نئی ترمیم سے مقننہ کو ججوں کی تقرری کا اختیار مل گیا دیکھنا ہو گا کہ پارلیمانی کمیٹی آرٹیکل 7 کے منافی تونہیں، قرارداد پاکستان سیاسی دستاویز تھی جس میں بنیادی ڈھانچے کا تذکرہ ہے، ریمارکس
اسلام آباد (خبر نگار) 18ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نئی ترمیم سے مقننہ کو ججوں کی تقرری کا اختیار مل گیا ہے پہلے صرف انتظامیہ اب پارلیمنٹ کی کمیٹی صدر کو ججوں کے نام بھجوائے گی۔ دیکھنا ہو گا کہ پارلیمانی کمیٹی آئین کے آرٹیکل 7 کے منافی تو نہیں، پارلیمنٹ، جمہوریت اور عدلیہ ملک کا مستقبل ہیں اسلئے ہم اس کیس پر غیر معمولی توجہ دے رہے ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آرٹیکل 125 اے کسی آمر کی نہیں منتخب پارلیمنٹ کی ترمیم ہے۔ ایوب خان تقرر سے پہلے خود ججوں کا انٹرویو کرتے تھے بعض جج نامناسب لباس کی وجہ سے مسترد کر دیئے گئے اگر دوسرے اداروں کو مکمل طور پر باہر رکھنا ہے تو ماضی میں انتظامیہ کو ججوں کی تقرری میں کیوں شامل کیا گیا؟ جبکہ جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ پرانے نظام میں ججوں کی تقرری کا عمل دباؤ سے آزاد تھا 18 ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت منگل کے روز چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے 17رُکنی لارجر بنچ نے کی۔ سماعت شروع ہوئی تو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث نے کہا کہ حکومت پنجاب کا موقف شاہد حامد بیان کر چکے ہیں میں بطور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عدالت کی معاونت کر رہا ہوں۔ اِس پر جسٹس رمدے نے کہا کہ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل حکومت کے زرخرید غلام نہیں، اُن کا کام قانونی معاملات میں عدالت کی معاونت ہے۔ فاضل جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکالت یہ نہیں کہ جس سے پیسے لیں اُس کے جھوٹ کو بھی سچ بنا کر پیش کیا جائے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ قرارداد مقاصد کی منظوری کے وقت اس پر کڑی تنقید ہوئی تھی اقلیتوں اور مشرقی پاکستان کے ارکان کو لیاقت علی خان اور عبدالرب نشتر نے یقین دلایا تھا کہ یہ محض بنیادی اصولوں کا کام دیگی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قرارداد پاکستان اور قرارداد مقاصد کو یکجا کر کے پڑھیں تو ملک کی تشکیل کا مقصد سامنے آ جائیگا۔ جسٹس جاویدا قبال نے کہا کہ قرارداد مقاصد کو کبھی بھی آئین کی بنیاد قرار نہیں دیا گیا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث نے کہا کہ اختلافات کے باوجود قرارداد مقاصد منظور ہوئی اور 1973ء تک اسکے وجود کو تسلیم کیا جاتا رہا۔ وکلاء محاذ کیس میں قرار دیا گیا کہ قرارداد مقاصد کو ختم نہیں کیا جا سکتا جبکہ لیاقت حسن کیس میں جسٹس سعیدالزمان نے قرارداد مقاصد کو آئین کا بنیادی اصول قرار دیا۔ ظفر علی شاہ کیس پر نظرثانی کے فیصلے میں عدالت قرار دے چکی ہے کہ پارلیمنٹ بھی بنیادی ڈھانچے میں ترمیم نہیں کر سکتی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قرارداد مقاصد ملک میں حکمرانی کے بنیادی اُصولوں پر مبنی ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ قرارداد مقاصد میں صرف 1962 کا آئین بناتے وقت تبدیلی کی گئی۔ فوجی ڈکٹیٹر نے عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے ”مکمل“ کا لفظ ختم کر دیا تھا۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ قرارداد مقاصد کی بنیاد پر پارلیمنٹ کے قانون سازی کے اختیار کو محدود کیا جا رہا ہے جبکہ اس قرارداد میں ایسی کوئی بات نہیں۔ اس پر خواجہ حارث نے کہا کہ قرارداد مقاصد کا حوالہ بنیادی ڈھانچے کا تصور اُجاگر کرنے کیلئے ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آئین میں بنیادی ڈھانچے کا کوئی تذکرہ نہیں ہم صرف اسے اخذ کر رہے ہیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ کئی فیصلوں میں بنیادی ڈھانچے کی نشاندہی کر چکی ہے۔ آئین و قانون وہی ہے جسے عدالت آئین اور قانون قرار دے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کیخلاف آئینی ترامیم کا راستہ روک کر کہا ہم آرٹیکل 239 میں ترمیم نہیں کر رہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ آئین میں تو عدالتی جائزے سے ممانعت کی شقیں بھی ہیں لیکن عدالتوں نے اسکے باوجود اپنے فرائض انجام دیئے۔ بنیادی ڈھانچے کے تصور سے ہٹنے کیلئے عدالت کو اپنے کئی فیصلوں کو بدلنا ہو گا۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے مزید کہا کہ عدالت یہ بھی قرار دے چکی ہے کہ ججوں کی تقرری کے طریقہ کار کا عدلیہ کی آزادی سے براہ راست تعلق ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا پارلیمانی کمیٹی ججوں کی تقری کیلئے عدلیہ کی پارلیمنٹ سے گفت و شنید کیلئے بنائی گئی ہے اور کیا اس سے عدلیہ کی مقننہ سے علیحدگی کا اصول متاثر نہیں ہو گا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ ہمارے پارلیمانی نظام میں مقننہ انتظامیہ ہی کا حصہ ہے۔ آرٹیکل7 کے تحت عدلیہ بالکل الگ ہے اِس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ججوں کی تقرری کیلئے پارلیمنٹ کی کمیٹی کا کردار آئین کے آرٹیکل7 سے ہٹنے کے مترادف نہیں ہو گا جوڈیشل کمیشن جب جج کی تقرری سے متعلق تمام کام مکمل کرے گا تو پارلیمانی کمیٹی کا فریضہ انجام دے گی۔ خواجہ حارث نے کہا کہ تقرری کے موقع پر بیرونی اثرات جج کی آزادانہ حیثیت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ کیا آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ پرانے طریقے میں بیرونی اثرات کار فرما نہیں تھے اِس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مقننہ کو ماضی میں ججوں کی تقرری کا اختیار نہیں تھا جو نئی ترامیم سے حاصل ہو گیا ہے۔ پہلے صرف انتظامیہ، اب پارلیمنٹ کی کمیٹی صدر کو ججوں کے نام بھجوائے گی پارلیمانی کمیٹی اپنے قواعد خود بنائے گی جوڈیشل کمیشن کا ان قواعد میں کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اگر ججوں کے انتظامیہ کے ساتھ بیٹھنے کو عدلیہ کی آزادی کے منافی قرار دیا جائے تو کئی آئینی ترامیم کرنا پڑیں گی۔ چیف جسٹس اور صدر کے ایک دوسرے سے حلف لینے کو بھی ترک کرنا ہو گا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ ہم تقرری کے طریقہ کار کی بات کر رہے ہیں فرائض کا ادائیگی پر علیحدگی کا اختیار نہیں ہوتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے تمام جوڈیشل افسران کو انتظامی ذمہ داریوں سے واپس بلا لیا ہے جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ 1999ء سے 2005ء تک کے عدالتی فیصلے فوجی آمر دور میں دیئے گئے آج پارلیمنٹ آزاد ہے۔ کیا پارلیمنٹ کے بارے میں بدنیت اور اختیار کے بغیر ترامیم کرنے کی بات کہی جا سکتی ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ جب عدالت کہتی ہے کہ پارلیمنٹ ان معاملات میں ترمیم نہیں کر سکتی تو وہ ترامیم اختیار سے تجاوز ہیں۔ سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ آئینی ترامیم کا جائزہ عدلیہ کا اختیار ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جب اس حوالے سے ضیاء الرحمن کیس کے فیصلے کا حوالہ دیا تو جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس فیصلے کی تشریح یہ بنتی ہے کہ عدلیہ کو عام قانون کی طرح آئینی ترامیم کالعدم قرار دینے کا اختیار ہے۔ جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا کہ فوجی آمر کے اختیارات پر عدالت کی قدغن مختلف تناظر میں تھی آج ملک میں آزاد پارلیمنٹ ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا آئینی ترامیم کا خاتمہ عدلیہ کی جانب سے پارلیمنٹ کے اختیار پر تجاوز نہیں ہو گا۔ خواجہ حارث نے کہا کہ اگر کل پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے خاتمے کی ترمیم منظور کر لے تو کیا عدلیہ اسے منظور کر لے گی۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ سپریم کورٹ کا قیام آئین کے آرٹیکل 175 کے تحت ہوا جو پارلیمنٹ نے منظور کی اِس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدلیہ کی دیگر اداروں سے علیحدگی کا معاملہ بھی تو آئین نے ہی طے کیا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہر ادارہ آئین اور عوام کی منشاء کے تابع ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آرٹیکل 175 اے بھی منتخب پارلیمنٹ نے منظور کیا۔ یہ کسی آمر کی ترمیم نہیں، آپ اسے کیوں ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ کیا اتفاق رائے سے بنیادی حقوق کے خاتمے کی ترمیم کر لی جائے تو عوام کہاں جائیں گے۔ خواجہ حارث کے دلائل جاری تھے کہ عدالتی وقت ختم ہونے پر سماعت آج تک کیلئے ملتوی کر دی گئی۔ اے پی پی کے مطابق جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ قرارداد مقاصد میں موجود نکات صرف رہنما اصول وضع کرتے ہیں، امریکہ میں عدلیہ آزاد ہے لیکن وہاں ججوں کی تعیناتی کا کام پارلیمنٹ کرتی ہے اور وہاں جج بننے کی ایک امیدوار خاتون لیڈی ایلینا کو 7 گھنٹے تک سینٹ کے سوالوں کے جوابات دینا پڑے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ امریکہ میں نظام مختلف ہے ہمارے اوپر اس کا اطلاق نہیں ہوتا جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ویسے تو ہم ہر جگہ امریکہ کو ماڈل بناتے ہیں لیکن جہاں مخالفت کی بات ہو وہاں کہا جاتا ہے کہ امریکی نظام ہم سے مختلف ہے۔ پنجاب کے ایڈوووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہمیں عدالتی معاملات میں انتظامیہ کو کسی طرح بھی دخل اندازی کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے جبکہ عدلیہ کو اپنی آزادی کا بھرپور دفاع کرنا چاہئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قرارداد پاکستان ایک سیاسی دستاویز تھی جس میں بنیادی ڈھانچے کا تذکرہ موجود تھا۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی کی خبر