پاکستانی روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی کے بعد امریکی ڈالر کی قیمت اٹھاسی روپے پینتالیس پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ دو روز سے روپے کی قدر میں ممکنہ کمی کا رجحان دیکھا جا رہا تھا۔
تجزیہ نگار محمد سہیل ڈالر کی قیمت میں اضافے کی دو وجوہات بتاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت، سری لنکا اور دیگر ایشیائی ممالک میں بھی ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی گر رہی ہے، یہ سارے ممالک یورپ اور امریکہ کو اپنی مصنوعات برآمد کرتے ہیں۔
اگر پاکستانی کرنسی کی قدر کم نہ ہوتی تو پاکستان کی برآمدات کو نقصان ہوسکتا تھا، اور سب سے زیادہ منفی اثرات ٹیکسٹائل کی صنعت پر پڑنے کا امکان تھا۔‘
محمد سہیل کے مطابق کرنسی کے کرنٹ اکاؤنٹس کا خسارہ پچھلے سال کے مقابلے میں بڑھ رہا ہے اور حکومت کے مالی خسارے میں اضافہ ہونے کے سبب غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کم ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال جولائی میں پاکستان میں زرِمبادلہ کے ذخائر اٹھارہ عرب ڈالر سے بڑھ گئے تھے جوکہ ایک ریکارڈ اضافہ تھا۔ اس ہفتے یہ ذخائر سولہ عشاریہ چھیانوے عرب ڈالر تک گر گئے ہیں۔
حکومتِ پاکستان پر اس وقت تقریباً ساٹھ عرب ڈالر کے غیر ملکی قرضے واجب لادا ہیں۔ محمد سہیل کے مطابق روپےکی قدر میں کمی کے باعث بیرونی قرضوں مجموعی قیمت بڑھ جاتی ہے اور ان کی ادائیگی میں بھی مشکلات ہوتی ہیں مگر حکومت کو کبھی کبھی ایسے مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔
پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی خرید اور فروخت محدود ہے۔ تجارت اور دیگر لین دین بینکوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ فاریکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما ملک بوستان کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی سپلائی اس کی طلب سے بڑھ کر ہے اور ایکسچینج کمپنیاں خود بینکوں کو ڈالر فروخت کر رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی خرید اپنی عمومی سطح کا صرف بیس فیصد ہے جوکہ وہ ہی لوگ خریدتے ہیں جو سیاحت یا علاج کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں یا پھر اپنے بیرونِ ملک پڑھنے والے بچوں کو فیس بھیجتے ہیں ۔
یاد رہے کہ رواں سال میں ڈالر کے مقابلے میں روپےکی قدر میں مجموعی طور پر تین روپےکمی ہوئی ہے۔
ح