وہ وکلاء تحریک کا ساتھ دیں۔ بین الاقوامی کمیونٹی سے بھی اپیل کی ہے کہ جوڈیشری اور وکلاء تحریک کا ساتھ دیں اور پرویز مشرف کی فوجی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ حقیقی جمہوریت اور آزاد عدلیہ کے لئے اقتدار چھوڑ دیں۔اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور،ساہیوال محسن وال، ، فیصل آباد شیخوپورہ،سیالکوٹ ، ڈسکہ،منڈی بہاؤالدین ،جھنگ ، کمالیہ، بہاولنگر، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور تاندلیانوالہ کے نمائندگان جنگ کے مطابق ان شہروں میں وکلاء کی ہڑتا ل جاری رہی ۔
__________________
ہمارے لیے دعا کریں ہمیں دعاؤں کی بہت ضرورت ہے پلیز پلیز پلیز
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|