واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پاور ٹرائیکا نے پاکستان میں امریکی سفارت کاروں کا کردار محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-12-10, 05:24 AM   #1
پاور ٹرائیکا نے پاکستان میں امریکی سفارت کاروں کا کردار محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 09-12-10, 05:24 AM

ایک امریکی سفارتکار اپوزیشن اور اتحادیوں کو بھڑکا رہے تھے، انہیں واپس بھیجنے پر ہی وزیر داخلہ رحمن ملک مطمئن ہوئے

رپورٹ: حامد میر
اسلام آباد .... ویکی لیکس نے تمام سیاسی راز بے نقاب نہیں کئے۔ کئی راز اب بھی چند لوگوں کے دلوں اور انتہائی خفیہ فائلوں میں مقید ہیں اور یہ صرف اسی صورت میں ظاہر ہوسکتے ہیں جب یہ لوگ اپنی زبان کھولیں۔ ویکی لیکس نے انکشاف کیا کہ صدر آصف علی زرداری کو 2009ءمیں فوجی بغاوت کا خدشہ تھا اور انہوں نے امریکا کو اپنا آخری مسیحا سمجھا۔ پاکستان میں متعین اس وقت کی امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن صدر زرداری کی حمایت میں خفیہ مراسلے واشنگٹن بھیج رہی تھیں۔ لیکن ویکی لیکس نے اُس طوفان کا ذکر نہیں کیا جو اس وقت واشنگٹن اور پینٹاگون میں این پیٹرسن کے مراسلوں کی وجہ سے برپا ہوگیا تھا کیونکہ ان مراسلات میں پاکستان میں ممکنہ فوجی بغاوت کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ ان مراسلات کے بعد صدر بارک اوباما نے متعدد مرتبہ اپنے اعلیٰ فوجی کمانڈرز سے کہا تھا کہ وہ اس سلسلے میں جنرل کیانی سے بات چیت کرکے حقیقت کا پتا لگائیں۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ایڈمرل مائیکل مولن نے اپنے پاکستانی ہم منصب جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ایک نہیں بلکہ تین مرتبہ کسی بھی ممکنہ فوجی بغاوت کے متعلق دریافت کیا اور ہر مرتبہ انہوں نے جواب دیا کہ وہ کسی بھی بغاوت کا منصوبہ نہیں بنا رہے۔ ایک موقع پر ایڈمرل مولن نے واشنگٹن سے جنرل کیانی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ سمجھتی ہے کہ میرے اور آپ کے درمیان انتہائی قریبی تعلقات ہیں اور میں آپ کو اچھی طرح جانتا ہوں، براہِ کرم مجھے پیشگی طور پر بتادیں کہ آیا آپ کے کوئی سیاسی مقاصد ہیں۔ اس مرتبہ جنرل کیانی نے نرم لہجے میں جواب دیا کہ ”پریشان نہ ہوں! اگر پاکستان میں ایسا کوئی غیر معمولی اقدام ہوا تو سب سے پہلے آپ کو مطلع کیا جائے گا“۔ صورتحال صرف ایک ہی سال میں تبدیل ہوگئی۔ زرداری صاحب کی زیر قیادت حکومت نے 2010ءمیں امریکی سفارت کاروں پر شک کرنا شروع کردیا کہ حکومت مخالف اقدامات میں یہی لوگ ”ماسٹر مائنڈ“ ہیں۔ اس کے بعد صدر صاحب نے ستمبر 2010ءمیں اپنے وزیر داخلہ رحمن ملک سے کہا کہ وہ امریکی سفارت کار برائن ڈی ہنٹ کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کیونکہ وہ ان دنوں مختلف سیاسی شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے تھے۔ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) نے حکومت کو مطلع کیا کہ برائن ہنٹ نے پہلے قونصلر جنرل لاہور اور اس کے بعد قونصلر پولیٹیکل افیئرز کے طور پر اپنے عہدے کی مدت مکمل کرلی ہے۔ وہ جولائی میں امریکا روانہ ہوگئے تھے لیکن اس کے بعد اچانک پاکستان پہنچ کر انہوں نے سیاست دانوں اور صحافیوں سے ملاقاتیں شروع کردیں جس سے کئی لوگوں کے کان کھڑے ہوگئے۔ آئی بی اور آئی ایس آئی نے حکومت کو بتایا کہ برائن ہنٹ اپوزیشن جماعت کے سیاست دانوں حتیٰ کہ اتحادی جماعتوں کے ارکان کےساتھ وسط مدتی انتخابات کی ممکنات کے متعلق تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔ یہ بات سن کر ز رداری کیمپ میں اس قدر تھرتھلی مچ گئی کہ ایک صبح وزیر داخلہ رحمن ملک نے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کو برائن ڈی ہنٹ کی ”غیر سفارتی“ سرگرمیوں کے متعلق خط لکھ ڈالا۔ 48 گھنٹوں کے اندر ہی این ڈبلیو پیٹرسن نے رحمن ملک اور برائن ہنٹ کے درمیان ملاقات کا ا ہتمام کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رحمن ملک نے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کے سامنے دستاویزی ثبوت پیش کردیئے کہ برائن ڈی ہنٹ نہ صرف اپوزیشن ارکان بلکہ حکومتی اتحادیوں کو بھی حکومت کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔ رحمن ملک نے دعویٰ کیا کہ برائن ہنٹ نے حکومت میں ممکنہ تبدیلیوں کے معاملے پر بات چیت کی ہے اور یہ کام ان کے مینڈیٹ کا حصہ نہیں ہے۔ برائن ہنٹ نے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی کہ انہوں نے صرف اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات کی وجوہات جاننے کے معاملے پر ایم کیو ایم کے رہنماﺅں سے بات چیت کی تھی اور وہ حکومت کے خلاف کسی سازش میں شامل نہیں ہیں۔ رحمن ملک اس جواب پر مطمئن نظر نہ آئے۔ جس بات سے انہوں نے اطمینان محسوس کیا وہ یہ تھی کہ برائن ہنٹ کو واشنگٹن واپس بھیج دیا گیا۔ انتہائی مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر زرداری اور آرمی چیف جنرل کیانی کے درمیان مارچ 2009ءمیں کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھیں اور دونوں کے درمیان تعلقات کشیدہ تھے لیکن وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی سنجیدہ کوششوں کے نتیجے میں یہ غلط فہمیاں ختم ہوگئیں۔ نتیجتاً صدر مملکت نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ اب سب کچھ ٹھیک جا رہا ہے اور ایک دن وزیراعظم صاحب نے قوم کو یہ اعلان کرکے حیران کردیا کہ آرمی چیف جنرل کیانی کو ان کے عہدے کی مدت میں تین سال کی توسیع دی جا رہی ہے۔ یہ توسیع اس بات کا ثبوت تھی کہ 2010ءمیں صورتحال 2009ءکی صورتحال سے تبدیل ہوچکی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ایوان ِ صدر اور آرمی ہاﺅس کے درمیان تعلقات میں خلیج کو کم کرنے کےلئے حالیہ سیلاب کو ایک موقع کے طور پر استعمال کیا۔ نتیجتاً صدر مملکت اور آرمی چیف اس بات پر متفق تھے جب حکومت نے قبائلی علاقوں میں پاکستانی فوجیوں پر امریکا کے حملوں کے بعد نیٹو کی سپلائی بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایڈمرل مولن نے جنرل کیانی کے ساتھ اپنے ”ذاتی تعلقات“ استعمال کرکے صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کےلئے ایڑی چوٹی کا زور لگالیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ نومبر 2007ءکے بعد ایڈمرل مولن 20 مرتبہ پاکستان کا دورہ کرچکے ہیں اور اس عرصہ میں جنرل کیانی کے ساتھ ان کی 12 براہِ راست (One-on-One) ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔ کئی مرتبہ ان کی ملاقات میں نوٹنگ کرنے والا بھی نہ ہوتا تھا۔ نیٹو سپلائی لائن بند کئے جانے کے بعد ایڈمرل مولن نے متعدد مرتبہ جنرل کیانی سے بات کی لیکن جنرل کیانی چاہتے تھے کہ معافی مانگی جائے۔ پاکستان میں ٹرائیکا کے درمیان اتحاد کی طاقت نے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کو مجبور کردیا کہ وہ کھل کر پاکستان سے معافی مانگیں۔ یہ وہی پیٹرسن تھیں جو 2009ءمیں واشنگٹن کو خفیہ مراسلات بھیج کر یہ بتاتی تھیں کہ آرمی اور سویلین حکومت کے درمیان تعلقات اچھے نہیں ہیں لیکن اب 2010ءمیں وہ سب کاموں کےلئے معافی مانگ رہی تھیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم گیلانی ایک قومی مصالحت کے عظیم منصوبے کے متعلق صدر مملکت اور آرمی چیف کے ساتھ مشاورت کا منصوبہ بنا رہے ہیں لیکن ایک مرتبہ پھر نئے امریکی سفیر ڈاکٹر کیمرون منٹر ان کےلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ کیمرون منٹر کھل کر ریفارمڈ جنرل سیلز ٹیکس (آر جی ایس ٹی) کی حمایت میں بیانات دے کر مشکلات پیدا کر رہے ہیں؛ انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں کہ اپوزیشن جماعتیں ایسی پوزیشن میں نہیں کہ وہ اس ٹیکس کی حمایت کریں جس کا امریکا بھی حامی ہے۔ پاور ٹرائیکا نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان میں امریکی سفارت کاروں کے غیر منصفانہ کردار کو محدود کیا جائے اور 2011ءمیں اس نئی حکمت عملی سے حیران کن واقعات سامنے آئیں گے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 53
Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, پاکستانی, واقعات, واشنگٹن, وزیر, وزیراعظم, نظر, مکمل, موقع, منصوبہ, معلوم, انتظامیہ, اعلیٰ, جواب, خلاف, دریافت, زرداری, سیاست, سال, علی, صبح, صحافیوں, صدر, صدر زرداری, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کابینہ کی تحلیل کا فیصلہ، پاکستان3 غریب افریقی ممالک میں شامل ہوگیا گلاب خان خبریں 1 05-02-11 10:11 AM
صدر کا استثنٰی، پرانے عدالتی فیصلوں نے ثابت کردیا وزیراعظم غلط ہیں گلاب خان خبریں 0 26-09-10 03:26 AM
شمالی وزیرستان :عسکریت پسند وں کا فورسز سے نہ لڑنے کافیصلہ ابن جلال خبریں 1 17-10-08 06:27 PM
پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ کا فیصلہ 48 گھنٹے میں champion_pakistani کرکٹ 1 12-09-08 04:09 PM
وفاقی حکومت کابھارتی جیلوں میں 19پاکستانیوں کے پاگل ہونیکی تحقیقات کافیصلہ عبدالقدوس خبریں 0 18-04-08 08:02 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:59 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger