واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پاکستان ریلوے کے ایک سو پچاس سال

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-05-11, 10:20 PM   #1
پاکستان ریلوے کے ایک سو پچاس سال
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 20-05-11, 10:20 PM

علی حسن

حکومت برطانیہ نے ڈیرھ سو برس قبل کراچی اور کوٹری کے درمیان ریل کی پٹری بچھا کر تیرہ مئی سنہ اٹھارہ سو اکسٹھ کو ریل گاڑی چلانا شروع کی تھی۔

کراچی اور کوٹری کے بعد کوٹری اور حیدرآباد کے درمیاں بہنے والے دریا سندھ پر پل کی تعمیر کی گئی اور ریل کی پٹری کا جال بچھایا گیا۔ بڑی لائن کے ساتھ ساتھ ملک کے تمام صوبوں کے مختلف علاقوں میں چھوٹی لائن بھی بچھائی گئی۔

مقصد صرف یہ تھا کہ بیک وقت مسافر اور مال گاڑی چلائی جا سکے اور پھر کراچی کو پشاور سے جوڑ دیا گیا۔

ڈیڑھ سو برس قبل انگریز سرکار نے عوام کو سفر کی جو سہولت فراہم کرنے کا آغاز کیا تھا اس میں اضافہ اور ترقی کے بجائے تنزلی ہوتے ہوتے صورتحال ایسی بن گئی ہے آج کے حکمران عوام سے یہ سہولت بھی چھینے پر تلے ہوئے ہیں۔

مرکزی ریلوے لائن کے علاوہ چھوٹے چھوٹے دیہاتوں اور علاقوں میں بھی ریل کی پٹری بچھائی گئی۔

اکثر مقامات پر تو چھوٹی لائن بچھائی گئی اور ریلوے سٹیشن تعمیر کیے گئے۔ حد تو یہ کہ ڈھورونارو جیسے دور افتادہ علاقے میں بھی ریل کی پٹری موجود ہے۔ ریل کے سفر کی سہولت ہر ایک علاقے میں لوگوں کو حاصل تھی۔

ریل میں اکثر و بیشترسفر کرنے والے عبدالغنی کہتے ہیں کہ ریل گاڑیوں کے بند کیے جانے کے بعد سندھ کے اکثر علاقے ریل کے سفر کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔

ریلوے کے حکام نے ریل گاڑیوں کو خسارے سے نجات دلانے کے لئے اقدامات کرنے کی بجائے ریل گاڑیاں ہی بند کرنا شروع کردی ہیں۔ اس فیصلے سے وہ تمام لوگ نالاں ہیں جو آج بھی ریل میں سفر کو یہ ترجیح دیتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ پہلے بڑی سہولت اور آسانی تھی۔کم پیسوں میں لوگ دور دراز کے علاقوں تک سفر کر لیا کرتے تھے۔ایک دور میں لوگ ریل گاڑی کی آمد سے وقت کا تعین کرتے تھے۔

’ریل گاڑی میں گورنر جنرل، صدور، وزیر اعظم اور وزراء حضرات اور افسران تواتر کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔سندھ ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے اکثر علاقوں میں لوگ صبح ریل کے ذریعہ ملازمت یا کاروبار کے لیے جایا کرتے تھے اور شام کو ریل گاڑی کے ذریعہ ہی لوٹ آیا کرتے تھے ۔ اب وہ سہولتیں کہاں۔‘

حیدرآباد ریلوے سٹیشن پر موجود معمر قلی خوشحال خان سن انیس سو پینسٹھ سے کام کر رہے ہیں۔

خوشحال خان نے ریل کا اچھا وقت دیکھا ہے، وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے صدر ایوب خان اور ان کے وزراءکو گزرتے دیکھا ہے۔

ایک اور قلی منیر کا کہنا ہے کہ انہیں پچاس سال ہو گئے ہیں۔ اب تو وہ عادت کے طور پر سٹیشن پر آ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ انہوں نے مادرِ ملت، سکندر مرزا او دیگر آکابرین کو سفر کرتے دیکھا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اعلیٰ شخصیات کے لیے ریل گاڑی کے ساتھ علیحدہ ڈبہ لگایا جاتا تھا جسے سلون کہا جاتا تھا جو ہر سہولت سے مزین ہوتا تھا۔

منیر کی جوانی کے زمانے میں قلی کو ایک پھیرے کی اجرت ایک آنہ ملا کرتی تھی۔

آج ریلوے کے حکام نے ریل گاڑیوں کو خسارے سے نجات دلانے کے لیے اقدامات کرنے کی بجائے ریل گاڑیاں ہی بند کرنا شروع کردی ہیں۔ اس فیصلے سے وہ تمام لوگ نالاں ہیں جو آج بھی ریل میں سفر کو یہ ترجیح دیتے ہیں۔

ضلع عمرکوٹ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر چھوٹے قصبے ڈھورو نارو کا ریلوے سٹیشن موجود ہے۔ سہراب نوہڑی آج بھی ریل سے ہی سفر کرتے ہیں اور ریل کے سفر کو بس کے مقابلے میں سہولت قرار دیتے ہیں۔

عبدالشکور کہتے ہیں کہ شالیمار، تیز رو، چناب وغیرہ بند کر دی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گاڑیوں میں جگہ نہیں ملتی ہے، ٹکٹ نہیں ملتا ہے لیکن پھر بھی گاڑیوں کو خسارے کے نام پر بند کیا جا رہا ہے۔

مسافر بند کی گئی ریل گاڑیوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ ریل کے کرایہ میں کمی اور ریل کے عملے میں موجود بدعنوان افسران کو فارغ کرنے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں تاکہ انہیں سفر کا یہ ذریعہ تمام سہولتوں سمیت دوبارہ حاصل ہو جائے۔
‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬ - ‮ریلوے کے ایک سو پچاس سال‬
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 184
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
فرحان دانش (22-05-11)
پرانا 22-05-11, 05:11 PM   #2
Senior Member
 
فرحان دانش's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,784
کمائي: 41,195
شکریہ: 2,665
1,640 مراسلہ میں 3,770 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ریلوے کی تباہی میں اس کے ملازمین کا بھی بہت بڑا کردار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فرحان دانش آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-05-11, 08:28 AM   #3
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,494
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پاکستان کی ٹرین میں بیٹھ کر ” قبر “ کا منظر آنکھوں کے سامنے گھومتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
history, pakistan, کلومیٹر, کراچی, پشاور, وزیر, آج, اعلیٰ, حضرات, خان, سفر, سال, شام, عوام, علی, علیحدہ, علاقے, عملے, عمرکوٹ, عادت, صوبوں, صورتحال, صبح, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سو بوریاں سو فقیروں میں ! نورالدین آئیے ذہانت آزمائیے 14 21-04-11 12:44 AM
چند آنسو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیپ میری ڈائری 3 29-12-10 09:00 AM
بپاشا باسو واکاواکا پر پرفارم کرنے کی خواہشمند جاویداسد فلمی دنیا 0 11-07-10 05:48 PM
مظہر کلیم ایم اے کے سو سے زائد ناول عقرب کتاب گھر 94 05-07-09 04:02 PM
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے۔ ۔ ۔ Zullu230 شعر و شاعری 2 30-07-07 10:36 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:49 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger