واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات 13 روز تک وزیراعظم ہاﺅس میں کیوں پڑی رہیں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-02-11, 06:50 AM   #1
پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات 13 روز تک وزیراعظم ہاﺅس میں کیوں پڑی رہیں؟
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 19-02-11, 06:50 AM

4 ایڈیشنل ججز کی تقرری مسترد کرنے سے متعلق سفارشات عدالتی کمیشن کو کیوں نہیں بھجوائی گئیں
فائل آئی تھی جو ہم نے آگے بڑھا دی‘ اب ہمارے پاس کوئی فائل زیر التواء نہیں‘ ترجمان وزیراعظم
14 روز کے اندر عدالتی کمیشن کی سفارشات پر فیصلہ نہ ہو تو وہ ازخود نافذ العمل ہوجائیں گی‘ ذرائع
اسلام آباد (طاہر خلیل) اسلام آباد میں حکام یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ لاہور ہائی کورٹ کے 4 ایڈیشنل ججز کی تقرری مسترد کرنے سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات 13 روز تک وزیراعظم کے دفتر میں کیوں پڑی رہیں اور انہیں عدالتی کمیشن کو کیوں نہیں بھجوایا گیا؟۔ 2 فروری کو پارلیمانی کمیٹی نے اپنے چیئرمین سینیٹر نیئر حسین بخاری کی سربراہی میں عدالتی کمیشن کی سفارشات نظرانداز کرتے ہوئے چار ایڈیشنل ججز کی تقرری کو مسترد کر دیا تھا۔ سینیٹ کے سیکرٹری راجہ محمد امین نے جو آئین کے آرٹیکل 175(II) کے تحت پارلیمانی کمیٹی کے سیکرٹری بھی ہیں‘ پارلیمانی کمیٹی کے فیصلے اور ججز کی تقرری مسترد کرنے کی وجوہات پر مبنی فائل 4 فروری کو عدالتی کمیشن بھیجنے کےلئے وزیراعظم کے دفتر بھجوا دی تھیں۔ آئینی تقاضا پورا کرنے کےلئے عدالتی کمیشن کی سفارشات پر 14 روز کے اندر پارلیمانی کمیٹی کو فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ اگر 14 روز کے اندر پارلیمانی کمیٹی عدالتی کمیشن کی سفارشات پر کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام رہی تو ایسی صورت میں عدالتی کمیشن کی سفارشات ازخود نافذ العمل ہو جائیں گی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ پارلیمانی پارٹی کی سفارشات پر وزیراعظم کی کوئی رائے شامل نہیں کی جا سکتی اور وزیراعظم کا دفتر اس ضمن میں صرف پوسٹ آفس کا کردار ادا کرتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے تین روز قبل جب اس بات کا نوٹس لیا کہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے ججز کے نام مسترد کرنے کی وجوہات سے آگاہ نہیں کیا تو پارلیمانی کمیٹی کے اراکین نے چیئرمین اور متعلقہ حکام سے معلومات حاصل کیں جس پر سینیٹ سیکرٹریٹ سے بتایا گیا کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات 4 فروری کو وزیراعظم کے توسط سے عدالتی کمیشن کو بھجوائی گئی تھیں۔ متعلقہ عہدیداروں نے جب تحقیق کی تو پتہ چلا کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی فائل 13 روز سے وزیراعظم کے دفتر میں پڑی ہوئی ہے۔ ذرائع نے کہا کہ اس حوالے سے دو روز قبل وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اور سینیٹ سیکرٹری کے درمیان رابطہ ہوا تھا۔ سیکرٹری سینیٹ کو وزیراعظم کے دفتر سے تین روز قبل پیغام دیا گیا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات دوبارہ مرتب کر کے نئی فائل وزیراعظم کو بھیجی جائے جس میں پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے کنفرم کئے جانے والے ججز اور مسترد کئے جانے والے ججز کے علیحدہ علیحدہ فولڈر بنائے جائیں جس کے بعد سیکرٹری سینیٹ نے وزیراعظم کے دفتر کو آگاہ کر دیا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کی 4 فروری کی سفارشات کو عدالتی کمیشن بھیج دیا جائے۔ ذرائع نے بتایا کہ 17 فروری کو سپریم کورٹ نے جب ججز کی تقرری کا حکم معطل کرتے ہوئے حکومت اور پارلیمانی کمیٹی کے حکام کو نوٹس جاری کیا تو وزیراعظم کے دفتر نے پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات دوبارہ بھجوانے کا پیغام دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس کیس میں عدالت عظمیٰ نے سیکرٹری سینیٹ اور سیکرٹری قانون کو فریق بنایا ہے اور 17 فروری کی شب انہیں سپریم کورٹ کے نوٹس موصول بھی ہو گئے ہیں۔ نوٹس میں حکم دیا گیا کہ 4 ججز کی تقرری کی عدالتی کمیشن کی سفارشات مسترد کرنے سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے جو وجوہات پیش کیں‘ فاضل عدالت کو اس سے آگاہ کیا جائے اور حکومت مذکورہ ججز کے بارے میں کوئی منفی نوٹیفکیشن جاری نہ کرے۔ ذرائع نے کہا کہ سپریم کورٹ کا نوٹس ملنے کے بعد وزیراعظم کے دفتر سے پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر مبنی فائل عدالتی کمیشن کو بھیجی جا سکتی تاہم حکام یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اہم آئینی معاملے پر مبنی یہ فائل 14 روز وزیراعظم کے دفتر میں کیوں پڑی رہی اور اسے آئینی تقاضے کے تحت عدالتی کمیشن کو کیوں نہیں بھجوایا گیا تھا۔ وزیراعظم کے ترجمان سے جب اس معاملے پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تحقیق کے بعد جواب دیا کہ ”ہمارے پاس فائل آئی تھی‘ ہم نے آگے بھیج دی ہے اور اب ہمارے پاس پارلیمانی کمیٹی کی کوئی فائل زیر التواءنہیں ہے۔“ سیکرٹری سینیٹ راجہ محمد امین نے ایک استفسار پر ’جنگ‘ کو بتایا کہ ہم نے وجوہات تحریر کر کے پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات 4 فروری کو بھجوا دی تھیں‘ اس کے بعد ہمارا کام ختم ہو گیا۔ فائل کہاں پڑی رہی اور عدالتی کمیشن کو کب بھیجی گئی‘ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کےلئے آئینی پابندی ہے کہ وہ عدالتی کمیشن کی سفارشات پر 14 روز کے اندر فیصلہ کرے پارلیمانی کمیٹی نے آئینی حدود اور معین مدت کے اندر اپنا کام مکمل کر لیا تھا۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

Last edited by گلاب خان; 19-02-11 at 06:54 AM..

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 50
Reply With Quote
جواب

Tags
color, فولڈر, ہے۔, کورٹ, کرے۔, پوسٹ, پڑی, وزیراعظم, نام, مکمل, مطابق, اسلام, بڑھا, تقاضا, تحریر, جواب, جانے, جائے, حکم, خلیل, خصوصی, سپریم, علیحدہ, عدالتی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کمیٹی آف تھری ہنڈرڈز گلاب خان سیاست 2 03-03-11 07:11 PM
وزیراعظم کے بیٹے اور وزیردفاع کی بیٹی کی شادی گلاب خان خبریں 5 28-11-10 08:48 AM
کیا یہ قیامت کی نشانیوں میں سے نہیں؟ عبدالقدوس دلچسپ اور عجیب 9 23-10-10 08:44 PM
ملک کو کھوکھلا ہونے سے بچانے کےلئے عوام کی نظریں چیف جسٹس پر مرکوز ہوگئیں؟ جاویداسد خبریں 0 22-09-10 06:50 PM
اعتزاز ، کرد، جسٹس طارق کو دو روز میں رہا کر دیا جائیگا، وزیر داخلہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 06-12-07 09:07 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:58 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger