امریکا ڈرون حملوں کے نگرا ن کی شناخت ظاہر ہونے کا ذمہ دارآئی ایس آئی کو سمجھتا ہے
جنرل پاشا کیخلاف امریکا میں مقدمے کا سی آئی اے چیف کیخلاف مقدمہ سے کوئی تعلق نہیں، پاکستانی حکام
اسلام آباد (اظہر سید/خبرنگار خصوصی)پاکستان سے امریکی سی آئی اے کے سٹیشن چیف کی واپسی سے دنیا کی دو بڑی خفیہ ایجنسیوں میں اندرون خانہ جاری کشمکش ظاہر ہو گئی ہے۔ امریکی حکام پاکستان میں سی آئی اے چیف کی شناخت ظاہر ہونے کا ذمہ دار آئی ایس آئی کو سمجھ رہے ہیں جبکہ خفیہ ایجنسیوںکے معاملات کے ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی سی آئی اے منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد میں آئی ایس آئی سے بہت پیچھے ہے اور امریکی سی آئی اے افغانستان میں اپنے مرکز میں ایک خودکش حملہ آور کو لے آئی تھی جس میں سی آئی اے کے سات اعلیٰ اہلکارمارے گئے تھے جبکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں خفیہ ایجنسیوں کے حکام کوئٹہ کے ایک دکاندار کو طالبان کا مرکزی رہنما سمجھ کر مذاکرات کرتے رہے اور بھاری رقوم بھی دیتے رہے پاکستانی حکام اس نظریہ سے متفق نہیں کہ گزشتہ ماہ نیویارک کی ایک عدالت میں آئی ایس آئی کے چیف جنرل احمد شجاع پاشا کے خلاف ممبئی حملوں کے حوالہ سے مقدمہ کا اندراج پاکستان کی ایک عدالت میں سی آئی اے کے سٹیشن چیف کے خلاف دائر مقدمہ سے کوئی تعلق ہے شمالی وزیرستان کے ایک مقامی قبائلی نے ڈرون حملے میں اپنے بھائی اور بیٹے کی شہادت پر پاکستان میں سی آئی اے کے اسٹیشن چیف کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں میں مکمل تعاون ہوتا ہے اور اسی تعاون میں جان بوجھ کر کسی غلطی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہوتی ہے پاکستان میں سی آئی اے چیف امریکی سفارتخانے میں ملٹری اتاشی فوجی کمانڈر کے بظاہر عہدے پر تھے۔ تاہم حقیقتاً وہ قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے نگر ان تھے۔بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ستمبر کے مہینے میں پاک افغان سرحدوں پر پاکستانی سرزمین پر امریکی حملہ میں تین پاکستانی فوجیوں کی شہادت حقیقتاً سی آئی اے اور آئی ایس آئی میں عدم اطمینان کا باعث بنی تھی۔ پاک امریکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ میں شرکت کیلئے جانے والے ایک اعلیٰ فوجی وفد کی ایک امریکی ائیرپورٹ پرسکرننگ کا معاملہ بھی عدم اطمینان کی وجہ سے تھی۔جب پاکستان کا فوجی وفد اپنا دورہ ختم کرکے واپس آگیا تھا دونوں خفیہ ایجنسیوں کی کشمکش میں آئی ایس آئی کا پلڑا ہمیشہ بھاری رہا ہے۔ جنرل اختر عبدالرحمان اور جنرل حمید گل کے زمانہ سے ہی آئی ایس آئی اپنے تمام آپریشن اور اقدامات ملک کے بہترین مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کرتی آئی ہے۔ جنرل احمد شجاع پاشا کا دور بھی اس پالیسی کا ہی تسلسل ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی