واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


وہ بھٹک کے‘ کئی راستے دکھا گیا...سویرے سویرے…نذیر ناجی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-07-10, 11:47 PM   #1
وہ بھٹک کے‘ کئی راستے دکھا گیا...سویرے سویرے…نذیر ناجی
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 30-07-10, 11:47 PM

آج سوگ کا دن ہے۔ دارالحکومت‘ اسلام آباد جہاں تباہی اور ہلاکتوں کا کھیل بہت عرصے تک کھیلا گیا‘ کچھ دنوں سے پرسکون تھا۔مگر وہاں کے شہریوں کا یہ سکون قائم نہ رہ سکا اور ایسا دردناک حادثہ رونما ہوا‘ جو میریٹ‘ مصری سفارتخانے میں دھماکے‘ آبپارہ اور پولیس ٹریننگ سینٹر پر خودکش حملوں‘ لال مسجد کے سانحے اور اسی طرح کی دیگر تباہ کاریوں اور ہلاکتوں کو پیچھے چھوڑ گیا۔نہیں کہا جا سکتا کہ یہ محض ایک سانحہ تھا یا قبل ازیں پیش آنے والے واقعات کی طرح تخریب کاری اور دہشت گردی۔ یہ سوال کبھی حل نہیں ہو گا۔ جہاز کے اندر موجود ہر ذی نفس کوئی شہادت یا بیان دینے کے لئے زندہ نہیں رہ گیا۔ فضائی سفر کے طور طریقوں کی روشنی میں اس سانحے کا کئی پہلوؤں سے جائزہ لیاجا رہا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں نے ہر پیشہ وارانہ اور ماہرانہ‘ پہلو سے اس سانحے کو دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ چھان بین کے دوران جو بات نمایاں ہو کر سامنے آئی‘ وہ بے حد تشویشناک ہے۔ پتہ یہ چلا کہ ہمارے دارالحکومت کے انتہائی حساس مقامات ہر وقت خطرے کی زد پر ہیں۔ ہر ایئرپورٹ پر جہازوں کو اترنے سے پہلے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور اس انتظار کے لئے اسے ایئرپورٹ کے چاروں طرف پانچ میل کے دائرے میں پرواز کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر گئی ہے کہ دنیا کے بہت سے ایئرپورٹ ایسی جگہوں پر واقع ہیں‘ جہاں پانچ میل کے اس دائرے میں کافی بلند پہاڑ آتے ہیں۔ مثلاً ایتھنز کے ہوائی اڈے پر کھڑے ہو کر دیکھیں‘ تو لینڈ کرنے والے طیارے پہاڑ کے پیچھے سے اچانک نمودار ہوتے ہیں‘ تو ان کے پہیے پوری طرح کھلے ہوتے ہیں اور وہ سیدھے رن وے پر اترنے کی حالت میں ہوتے ہیں۔ جس طرح وہ‘ قطار کے اندر سے نکل کر رن وے کی طرف آتے ہیں‘ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں دیر تک پانچ میل کے دائرے کے اندر گھومنا پڑا ہو گا۔ انقرہ کا ایئرپورٹ بھی کم و بیش اسی طرح کے مقام پر ہے۔ لیکن نہ تو سول ایوی ایشن اور نہ ہی پائلٹوں کو لینڈنگ کے انتظار میں پہاڑوں کے اوپر نچلی پروازیں کرتے وقت کوئی مشکل پیش آتی ہے اور نہ ہی راڈار اور کنٹرول ٹاور والوں کے ساتھ رابطوں میں خلل پڑتا ہے۔ بدھ کو سانحے کا شکار ہونے والے بدقسمت طیارے کے ساتھ کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہوا۔ کنٹرول ٹاور اور پائلٹ کے درمیان جو بھی بات چیت ہوئی اس میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ پھر طیارہ مقررہ دائرے سے باہر کیسے گیا؟ اسلام آباد کے شہری بیک زبان کہہ رہے ہیں کہ ایئرپورٹ پر اترنے والے کسی بھی مسافر طیارے کو مارگلہ کی پہاڑیوں کے اوپر اس حالت میں نہیں دیکھا گیا‘ جیسے حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ نظر آیا۔ اس حوالے سے دو سینئر صحافیوں خوشنود علی خان اور صالح ظافر کے مشاہدے غور طلب ہیں۔
طیارے کی بات یہیں چھوڑتے ہوئے‘ میں اس تشویش کی طرف آتا ہوں‘ جو یہ حقیقت سامنے آنے کے بعد پیدا ہوئی کہ ہمارے دارالحکومت کے حساس ترین مقامات‘ پانچ میل کے اس دائرے کے اندر آتے ہیں‘ جس میں لینڈنگ کے منتظر طیاروں کو پرواز کرنا ہوتی ہے اور ذرا سی لغزش سے ان طیاروں کا دائرہ پرواز 8میل ہو جائے‘ تو پھر ایوان صدر‘ وزیراعظم ہاؤس‘ قومی اسمبلی اور دنیا بھر کے سفارتی مراکز بھی اس دائرے میں آ جاتے ہیں۔ جی ایچ کیو تو پانچ میل سے بھی کم فاصلے پر رہ جاتا ہے۔ 9/11کو مسافر طیاروں کا دہشت گردی کے لئے جس طرح استعمال کیا گیا‘ اس کے بعد دنیا بھر میں سلامتی کے نئے تصورات اور قواعد و ضوابط معرض وجود میں آئے۔ ایئرپورٹس کے محل وقوع کے جائزے لے کر‘ سلامتی کے نئے اصول وضع کئے گئے اور پروازوں کے راستے بھی نئی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق بدلے گئے۔ پاکستان میں ایسا ہوا یا نہیں؟ یہ میں نہیں جانتا۔ مگر اب یہ سوال یقینی طور پر زیرغور لانا پڑے گا کہ مسافر طیاروں کی پروازوں کے لئے لینڈنگ کی باری کا انتظار کرنے کے لئے‘ جو حدیں پہلے سے چلی آ رہی ہیں‘ کیا ان میں ردوبدل کی ضرورت ہے؟
اسلام آباد ایئرپورٹ کے محل وقوع پر بھی نظر ڈالنا ہو گی۔ یہاں پر لینڈنگ سے پہلے انتظار کے لئے پرواز کا دائرہ کسی بھی طرح سے یوں نہیں بنایا جا سکتا کہ حساس مقامات اس میں سے باہر نکال دیئے جائیں۔ لینڈنگ کی منتظر کوئی بھی پرواز اتنے تنگ دائرے میں نہیں گھوم سکتی کہ اس کے اندر سے جی ایچ کیو کو باہر نکالا جا سکے اور اگر دہشت گرد کسی طیارے پر قبضہ کے اسے مقررہ دائرے سے باہر نکالنے کی کوشش کریں تو اسے ناکام بنانے کے لئے کسی بھی حفاظتی مشینری کو بروئے عمل لانے کا وقت نہیں بچتا۔ جیسے ایئر بلو کے بدنصیب طیارے کے تجربے سے ثابت ہوا کہ وہ نوفلائی زون میں چلا گیا۔ اگر یہ طیارہ ایوان صدر کا رخ کرنا چاہتا‘ تو نشانے سے 30 سیکنڈ سے بھی کم فاصلے پر تھا اور مزید چند سیکنڈ کا فاصلہ امریکی سفارتخانے سے رہ گیا تھا۔ بدھ کواسلام آباد کے تمام فضائی دفاع پر نظرثانی کرنے کی ضرورت سامنے آئی ہے۔ اب اس پر غور و فکر کرنا لازم ہو گیا ہے۔
بہت دنوں سے سن رہے ہیں کہ فتح جنگ کے مقام پر اسلام آباد کا نیا ایئرپورٹ بننے والا ہے۔ وہ کس حالت میں ہے؟ اور کب بنے گا؟ یہ واضح نہیں۔ لیکن ابھی سے دیکھ لینا چاہیے کہ اگر وہ ایئرپورٹ بن رہا ہے‘ تو اس پر لینڈنگ کے لئے انتظار کرنے والے طیاروں کا دائرہ پرواز کیا ہو گا؟ کیونکہ ابھی وہ ایئرپورٹ نہیں بنا‘ اس لئے اس کے چاروں طرف کم از کم 8میل کے اندر اندر حساس تعمیرات ممنوع قرار دے دینا چاہئیں اور اگر کچھ حساس مقامات پہلے سے موجود ہیں‘ تو پھر ایئرپورٹ کے مقام کو بدل دینا چاہیے۔ ملک کے تمام شہروں کے ایئرپورٹس کے گردونواح کا جائزہ لے کر بھی یہ اہتمام کر لینا چاہیے کہ کسی ایئرپورٹ کے چاروں طرف پانچ میل کے اندر کوئی حساس جگہ موجود نہ ہو۔ اگر کہیں ہے تو اسے منتقل کر دینا چاہیے۔
