واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا امریکی پالیسی سے منحرف ہونے کا اشارہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-12-10, 04:34 AM   #1
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا امریکی پالیسی سے منحرف ہونے کا اشارہ
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 19-12-10, 04:34 AM

عوام کی نمائندہ منتخب پارلیمنٹ کرپٹ ایگزیکٹیو اور خودپسند اسٹیبلشمنٹ کے سامنے بے بس
پارلیمان کی 2سال قبل منظور قرارداد پر عملدرآمد اور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کا وقت آگیا

اسلام آباد (تجزیہ:انصار عباسی) امریکی صدر بارک اوباماکی جانب سے پاکستان آرمی سے ’ڈو مور‘ کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے 9/11 کے بعد واشنگٹن کی ہدایت کردہ پالیسی سے منحرف ہونے کے واضح اشارے سامنے آ رہے ہیں۔ یہ پالیسی پاکستان کےلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوئی ہے۔ شاید سخت وقت گزار کر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو احساس ہو گیا ہے کہ اپنے مفادات کی قیمت پر امریکی مفادات کے تحفظ کےلئے آنکھیں بند کر کے عمل کرنے سے پاکستان کو کتنا شدید نقصان پہنچا ہے۔ آئین کے تحت عوام کی نمائندگی کرنے والی پارلیمان نے بہرحال اس بے رحم ”دہشت گردی کےخلاف جنگ“ کےخلاف 2سال قبل فیصلہ 22اکتوبر 2008ءکو دیدیا تھا۔ عوام کی مشترکہ آواز نے فوجی آپریشن کی بجائے مذاکرات کی راہ اپنانے کو کہا اور کسی بھی غیرملکی جارحیت اور سرحدی خلاف ورزی (ڈرون حملوں) کو ہر صورت میں ناقابل برداشت قرار دیا۔ بہرحال پارلیمان کی قرارداد سے کرپٹ ایگزیکٹیو اور خود پسند اسٹیبلشمنٹ کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ پس منظر میں ہونے والے مذاکرات میں حکمران ڈرون حملوںکی ذمہ داری اسٹیبلشمنٹ پر ڈال رہے ہیں۔ عمومی طور پر یہ گفتگو اور بحث بھی کی گئی کہ پاکستان آرمی جی ایچ کیو ”دہشت گردی کےخلاف“جیسے معاملات پر واشنگٹن سے براہ راست رابطے میں ہے۔ یہاں تک کہ حزب اختلاف جیسے پاکستان مسلم لیگ (ن) کو بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ ایگزیکٹو کے ہاتھوں میں کچھ نہیں ہے۔ لیکن وکی لیکس کی جانب سے امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے خفیہ کیبلز اور باب ووڈ ورڈز کی ”اوباماز وار“ میں پاکستانی اعلیٰ قیادت اور ساتھ ہی ڈورن حملوں کا اصل چہرہ سامنے آگیا۔ پارلیمانی طرز حکمرانی میں، جیسا کہ پاکستا ن میں رائج ہے، صدر اور وزیراعظم کو پارلیمان کا حصہ سمجھا جاتاہے۔ پارلیمان کو ایگزیکٹیو پر فوقیت حاصل ہے۔ یہ قانون سازی کرتی ہے، اہم پالیسیاں بناتی ہے، راہیں متعین کرتی ہے اور ایگزیکٹو کو بتاتی ہے کہ ملک و قوم کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے معاملات کیسے آگے بڑھائے جائیں لیکن پاکستان میں ایگزیکٹیو پارلیمان کو یکسر نظرانداز کرتے ہیں اور بجائے اسکے کہ وہ عوام سے مزید طاقت حاصل کریں وہ اسٹیبلشمٹ یا غیرملکی طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بن جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ پارلیمان اور ایگزیکٹو کی کمزوری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ 9/11کے بعد اختیا رکرنےو الی پالسیاںجن میں یکے بعد دیگرے ڈرون حملے ، فوجی آپریشن، ملکی پارلیمان نے 15روزہ ”ان کیمرہ“ سیشن میں 14نکاتی قراردادکی منظوری دی جس میں قومی سلامتی کی حکمت عملی پر فوری نظر ثانی اور ملک میں امن و استحکام کی بحالی کےلئے پالیسی دوبارہ مرتب کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ دیگر نکات کے ساتھ قرارداد میں یہ منظور کیا گیا کہ (1) ہمیں قومی سلامتی کی حکمت عملی پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کےلئے نیا طریقہ اپنایا جائے تاکہ ملک اور خطے میں استحکام اور امن قائم ہو اور ساتھ ہی خودمختار خارجہ پالیسی اپنائی جائے۔ (2)انتہا پسندی اور دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کےلئے اسکے تمام حقیقی اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کئے جائیںاور مفاہمت پیدا کی جائے۔ (3)قوم دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرتی ہے اور وہ اس بڑھتی ہوئی عفریت پر قابو پانے کےلئے متحد ہے،کسی بھی فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد کو جگہ نہ دی جائے اور دہشت گردی خواہ کسی بھی شکل میں ہو اس کا جڑسے خاتمہ ہونا چاہئے۔ (4)پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سا لمیت کا دفاع ہر صورت میں یقینی بنایا جائےگا۔ قوم کسی بھی قسم کی دراندازی اور سرحدی خلاف ورزی کےخلاف متحد ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اُن سے موثر انداز میں نمٹے۔ (5)مذاکرات اب پہلی ترجیح ہونا چاہیے جوکہ کسی بھی تنازع سے نمٹنے اور اسے حل کرنے کا بہتر ہتھیار ہے۔ وہ تمام عناصر جو پاکستان کے آئین اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں وہ سب مذاکرت کی حوصلہ افزائی کے حق میں ہیں۔ عوامی خواہش (پارلیمان)کے برعکس اور شاید قرارداد پاس کئے جانے کے چند ہی ہفتوں میںصدر نے ڈرون حملوں کی حمایت کی، یہ وہی صدر ہیں جن کو اپنے وزیر اعظم کی جانب سے پارلیمان کی بالادستی کے حوالے سے کہی گئی باتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے سینئر رہنماﺅںکی ہلاکت کے حوالے سے باب ووڈ ورڈز نے صدر کے حوالے سے لکھا ہے کہ ”صدر زرداری نے امریکیوں سے کہاکہ (القاعدہ کے) سینئرز کو مار دو“۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ ”شہریوںکی ہلاکتوں سے آپ امریکیوںکو پریشانی ہوتی ہے، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا“۔ اس چونکا دینے والے بیان کے حوالے سے ووڈ ورڈز نے کہاکہ ”زرداری نے سی آئی اے کو ایک اہم سبز بتی دکھا دی تھی۔۔۔“ حالیہ وکی لیکس نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم گیلانی نے کس طرح پارلیمان کو دھوکہ دیا، یہ وہی پارلیمنٹ ہے جس نے اُنہیں ”متفقہ وزیراعظم“ منتخب کیا تھا۔ امریکیوںکے ساتھ ہونےو الی ایک ملاقات میں وزیرداخلہ رحمن ملک نے باجوڑ آپریشن کے بعد ڈرون حملے روکنے کی بات کی لیکن گیلانی نے رحمن ملک کے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہ ”مجھے ان حملوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب تک وہ مطلوب افرادکو نشانہ نہیں بنا لیتے، ہم قومی اسمبلی میں اس پر احتجاج کریں گے اور پھر نظرانداز کر دیں گے“۔ ان دو انکشافات سے صدر اور وزیراعظم کے بیانات کے کھوکھلے پن کا پتہ چلتاہے اور ا ن کے دوہرے چہرے کا پتہ چلتاہے اور عوام کے سامنے پارلیمنٹ کی بالا دستی اور ڈرون حملوںکے خلاف بیانات کے حوالے سے جھوٹ کا پتہ چلتاہے۔ ان انکشافات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایگزیکٹو نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ ہے جو کہ ان ڈرون حملوں کی اجازت دینے کی ذمہ دا رہے۔ حالیہ میڈیا میں آنے والی رپورٹس سے پتہ چلتاہے کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اب یہ چاہتی ہے کہ پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے روکے جائیںساتھ ہی وہ شمالی وزیرستان میں واشنگٹن کے بھرپور دباﺅ کے باوجود فوجی آپریشن شروع کرنے میں ہچکچا رہے ہیں۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا نام لئے بغیر ایک انگلش روزنامے نے حال ہی میں رپورٹ جاری کی ہے کہ اعلیٰ ملٹری کمانڈر نے صحافیوں کے ایک گروپ کوپس منظر میں ہونے والی ایک بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان امریکا کی سب سے زیادہ مراعات حاصل کرنے والی ریاست سے سب سے زیادہ دھمکایا جانے والے ملک بن چکا ہے۔ جنرل کیانی کی جانب سے بارک اوباما کودیے گئے 14 صفحات پر مشتمل پالیسی پیپر میں واشنگٹن کو آگاہ کیا گیا ہے کہ امریکا پاکستان میں ایسا انتشار پید ا کرنے کا خواہشمند ہے جس کو کنٹرول کیا جا سکے اور امریکی حکمت عملی کا اصل مقصد پاکستان کو جوہری صلاحیت سے محروم کرنا ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کے حوالے سے ملٹری کی اپروچ کے حوالے سے سینئر کمانڈر نے تفصیل سے بتایا کہ (امریکا) نے قابل فہم وجوہات کی بناءپر اپنی توجہ شمالی وزیرستان پر بڑھا دی ہے۔ لیکن ایک عہدیدار نے کہا یہاں پریشانی کی ایک مقامی وجہ یہ بھی ہے کہ ’پاکستان میں حملہ کرنے والے دہشت گردوںکی اکثریت کا تعلق شمالی وزیرستان ہی سے ہوتا ہے۔ تو سوال یہ پید اہو تا ہے کہ اگر ابھی نہیں تو اسے کب فوجی کارروائی سے قابو کیا جائے گا۔©‘بہرحال ان 3عوامل کی بات کرتے ہوئے ایک عہدیدار نے شمالی وزیرستان ایجنسی میں فوری فوجی کارروائی کے امکانات میں کمی کی جانب اشارہ کیا ہے۔ پہلا کہ جنوبی وزیرستان میں بحالی کا کام ہونا ہے۔ دوسرا یہ کہ ملک کو شمالی وزیرستان ایجنسی شدید ممکنہ رد عمل کے لئے تیاری کرنا ہوگی، جوکہ شہروں میں خود کش حملوںاور اندرون ملک بے گھر افراد کی صورت میں سامنے آئےگا۔ تیسرا یہ کہ اس امر پر سیاسی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ جب ان کو بتایا گیا کہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ کسی نئے اتفاق رائے کی ضرورت نہیں کیونکہ جنوبی وزیرستان آپریشن کے لئے کیا جانے والے اتفاق رائے شمالی وزیرستان کے معاملے میں بھی قابل عمل ہوگاتو کمانڈر نے نہایت ہوشیاری سے جواب دیا کہ ’میں ایسا کوئی قد م نہیں اٹھاﺅں گاجب تک شمالی وزیرستان کے معاملے میں سیاسی اتفاق رائے نہ ہو جائے۔‘ایک اور میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ڈرون حملوں کے خلاف کئے جانے والے متاثرہ خاندانوں اور وکیلوں کے احتجاج اور پریس کانفرنسوں کو بھی اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی حاصل تھی۔جب کہ بعض مبصرین ڈرون حملوںکے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ پر موقف کی تبدیلی پر تنقید کر رہے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب پارلیمان، ایگزیکٹیو اور اسٹیبلشمنٹ میں کس کی سنی جائے اور کس کا احترام کیا جائے۔جب پارلیمان ہی عوام کی حقیقی آواز ہے اور وہ فوجی آپریشن،غیر ملکی در اندازی اور سرحدوں پر چڑھائی کی مخالفت کر چکی ہے اور مسئلے کے حل کے لئے مذاکرات کی تجویزدے چکی ہے توپھر ایگزیکٹیو یا اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے غیر ملکیوں سے ملکی سا لمیت کے خلاف کسی خفیہ معاہدے کی کیا قانونی اور اخلاقی حیثیت رہ جاتی ہے۔یقینی طور پر کوئی نہیں۔پارلیمنٹ کی متفقہ رائے کو دبانا نہ صرف غیر آئینی بلکہ خود مختاری سے مذاق ہے اور عوام کے منتخب نمائندوںاور اداروں سے کھیل کے مترادف ہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت سے توقع تھی کہ وہ پارلیمان کی قرارداد پر عملدرآمد کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ایگزیکٹیو کے ساتھ ساتھ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے بھی واشنگٹن کے ہاتھوںمجبور ہوکر کئی غلطیاں کی ہیں۔اب یہ شمالی وزیرستان میں آپریشن سے انکار اور ڈرون حملوں کو روکنے کی وجہ تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور شاباشی دینی چاہیے کہ اب آپ واشنگٹن کے وفادار نہیں ہیں؟فوجی اسٹبلشمنٹ جو آج سوچ رہی ہے اور اس کا موازنہ اس سے کر رہی ہے جس کا مطالبہ پارلیمان نے 22اکتوبر 2010کو کیا تھاا س سے سیاسی قیادت اور فو ج کے موقف میں ہم آہنگی کا اظہار ہوتا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے بشمول فوجی آپریشن خواہ وہ بلوچستان میں ہو یا قبائلی علاقوں میں، لاپتہ افراد کا معاملہ ہو، لال مسجد کا قتل عام، پاکستانیوں کی امریکیوںکو حوالگی اور ماورائے عدالت قتل۔ 9/11کے بعد اختیار کی جانےو الی پالیسیوں اور مسائل کا اپنے طور پر حل تلاش کرنے سے انتہا پسندی پر قابل پانے اور اسے ختم کرنے میںمدد ملے گی اور بڑھتے ہوئے دہشت گردی کے واقعات بھی روکنے میں مدد ملے گی۔سیاسی حل اور مذاکرات کو فوجی آپریشن پر ترجیح دی جائے کیونکہ فوجی کارروائی کے اپنے مضمرات ہوتے ہیں۔پارلیمان کو ترجیح دی جائے اور ایگزیکٹیو اور اسٹیبلشمنٹ اس کی بات سنیں۔جس پر2سال قبل عملدرآمد نہ ہوسکاآج اس پر اس کی روح کے مطابق عمل کیا جائے کیونکہ یہ عوام کی خواہش ہے اوراس کا احترام کیا جانا چاہیے اور یہ ہماری گمشدہ خود داری ، خود مختاری اور آزاد خارجہ پالیسی کے لئے انتہائی اہم ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 126
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
پرانا 19-12-10, 06:45 AM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,187
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئرنگ کا شکریہ بھائی جان
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-12-10, 09:16 AM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,650
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ ڈو مور سے زیادہ گو مور والی بات ہے۔۔۔ ابھی ابھی پاکستانی سیاستدان اور اسٹیلبشمنٹ ہالبروک کے مرنے کے بعد یتیم ہوئے ہیں۔۔ یہ انوکھلے لاڈلے کھیلن کو ایک اور باپ مانگ رہے ہیں۔۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 19-12-10, 10:09 AM   #4
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,382
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ بے چارے کہاں جائیں گے امریکہ سے بھاگ کر۔ اگر سر انکار میں ہلائیں گے تو سر کٹوا لیں گے۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-12-10, 04:22 AM   #5
Senior Member
 
گلاب خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
کمائي: 94,270
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,237 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر کٹوانا ہوتا تو کچھ مسئلہ نہ تھا وہ تو اس لئے ڈرتے ہیں حکومت کے لئے پھر دس بارہ سال انتظار کرنا پڑے گا۔
گلاب خان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
9/11, پاکستان, پاکستانی, واقعات, واشنگٹن, وزیراعظم, نیا طریقہ, مسائل, مسجد, آپریشن, آج, انگلش, احتجاج, اعلیٰ, تلاش, جھوٹ, جواب, حل, روزہ, زرداری, سال, عدالت, صحافیوں, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ریمنڈ ڈیوس معاملہ، پاکستان کی موجودہ پالیسی بہت سوچ سمجھ کر وضع کی گئی گلاب خان خبریں 0 14-02-11 05:32 AM
برطانیہ پاکستان کےلئے ویزہ پالیسی میں نظر ثانی محمدعدنان خبریں 32 23-10-09 08:51 PM
سڈل نے سیکڑوں کانسٹیبلز بھرتی کرنیکی جمالی کی فرمائش مسترد کر دی تھی عبدالقدوس خبریں 0 14-04-08 09:18 AM
پاکستانی شائقین کرکٹ کےلئے ویزا پالیسی کا اعلان محمدعدنان کرکٹ 0 01-11-07 11:05 AM
اوباما کا پاکستان سے متعلق بیان امریکہ کی پرانی پالیسی ہے پاکستانی خبریں 0 10-08-07 05:20 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 12:00 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger