وائٹ ہاؤس کے ایک اعلٰی عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کو اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا علم نہیں تھا۔
اتوار کو ایک امریکی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے قومی سلامتی کے مشیر ٹام ڈونیلن کا کہنا تھا کہ تاحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا ہے کہ پاکستانی حکام جانتے تھے کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں قیام پذیر ہے۔
’میں آپ کو واضح طور پر بتا سکتا ہوں کہ میں نے ایسا کوئی ثبوت نہیں دیکھا جس سے یہ پتہ چلے کہ ان (پاکستان) کی حکومت، فوج یا خفیہ قیادت بن لادن کے بارے میں پہلے سے جانتی تھی‘۔
تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود پاکستان کو اپنے ملک میں القاعدہ رہنما کے ’مددگار نیٹ ورک‘ کے بارے میں ضرور تحقیقات کرنی چاہیئیں۔
میں آپ کو واضح طور پر بتا سکتا ہوں کہ میں نے ایسا کوئی ثبوت نہیں دیکھا جس سے یہ پتہ چلے کہ ان (پاکستان) کی حکومت، فوج یا خفیہ قیادت بن لادن کے بارے میں پہلے سے جانتی تھی۔ ٹام ڈونیلن
ٹام ڈونیلن کا کہنا تھا کہ ’ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے لیے کسی قسم کا مددگار نیٹ ورک تھا۔ ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ لگے کہ حکومت اس بارے میں جانتی تھی لیکن انہیں اس کی تحقیقات کرنی چاہیئیں‘۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی مشیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایمن الظواہری جنہیں القاعدہ کا دوسرا سینئر ترین رہنما سمجھا جاتا ہے ’ویسے رہنما نہیں ہیں جیسے کہ اسامہ بن لادن تھے۔ ہمارے اندازوں کے مطابق وہ قیادت کے معاملے میں اسامہ بن لادن سے کہیں پیچھے ہیں‘۔
ٹام ڈونیلن نے کہا کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت القاعدہ کے لیے بڑا جھٹکا ہے اور انہیں اپنی قیادت کا معاملہ حل کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا‘۔
دریں اثناء اقوامِ متحدہ کے ایک اعلٰی اہلکار نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے جڑی تمام تفصیلات سامنے لائے۔
ماورائے عدالت ہلاکتوں کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے کرسٹوف ہینز کا کہنا ہے کہ اس بارے میں تاحال ابہام موجود ہے کہ آیا اسامہ بن لادن کو گرفتار کیے جانے کی بجائے ہلاک کیا جانا ضروری تھا یا نہیں۔
اس سوال پر امریکی کانگریس کے سیئنر رکن اور ایوانِ نمائندگان کی ہوم لینڈ سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ پیٹر کنگ نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کا آپریشن بالکل قانونی تھا اور اس معاملے پر زیادہ سوچ بچار کرنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
خبر