اب میں واپس سانحے کی طرف آتا ہوں۔ میڈیا میں جس تفصیل کے ساتھ ہر پہلو سے جائزے لئے گئے ہیں‘ وہ پاکستان میں اپنی مثال آپ ہیں۔ اس سے پہلے صرف ایک مرتبہ ایسا ہوا تھا‘ جب بھارتی طیارہ اغوا کر کے لاہور لایا گیا۔ میں ان دنوں ”جنگ “کا ایڈیٹر رپورٹنگ تھا۔ میں نے خوشنود علی خان کی سربراہی میں رپورٹرز کی ایک ٹیم تیار کر کے لمحہ بہ لمحہ رپورٹنگ کا ایک سسٹم تیار کیا اور خوشنود علی خان کے سپرد کر دیا۔ اردو میں اس طرح کی رپورٹنگ پہلی مرتبہ ہوئی تھی۔ اگلے روز ہر طرف ”جنگ“ اخبار کی مانگ تھی اور پرنٹنگ پریس اسے پوری نہیں کر پا رہا تھا۔ خوشنود علی خان اپنے مشاہدات لکھتے رہتے ہیں۔ کبھی فرصت ملے تو اپنا یہ کارنامہ بھی لکھ ڈالیں۔ یہ پرانا قصہ لکھتے لکھتے یاد آیا کہ طیارے کے حادثے پر کی گئی رپورٹنگ میں‘ میری نظر سے کچھ چیزیں نہیں گزریں۔ یہ سوال رہ گئے کہ کیا لینڈنگ پرمشن کا باقاعدہ ریکارڈ موجود ہے؟ پرواز سے پہلے پائلٹ کا فٹنس سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا؟ اور کیا یہ تفصیل معلوم کر لی گئی تھی کہ اپنی گزشتہ پرواز کے بعد ‘نئی پرواز کا چارج لیتے وقت پائلٹ‘ کو آرام کا اتنا وقفہ مل چکا ہے جو عالمی ضوابط کے تحت ضروری ہے۔ نوفلائی زون میں طیارہ ایسے مقام پر تھا جہاں سے ایوان صدر اور امریکی سفارتخانے تک پہنچنے میں‘ چند سیکنڈ رہ گئے تھے۔ کیا حفاظتی انتظامات کے ذمہ داروں کے پاس آرڈر لینے کا وقت رہ گیا تھا؟ کیا حفاظتی مشینری حرکت میں آ گئی تھی؟ اور اگر نہیں آئی تھی‘ تو کیوں نہیں آئی تھی؟ اور اس کا کیا مطلب ہے کہ موقع پر پہنچنے والے ایک شخص نے تباہ شدہ جہاز کے پاس کھڑے چند نوجوانوں کو نعرہ تکبیر اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا۔ کیا یہ ان کے کسی ساتھی یا ساتھیوں کا کارنامہ تھا؟ جہاز کے لڑکھڑانے اور ڈولنے کی تفصیل بتائی گئی ہے‘ کہیں جہاز کے اندر کوئی راشدمنہاس تو مزاحمت نہیں کر رہا تھا؟ کیونکہ پائلٹ صاحب کے طور طریقے ظاہر کرتے ہیں کہ وہ کسی نہ کسی حد تک انتہاپسندی کی طرف مائل ضرور تھے۔
ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــ
روزنامہ جنگ۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 206
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-07-10), مرزا عامر (31-07-10), احمد بلال (31-07-10), عبداللہ آدم (31-07-10), عدنان دانی (31-07-10)
پرانا 31-07-10, 10:04 AM   #2
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,775
شکریہ: 53,120
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یقینا اِن نکات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے!
