شعیب اختر کا کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی کرکٹ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے۔
ان کی یہ رائے اس بحث کا تسلسل ہے جو ان دنوں ٹی ٹوئنٹی کے مثبت اور منفی اثرات کے بارے میں جاری ہے۔
گزشتہ دنوں پاکستانی بیٹسمین محمد یوسف نے اپنے بیان میں ٹی ٹوئنٹی کو پاکستانی کرکٹ کے لیے تباہ کن قراردیا تھا۔ جنوبی افریقی کوچ گیری کرسٹن کا بھی یہ کہنا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی کی بہتات کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہے اور اسے صرف ڈومیسٹک کرکٹ تک محدود رکھا جائے۔
شعیب اختر نے جو ورلڈ کپ کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں بی بی سی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ پہلے ہی بور ہوچکی ہے ون ڈے بھی ٹی ٹوئنٹی سے متاثر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کے آنے سے تیز رفتار بولرز کی دھاک ختم ہوگئی ہے اور ان کا کردار محض رنز روکنے والے بولر کا بن کر رہ گیا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی میچز میڈیم پیسر اور اسپنرز جتوا رہے ہیں جس کی وجہ سے کرکٹ کا گراف نیچے آگیا ہے۔
آئی پی ایل کی طرز پر اب دوسرے ملکوں میں بھی ٹی ٹوئنٹی لیگ شروع ہورہی ہیں اور آنے والے دنوں میں کرکٹرز کو بہت زیادہ پیسے ملیں گے اور انہیں ملنے بھی چاہئیں یہ اچھی بات ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ٹیلنٹ جاتا رہے گا۔
شعیب اختر نے کہا کہ پاک بھارت کرکٹ کے نہ ہونے سے بھی انٹرنیشنل کرکٹ کا حسن ماند پڑگیا ہے۔ ایشیز کے تواتر سے ہونے سے ان مقابلوں کی دلچسپی بھی ختم ہوگئی ہے ۔
شعیب اختر نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ میں جو ٹیلنٹ آیا تھا اس کی مثال نہیں ملتی تھی لیکن ایک ایک کرکے جب یہ اسٹارز رخصت ہوئے تو ان کی جگہ لینے والے کرکٹرز اس معیار کے نہ تھے۔ اسی طرح آسٹریلوی ٹیم سے بھی ہیڈن، میک گرا، شین وارن اور گلیسپی کے جانے سے بہت فرق پڑا اور اس کا اثر انٹرنیشنل کرکٹ پر بھی پڑا ہے۔
شعیب اختر نے کہا کہ آئی پی ایل کی طرز پر اب دوسرے ملکوں میں بھی ٹی ٹوئنٹی لیگ شروع ہورہی ہیں اور آنے والے دنوں میں کرکٹرز کو بہت زیادہ پیسے ملیں گے اور انہیں ملنے بھی چاہئیں یہ اچھی بات ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ٹیلنٹ جاتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ شان ٹیٹ سے انہیں بڑی امید تھی کہ وہ ان کی تیزرفتار گیند کا ریکارڈ توڑدیں گے لیکن وہ بھی ریٹائر ہوگئے۔بریٹ لی پہلے ہی اپنی تیزرفتاری کھوچکے ہیں۔
شعیب اختر آئی سی سی کی جانب سے وضع کردہ سخت قوانین سے بھی خوش نہیں ہیں ۔
ان کا کہنا ہے کہ آئس ہاکی بیس بال اور فٹبال میں پیسہ بھی ہے اور یہ دنیا بھر میں کھیلے جاتے ہیں ان کھیلوں میں لڑائیاں بھی ہوتی ہیں اور جھگڑے بھی ہوتے ہیں لیکن ان میں بھی بہت زیادہ سخت قوانین اور شرائط مسلط نہیں ہیں۔ کرکٹ میں اتنی سختیاں کردی گئی ہیں کہ بال بھی ٹیڑھے بناکر آجائیں تو آپ پر جرمانہ عائد کردیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کرکٹ کا کھیل پہلے ہی بور ہوچکا ہے بولرز کے لئے پہلے ہی مشکل ہوچکی ہے باؤنسرز کی تعداد محدود کردی گئی جو رہی سہی کسر رہ گئی تھی وہ پاور پلے نے پوری کردی۔
اننگز کے شروع میں بھی پاور پلے میں بولنگ کریں اور جب تھک جائیں تو آخری اوورز میں بھی پاور پلے میں بولنگ کریں۔ آج کل کی کرکٹ میں دلچسپی کے نام پر بیٹسمینوں کو کافی کچھ دیا جاچکا ہے۔ یہ بہت سادہ سا کھیل تھا اسے اسی طرح رہنے دیاجاتا تو اچھا تھا۔
خبر