|
پاپ بینڈیک کا بیان عالمی امن کو تباہ اور صلیبی جنگ چھیڑنے کی کوشش ہے، صاحبزادہ ابو الخیر

12-01-11, 12:35 AM
کراچی، تحریک ناموس رسالت ﷺ کے صدر اور جمعیت علماءپاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے پاپ بینڈیک کا بیان عالمی امن کو تباہ کرنے کی سازش اور صلیبی جنگ چھیڑنے کی کوشش ہے۔ ناموس رسالت کی توہین پر پوری امت شدید غم وغصے میں ہے۔ پوپ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی بجائے عیسائی ممالک باالخصوص امریکہ اور برطانیہ میں اقلیتوں کی زبوں حالی پر توجہ دے۔ سلمان تاثیر کی بیٹی کے بیان کے بعد یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ سلمان تاثیر قادیانیوں کا نہ صرف حامی تھا بلکہ وہ پاکستانی آئین میں موجود ختم نبوت کی شقوں کو ختم کرنے کے در پے تھے۔ تحریک ناموس رسالت ﷺ کے تحت احتجاج میں مزید شدت پیدا کی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو جے یو پی کے سابق سربراہ علامہ شاہ احمد نورانی کی رہائشگاہ بیت الرضوان کلفٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعہ پر صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی، مرکزی جماعت اہلسنت کے سرپرست پیر میاں عبدالخالق بھرچونڈی شریف، پیر عبدالباقی ، جے یو پی کے رہنماءحلیم غوری، ہاشم صدیقی، عبدالرزاق سانگی، قاضی احمد نورانی، سید عقیل انجم قادری اور دیگر بھی موجود تھے۔
صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے پوپ بینڈیک کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس بیان کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پوپ بینڈیک کے اس بیان پر سختی سے نوٹس لیا جائے اور سفارتی بنیادوں پر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سلمان تاثیر کے حوالے سے پوپ بینڈیک کے ہمدردانہ بیان نے سلمان تاثیر کی حقیقت کو قوم کے سامنے کھول کر رکھ دی۔ اسی طرح ان کی بیٹی نے جس انداز میں اپنے باپ کے حقائق سے آگاہ کیا ہے اس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ سلمان تاثیر کون تھا اور کس کے کہنے پر وہ ناموس رسالت کے قانون کو ظالمانہ اور کالا قانون کہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ختم نبوت کا منکر کافر ہے اور جو ان کو کافر نہ سمجھے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کیا چاہتے ہیں اور اس ملک میں وہ کس طرح کا نظام چاہتے ہیں اس کا اظہار انہوں نے 24 دسمبر کے یوم احتجاج، 31 دسمبر کی ہڑتال اور 9 جنوری کے عظیم الشان جلسے کے ذریعے کیا ہے۔ 30 جنوری کو لاہور میں ایک مرتبہ پھر عاشقان رسول یہ ثابت کریں گے کہ یہ ملک عاشقان مصطفی کا ہے اور یہاں پر پوپ بینڈیک کا نظام نہیں بلکہ محمد مصطفی ﷺ کی شریعت کا نظام چلے گا۔ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے سلمان تاثیر کے قاتل کے حوالے حوالے سے مختلف علماءاور دینی اداروں اور شخصیات کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت کو انتباہ کیا ہے کہ وہ اس سے گریز کرے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ دینی قوتیں متحد ومنظم ہوجائیں اور اسی میں ہم سب کی بہتری ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ میڈیا کے لوگ ایسے پروگرام اور کردار ادا کرنے سے گریز کرے جس سے عوام مشتعل ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت ﷺ کے جلسے کو مناسب کوریج نہ دینا بعض میڈیا کے اداروں کا افسوسناک عمل ہے۔ میڈیا سے گزارش ہے کہ وہ اس عمل کو ترک کرتے ہوئے ناموس رسالت کی تحریک کے شرکاءکو مناسب کوریج دیں۔
پاپ بینڈیک کا بیان عالمی امن کو تباہ اور صلیبی جنگ چھیڑنے کی کوشش ہے، صاحبزادہ ابو الخیر
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|