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (01-08-10), احمد بلال (31-07-10)
پرانا 31-07-10, 10:23 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,907
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر کوئی راشد منہاس تھا تو کچھ بتائے بغیر چلا گیا۔
اور پتا نہیں کوئی کالی بھیڑ اپنا منہ کھولتی ہے کہ نہیں؟؟
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (31-07-10), مرزا عامر (01-08-10)
پرانا 31-07-10, 01:09 PM   #4
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,584
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس سانحے کے کچھ اور پہلو بھی سامنے آرہے ہیں۔ مثلاً مواصلاتی جیمرز کا بھی کچھ عمل دخل ہوسکتا ہے۔ دیکھتے ہیں کیا نتائج نکلتے ہیں۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-07-10, 01:11 PM   #5
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم !
جس ڈرامائی اندا میں مشکوک شخص جائے حادثہ سے برآمد ہوا تھا اور اسے گرفتار بھی کر لیا گیا ۔۔۔
اسی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ تفتیش کا رخ کس سمت مڑے گا ۔۔۔
===
وزیر دفاع کی بیان کے مطابق طیارہ فلائی زون میں نہیں گیا ۔۔ نو فلائی زون صرف ایوان صدر اور پارلیمنٹ ہیں ۔۔۔!!
بہر حال پس پردہ بہت کچھ ہے ۔۔۔۔ روایات کے مطابق وہ کبھی سامنے نہیں آتا ۔۔۔
چند دن بعد لوگ بھول کر کسی اور رونما ہونے والے واقعے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں ۔۔۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (31-07-10), مرزا عامر (01-08-10), عبداللہ آدم (31-07-10)
پرانا 31-07-10, 11:47 PM   #6
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,042
شکریہ: 24,031
4,992 مراسلہ میں 14,714 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم:

اس خبیث کا یہ کالم میں نے بھی شیر کرنے کا سوچا تھا لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

ان بیمار سوچ کے لوگوں کا بس چلے تو ان آنے والے سیلابوں میں بھی طالبان کا ھاتھ ہی ثابت کر دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پائلٹ انتہا پسند تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں؟ ؟؟؟؟؟؟اس لیے کہ اس کی دارھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ ان دانش فروشوں کے پاس کوئی وجہ نہیںہے۔
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (01-08-10), مرزا عامر (01-08-10)
پرانا 01-08-10, 12:06 AM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,693
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہیں جی ڈارھی کی بات نہیں بلکہ۔۔۔۔ پائلٹ اس لئے بھی انتہا پسند تھا کہ
حادثے سے قبل کی رات پندرہ شعبان کی تھی۔۔۔ وہ عبادت کرتا رہا۔
پائلیٹ صوم و صلوة کا پابند تھا۔۔۔۔۔۔
مسئلہ یہ نہیں کہ اس میں تخریب کاری کا اندیشہ ہے اور اگر یہ صحیح ثابت ہوا تو یہ لوگ طالبان۔۔ یا القاعدہ کو گالیاں دے کر اپنی تسکین تو کر لیں گئے
لیکن جب ان کی تسکین ہو جائے گی۔۔۔ اور ان کے یار ان سے پو‌چھیں گے کہ جی حضور ‏آپ کے ایئر پورٹس تو محفوظ نہیں۔۔۔۔ اس طرح ‏آپ کی جنرل ہیڈ کواٹر، پارلیمنٹ، امریکی ایمبسی اعوان صدر وغیرہ سب غیر محفوظ ہیں۔۔۔ لہذا ہم ہی یہ سب سنبھال لیتے ہیں۔۔۔ کیوںنکہ اس کے بعد ‏آپ کا ایٹمی پروام بھی غیر محفوظ ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔
خدا ان نا عاقبت اندیش لوگوں سے اس ملک کو پاک کر کے اس کو حقیقی پاکستان بنا دے۔0
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

ایک قصہ یاد ‏آ گیا وہ سنا دیتا ہوں۔۔۔۔۔۔
ایک دیہاتی شہر میلہ دیکھنے گیا۔۔۔ وہاں اس کے سامان کی پوٹلی کہیں گم ہو گئی،، واپس گاؤں گیا تو دیہاتی میلے کا حال احوال پو‌چھنے کے لئے اس کے ارد گرد جمع ہو گئے۔۔۔۔
اس دیہاتی نے کہا۔۔۔۔۔ یارو۔۔۔ میلہ ویلہ تو تھا نہ بس ان کو میری سامان کی گھٹری ‌چھپانی تھی اس لئے یہ جمگھٹا بنایا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔
مجھے ڈر ہے۔۔۔۔ کہ اگلے پندرہ بیس سال بعد کا مؤرخ کہیں یہ نہ لکھ کر ہماری ‏آنے والی نسلوں کو بتائے کہ جی پاکستان میں دہشت گردی وغیرہ تو تھی نہیں بس ان کا ایٹمی پرگرام ختم کرنے کے لئے یہ رولا گولا شروع کیا گیا تھا۔۔۔۔

اللہ حفاظت فرمائے ‏آمین۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (01-08-10), ھارون اعظم (01-08-10), مرزا عامر (01-08-10), عبداللہ آدم (01-08-10)
پرانا 01-08-10, 12:54 AM   #8
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاید تھوڑے دن بعد یہ خبر آئے کہ سیلاب اور طیارہ حادثہ کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (01-08-10), عبداللہ آدم (01-08-10)
پرانا 01-08-10, 02:24 AM   #9
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,693
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کہتے ہیں جاپانی وزیر اعظم کا ایک مرتبہ ہاتھی کہیں کہو گیا۔۔۔۔ جاپانی پولیس اور اجنسیاں اس کی تلاش میں ناکام رہیں۔۔۔۔ امریکی، روسی، اسرائیلی اور ‌چینا کی ترقی بھی فیل ہو گئی تو ساتویں ایٹمی طاقت کی پولیس کو دعوت دی گئی۔۔
دوسرے دن ہی اخبارات میں خبر شائع ہو گئی کہ ہاتھی مل گیا۔۔۔۔








ثبوت کے طور پر ایک اونٹ کو پیش کیا گیا تو بار بار یہ دہرا رہا تھا کہ میں ہاتھی ہوں میں ہاتھی ہوں۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (01-08-10), ھارون اعظم (01-08-10), مرزا عامر (06-08-10), عبداللہ آدم (01-08-10)
جواب

Tags
پولیس, پاکستان, واقعات, وزیراعظم, قواعد, قصہ, نظر, منتقل, مسجد, معلوم, آج, اکبر, اللہ, اردو, اسلام, اغوا, حل, خودکش, سفر, شخص, ضوابط, علی, صحافیوں, صدر‘, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لمبی لمبی سویاں محمد کاشف حبیب دلچسپ اور عجیب 9 04-11-09 02:32 PM
SOS,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی طارق راحیل خبریں 0 10-03-09 09:04 PM
سویرے جو کل آنکھ میری کھلی فیصل ناصر قہقہے ہی قہقے 2 07-12-08 04:09 AM
سویرے جو کل آنکھ میری کھلی محمدعدنان اردو کہانیاں 8 03-12-08 08:01 PM
تلخ سفر امیدوں کا,,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی خرم شہزاد خرم اپکے کالم 1 05-01-08 09:40 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:48 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger