|
وکلاء سیاسی جماعتوں سے انتخابات کا بائیکاٹ کر ائیں ،اعتزاز احسن کا کھلا خط

06-12-07, 09:03 AM
وکلاء سیاسی جماعتوں سے انتخابات کا بائیکاٹ کر ائیں ،اعتزاز احسن کا کھلا خط
اسلام آباد (نمائندہ جنگ ) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری اعتزاز احسن نے وکلاء سے کہا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو انتخابات کے بائیکاٹ پر آمادہ کریں، پاکستان بار کونسل سمیت ملک بھر کی بار کونسلوں اور بار ایسوسی ایشنوں کے نام اپنے ایک کھلے خط میں انہوں نے جنوری2008ء کے آخری ہفتے سے جوڈیشل بس چلانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججز کی بحالی کیلئے ججز کالونی اسلام آباد سے جوڈیشل بس چلائی جائے گی جس کے مسافر پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے جج ہوں گے جبکہ بار کونسل سے کہا گیا ہے کہ وہ جوڈیشل بس چلانے کی تاریخ تجویز کرے۔ چوہدری اعتزاز احسن نے خط میں 2 نومبر کی عدلیہ کی بحالی کیلئے وکلاء کے آئندہ کے لائحہ عمل کو بیان کیا ہے۔ جس میں تین نکاتی حکمت عملی بیان کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کا بائیکاٹ کرتی ہیں تو وکلاء برادری بھی ایسا ہی کرے گی دو بڑے سیاسی اتحادوں اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی میں سے کوئی ایک سیاسی اتحاد الیکشن کا بائیکاٹ کرتا ہے تو اس صورت میں وکلاء الیکشن کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے اگر تمام سیاسی جماعتیں الیکشن میں حصہ لیتی ہیں تو وکلاء برادری عدلیہ کی بحالی کی خاطر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ اس صورت میں وکلاء ان امیدواروں کو ووٹ دیں گے جو ضلعی بار ایسوسی ایشن کے وکلاء اور عوام کی موجودگی میں عدلیہ کی بحالی کا حلف اٹھائیں گے۔ اس پروگرام کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں تشہیر کی جائے گی اور اس کا ریکارڈ بار کونسلوں میں محفوظ رکھا جائے گا۔ انہوں نے خط میں مزید کہا کہ وکلاء برادری نے عدلیہ کی بحالی کیلئے ایک طویل عرصہ سے بائیکاٹ جاری رکھا ہوا ہے۔ جمہوریت اور سول رائٹس کی بحال کیلئے وکلاء برادری کی جدوجہد کی مثال نہیں ملتی۔ جبکہ وکلاء پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں کی بحالی کی جدوجہد کرکے وفاق کو بچائیں گے ، انہوں نے مزید کہا ہے کہ مجھ سمیت منیر ملک، طارق محمود، اور علی احمد کرد نے کبھی کسی ہتھیار تک کو نہیں چھوا۔ ہم پرامن لوگ ہیں، کبھی کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی لیکن جیلوں میں ہمارے ساتھ دہشت گردوں سے بھی برا سلوک کیا گیا ہے۔ پرویز مشرف نے ججوں سے ایسا سلوک صرف اسلئے کیا کہ سپریم کورٹ کا 11 رکنی لارجر بنچ اہلیت کیس میں آئین کے مطابق فیصلہ دینے والا تھا۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے خط کے ساتھ ایک مجوزہ بیان حلفی بھی منسلک کیا ہے جو کہ الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں سے لیا جائے گا۔ تاکہ وہ منتخب ہونے کے بعد عدلیہ کی بحالی کی حمایت کریں۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|