پاکستان کو توقع ہے کہ روس کے ساتھ سالانہ تجارتی حجم کو تین کروڑ ڈالر سے بڑھا کر ایک ارب ڈالر کیا جا سکے گا، صدر پاکستان کے پریس سیکرٹری فرحت اللہ بابر نے دوشنبہ میں ہونے والی پاکستان، روس، افغانستان اور تاجکستان کے سربراہوں کی ملاقات کے نتائج اخذ کرتے ہوئے کہا۔ ان کے مطابق صدر روس دمیتری میدویدیو سے ملاقات میں صدر پاکستان آصف علی زرداری نے تجارت، سائیس و ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون باہمی بڑھائے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ فرحت اللہ خان بابر نے یہ بھی کہا کہ آصف علی زرداری نے پاکستان اور روس کے وزرائے خارجہ کے مابین مستقل رابطہ قائم رکھنے کی تجویز پیش کی ہے۔ دونوں وزراء اسلام آباد اور ماسکو میں باری باری ملاقاتیں کر سکتے ہیں تاکہ دوطرفہ اشتراک عمل کو تقویت پہنچائیں۔
فرحت اللہ خان بابر کے مطابق صدر پاکستان نے ٹرانس افغان گیس پائپ لائن کے پروجیکٹ، تیل و گیس کے ذخائر کے استعمال اور پن بجلی گھروں کی تعمیر سے وابستہ علاقائی منصوبوں میں روس کی دلچسپی پر اطمینان کا اظہار کیا۔ روس کے رہنما سے ملاقات میں آصف علی زرداری نے تجویز پیش کی کہ روسی بینک پاکستان میں اپنے نمائندہ ادارے کھولیں۔ یہ بھی تجویز پیش کی گئی کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کا سسٹر سٹی قرار دیا جائے جس سے دوطرفہ ثقافتی تعاون میں بہت پیش رفت ہوگی۔
ماخذ:
صدائے روس