واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پاکستان ميں ايک مہلک اور خطرناک بيماری

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-06-11, 11:02 PM   #1
پاکستان ميں ايک مہلک اور خطرناک بيماری
Fawad Fawad آف لائن ہے 14-06-11, 11:02 PM

Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

پاکستان ميں ايک مہلک اور خطرناک بيماری



فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook

Last edited by فیصل ناصر; 14-06-11 at 11:30 PM..

Fawad
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 682
شکریہ: 0
368 مراسلہ میں 710 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 268
Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (18-06-11)
پرانا 14-06-11, 11:31 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,189
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تدوین کی وجہ ویڈیو کا لنک درست کرنا تھا
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (18-06-11)
پرانا 14-06-11, 11:36 PM   #3
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,509
شکریہ: 5,869
3,229 مراسلہ میں 6,948 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یہ ویدیو کس حوالے سے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔
ننھا بچہ آن لائن ہے   Reply With Quote
ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (18-06-11)
پرانا 14-06-11, 11:55 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 761
کمائي: 15,408
شکریہ: 2,135
582 مراسلہ میں 1,661 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

پاکستان ميں ايک مہلک اور خطرناک بيماری



فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach | Facebook
پولیو ویکسین کیا چیز ہے؟ اس کے کیا نقصانات ہیں؟ اور سائنس اس حوالے سے کیا کہتی ہے؟ چونکہ پولیو ویکسین ہر بچے کو شروع سے پلائی جاتی ہے‘ اس ویکسین میں ایسے زہر ملانے کے شواہد ملے ہیں جو اپنا اثر بچپن ہی سے دکھاتی ہے اور یہ بچے جب بڑے ہوجائیں تو پھر بچے پیدا نہ کرپائیں‘ یہ سب کیسے ہوتا ہے؟ ذرا سائنسی نقطہٴ نگاہ سے اس کا تجزیہ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ بچے کو ماں باپ کے باہم جنسی ملاپ سے پیدا فرماتاہے‘ دوسرے جانداروں کی طرح انسان میں بھی بچے پیدا کرنے کے لئے نر اور مادہ کا جنسی ملاپ ضروری ہے‘ نر میں اعضائے تولیدی کو ”ٹیسٹیز“ اور مادہ کے اعضائے تولیدی کو ”اووری“ کہتے ہیں۔ یہ اعضاء نہ صرف تولیدی ہیں‘ بلکہ یہ ”غدود“ کا کام بھی سر انجام دیتے ہیں‘ غدود انسانی جسم کا ایسا جز ہے جس کے ذمہ جسم کے مختلف افعال کو باقاعدہ بناکر انہیں کنٹرول کرنا ہے‘ جیساکہ ”پٹیوٹری“ غدود انسان کے قدکا ذمہ دار ہے‘ اگر یہ ٹھیک وقت پر برابر مقدار میں ہا رمونز خارج کرے تو انسان کا قد نارمل ہوگا‘ ورنہ یا تو بہت زیادہ بڑھے گا یا پھر پست رہ جائے گا ۔ اسی طرح مادہ انسان میں ”اووری“ بھی ایک خاص قسم کا ہارمونز ”اسٹروجن“ خارج کرتی ہے‘ اس ہارمونز کے ذمہ اللہ تعالیٰ نے یہ کام لگا رکھا ہے کہ جو بچہ پیدا ہوگا اگر تو وہ مادی (بچی) ہے تو اس میں عورت ذات والی تمام خصلتیں اور خصوصیات بھردے گی‘ اس کے ساتھ اسے نسوانی حسن بخش دے گی۔ اسی طرح نر انسان میں” ٹیسٹیز“ جو ہارمونز خارج کرتا ہے اسے ”انڈروجن“ کہتے ہیں اور یہ انسانی بچے میں مردانہ پن پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے‘ اگر یہ دونوں غدود صحت مند ہوں گے اور اپنا کام صحیح طور پر سرانجام دیں تو نر بچہ میں مردانہ خصوصیات اور مادہ بچی میں نسوانی خصوصیات ہوں گی‘ لیکن اگر یہ غدود اپنا کام صحیح طور پر سرانجام نہ دیں اور” اسٹروجن“ اور” انڈروجن“ صحیح مقدار میں پیدا نہ کرسکیں تو پھر پیدا ہونے والے بچے یا تو بن ہی نہیں پاتے اور اگر بن جاتے ہیں تو ہیجڑا پن کے حامل ہوں گے‘ جیساکہ ہم آج کل دیکھ رہے ہیں۔ ہوگی لڑکی لیکن اس کا نسوانی حسن غائب اور خصلتیں مردوں جیسی ہوں گی۔ اور ہوگا لڑکا لیکن مردانہ پن غائب اور خصلتیں وکردار لڑکیوں جیسا ہوگا تو اسی طرح پولیو ویکسین میں ایسا زہر ملانے کے شواہد ملے ہیں کہ جس سے نر اور مادہ انسان میں ”اووری“ اور” ٹیسٹیز“ اپنا صحیح کام نہیں کر پاتے ”اسٹروجن“ اور ”انڈروجن“ صحیح مقدار میں خارج نہیں ہوپاتی جس سے پیدا ہونے والے بچے میں بے قاعدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔یہ ویکسین جب شروع سے پلائی جاتی ہے تو آہستہ آہستہ بچے جب جوان ہوتے ہیں تواس وقت تک یہ اپنا کام کرچکی ہوتی ہے اب بچہ جوان ہوکریاتو بچے پیدا ہی نہیں کر سکتے یعنی مستقل بانجھ پن کا شکار ہوجاتے ہیں یا پھر اگر پیدا کرتے بھی ہیں تو ان میں ہیجڑا پن ہوتا ہے ۔ ویکسین میں کون سی چیز ملائی جاتی ہے یہ تو ابھی تک زیر تحقیق ہے‘ لیکن شاید مصنوعی اسٹروجن ملاتے ہیں‘ لیکن اس کے استعمال سے بچیوں میں اسٹروجن کی زیادہ مقدار بنے گی اور مستقبل میں جو بھی اولاد پیدا ہوگی ان میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہوگی اور اگر کوئی لڑکا پیدا ہو تو ماں سے اسٹروجن کی زیادہ مقدار منتقل ہونے کی وجہ سے ہیجڑا پن کا حامل ہوگا یعنی ساری عادتیں اور خصلتیں لڑکیوں جیسی ہوں گی (۴) ڈاکٹر ہاروناکائیٹا جوکہ احمد دبلو یونیورسٹی زاریا میں فارماسوٹیکل سائنسز ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ ہے‘ وہ نائیجریا سے ویکسین کے کچھ نمونے تحقیق کے لئے انڈیا لے گئے‘ تاکہ ان میں موجود اجزاء کی جانچ پڑتال ہوسکے‘ جب ڈاکٹر کائٹانے ان ویکسین کو مختلف ٹیسٹ اور جانچ پڑتال کے مراحل سے گزارا تو اس میں کچھ ایسے مواد کی ملاوٹ کے شواہد ملے جوکہ صحت کے لئے خطرناک تھے‘ ڈاکٹر کائٹا نے ہفت روزہ ”کیڈونا ٹرسٹ“ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ:
”ہم نے پولیو کے اس ویکسین میں کچھ ایسی اشیاء دریافت کی ہیں جو صحت کے لئے نقصان دہ اور زہریلی ہیں اور خاص طور پر کچھ ایسی ہیں جو براہ راست انسان کے جنسی نظام تولید پر اثر انداز ہوتی ہیں‘ بدقسمتی سے خود ہمارے بیچ ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی خباثت اور بدتمیزی کی پشت پناہی کررہے ہیں اور برابر ان کی مدد کررہے ہیں اور مجھے یہ کہہ کر افسوس ہو رہا ہے کہ ان میں کچھ ہمارے اپنے ماہرین بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر کائٹا نے یہ مطالبہ کیا کہ جو لوگ پولیو ویکسین کے نام پر یہ جعلی دوائی در آمد کررہے ہیں ‘ ان کے خلاف دوسرے مجرموں کی طرح مقدمہ چلانا چاہئے اور سزا دینی چاہئے“۔ (۵)
Lifesite لائف سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ۱۹۹۵ء میں فلپائن کی آزاد خواتین کی ایک لیگ نے تشنج کے ٹیکوں کے خلاف کورٹ میں مقدمہ جیت لیا تھا اور یونیسف کی اس مہم کو روک لیا تھا‘ کیونکہ اس ویکسین میں ایسی دوائی (B-hCG) استعمال کی گئی تھی جس کے استعمال کرنے سے عورت کا حمل مکمل طور پر نہیں ٹہرسکتا تھا ‘ فلپائن کی سپریم کورٹ نے یہ معلوم کیا کہ تین ملین خواتین کو جن کی عمر ۱۲ سے ۴۵ سال تک تھی‘ پہلے ہی سے یہ ویکسین دی جاچکی تھی۔ (۶) عالمی ادارہ صحت کی طرف سے (۲۰ جون ۲۰۰۵ء)جاری کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں پولیو کے قطرے پلانے کے باوجود ۵۰۰ سے زائد پولیو کے کیس سامنے آئے ہیں‘ یہاں تک کہ یمن اور انڈونیشیا جنہیں ۱۹۹۶ء میں پولیو ویکسین کی مہم چلانے کے بعد اس بیماری سے آزاد خطہ قرار دے دیا گیا‘ وہاں پھر سے یہ وبا پھوٹ پڑی ہے‘ یمن میں ۲۴۳ اور انڈونیشیا میں ۵۳ نئے کیس سامنے آئے ہیں (۷) بہت سے محققین نے ویکنیشین کو دراصل دنیا کی آبادی کنٹرول کرنے کا خفیہ مگر انتہائی مؤثر ہتھیار ثابت کیا ہے اور اس حوالے سے دستاویزی ثبوت بھی فراہم کئے ہیں۔ ایک خفیہ امریکی دستاویز "NSSMZOO" جو ۱۹۷۴ء میں شائع ہوئی اور ۱۹۸۹ء میں ڈی کلاسیفائی ہوئی‘ اس دستاویز پر اس وقت کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے دستخط ہیں‘ اس دستاویز میں شناخت کئے گئے ممالک میں سے ہندوستان‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ نائیجریا‘ انڈونیشیا‘ برازیل‘ فلپائن‘ میکسیکو‘ تھائی لینڈ‘ ترکی‘ ایتھوپیا اور کولمبیا ہیں۔ پاپولیشن کنٹرول اس دستاویز کا مرکزی اور یک نکاتی ایجنڈا ہے‘ ۲۹ جون ۱۹۸۷ء کو امریکی اخبار نے نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر رابرٹ سے بات کی‘ جن کا کہنا تھا کہ خسرہ کی ویکسین نقصان دہ وائرس سے آلودہ ہیں‘ ۳۰ برس تک نامی گرامی ڈاکٹر چلاتے رہے کہ ہم ”ویکسین“ نامی ٹائم بم سے کھیل رہے ہیں‘ خسرہ کے ویکسین سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ کینسر کا باعث ہے (۸) لندن کے موقر ترین روز نامے دی ٹائمز نے فرنٹ پیچ پر اس حوالے سے یہ سرخی لگائی تھی کہ ”خسرہ کے لئے لگائے گئے ٹیکے ایڈز وائرس پھیلا رہے ہیں“ (۹)
عالمی ادارہ صحت (W.H.O)کے ایک کنسلٹنٹ نے who کو رپورٹ دی کہ زیمبیا‘ زائرے اور برازیل میں خسرہ ویکسینشین اور ایڈز وائرس کے پھیلاؤ کے درمیان تعلق کا شبہ تھا‘ تحقیق پر یہ شک وشبہات صحیح نکلے۔who نے رپورٹ ملنے کے باوجود اسے شائع نہیں کیا‘ برازیل واحد جنوبی امریکی ملک تھا جس نے خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین مہم میں حصہ لیا اور پھر یہی ملک ایڈز کا سب سے بڑا شکار بنا۔ پولیو‘ خسرہ ہیپاٹائٹس کی ویکسین میں وائرس کی موجودگی کے ثبوت سامنے آچکے ہیں ۔ان میں منگی وائرس جیسا خطرناک وائرس بھی شامل ہے ۔ who پر خسرہ ویکسین کے ذریعے ایڈز پھیلانے کے الزامات بھی لگ چکے ہیں‘ ان ٹیکوں کی وجہ سے بانجھ پن ہونا بھی ثابت ہوچکا ہے۔ ویکسینشین دو ماہ کے بچوں کے لئے قطعا محفوظ نہیں‘ مگر یہ ویکسین کا شیڈول نومولود کے ابتدائی دنوں سے ہی شروع ہوجاتا ہے‘ نومولود کے وزن‘ قد اور جسامت جیسے معاملات بالکل نظر انداز کردیئے جاتے ہیں‘ یہ سائنسی حقیقت ہے کہ ایک ہی دوائی یا ٹیکہ کسی ایک انسان کے لئے تو قطعی محفوظ ہو سکتے ہیں‘ مگر دوسرے کے لئے موت کا باعث بھی۔ ویکسینشین کو بچوں میں ذہنی عوارض کا سبب بھی قرار دیا جاتا ہے‘ پولیو کے قطرے جب پلوانے شروع ہوئے جن بچوں نے یہ استعمال کئے ہیں‘ یقینا آج وہ جوان ہوں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہوں گے اور آج کل نوجوانوں کی اکثر یت جن امراض میں مبتلا نظر آتی ہے وہ مردانہ امراض ہی ہیں۔ (۱۰) اس ضمن میں مزید جو حقائق دیئے گئے ہیں وہ بہت خوفناک ہیں‘ بھارت کے ایک جریدے ”المرشد“ میں پولیو کے قطروں سے متعلق ایک مدلل مضمون شائع ہوا ہے‘ اس مضمون کو اشرف لیبارٹریز فیصل آباد کے ترجمان ماہنامہ رہنمائے صحت کی اشاعت میں شامل کیا گیا تھا‘ جس میں سات سے زائد ایسے کیس ذکر کئے گئے ہیں جن میں بچوں کو پولیو کے قطروں کا کورس مکمل کروایا گیا تھا‘ انہیں اس روک تھام کے باوجود پولیو ہوگیا۔ (۱۱) ملک کے معروف قلم کا ر جناب حامد میر صاحب اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:
” قارئین کو یاد ہوگا کہ ۷/جون ۲۰۰۴ء کو میں نے ”پولیو اور پارلیمنٹ“ کے عنوان سے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ پولیو کے خلاف حالیہ مہم میں چھوٹے بچوں کو پولیو ویکسین کے جعلی قطرے پلائے جارہے ہیں‘ وفاقی وزارت صحت نے میرے دعوے پر خاموشی اختیار کئے رکھی ہے‘ ایک ماہ کے بعد ۷/ جولائی کو عالمی ادارہ صحت نے وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان کو ایک خط لکھا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں تیار کی گئی پولیو ویکسین انتہائی غیر معیاری ہے‘ لہذا اس ویکسین کو فوری تلف کیا جائے ۔ ۲۶/ جولائی ۲۰۰۴ء کو عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ برائے پاکستان ڈاکٹر خالف بلے محمد نے وفاقی وزیر صحت کو ایک اور خط لکھا اور انہیں یاد دلایا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں تیار کی گئی پولیو ویکسین کی ۱۵ کروڑ ڈوز غیر معیاری ہیں اور انہیں تلف کردیا جانا چاہئے‘ اس خط کی وجہ یہ تھی کہ وفاقی وزارت صحت کی نگرانی میں تیار کئے گئے پولیو کے غیر معیاری قطروں کا استعمال ملک بھر میں بدستور جاری ہے‘ لاکھوں والدین نے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی امید میں یہ قطرے پلائے‘ لیکن افسوس یہ قطرے زہریلے پانی کے سوا کچھ نہیں ۔ جناب حامد میر مزید لکھتے ہیں کہ: مجھے معلوم ہے کہ ہتک عزت کے لئے قانون کے تحت بغیر ثبوت کے کسی پر الزام لگانا بہت مشکل ہے‘ لہذا اگر (ملک کے وزیر اعظم کو) ضرورت ہو تو عالمی ادارہ صحت کی طرف سے خط کی نقل اور عالمی ادارہ صحت کی طرف سے پاکستان میں استعمال ہونے والے پولیو ویکسین کے لیبارٹری ٹیسٹوں کی رپورٹ یہ بندہ ناچیز انہیں فراہم کرسکتا ہے‘ اطلاعاً عرض ہے کہ یہ دونوں دستاویزات وفاقی سیکرٹری برائے صحت‘ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹرنیشنل ٹیوٹ آف ہیلتھ کے پاس بھی موجود ہیں- (۱۲)
ہمارے بچوں کے بہتر اور خوشحال مستقبل کی فکر میں پیش پیش وہ مغربی ممالک ہیں جن کی سرمایہ کاری کی ایک خطیر رقم عراق‘ فلسطین اور افغانستان میں مسلمان بچوں کے قتل وتباہی پر خرچ ہو رہی ہے‘ ان ممالک کے بارے میں سروے رپورٹ یہ ہے کہ جنگ میں سب سے زیادہ اموات بچوں کی ہورہی ہے‘ اس بارے میں آج تک ایسی مہم نہیں چلائی گئی ہے کہ جس میں ان تندرست اور بے گناہ بچوں کو تحفظ دیا جاسکے اور ان کے تحفظ کے اقدامات کئے جاسکیں۔ پولیو قطرے پلانے کے حوالے سے بعض حضرات کا استدلال یہ ہے کہ اگر پولیو کے ویکسین مضر صحت ہوتے تو پھر تعلیم یافتہ طبقہ اسے استعمال نہ کرتا۔ ایسے حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ شراب کی حرمت پر تمام مذاہب متفق ہیں‘ اسی طرح صحت کے لئے شراب کا مضر اور خطرناک ہونا بھی تحقیقاتی اداروں سے ثابت ہو چکا ہے‘ لیکن بدقسمتی سے شراب کو استعمال کرنے والے اکثر لوگ تعلیم یافتہ ہیں‘ جاہل نہیں‘ اس قسم کے استدلال پیش کرنے والے دراصل حقائق سے ناواقف ہیں‘ مذکورہ بالا مشاہدات کے باوجود اگر ہم اپنے بچوں کو مذکورہ ویکسین وغیرہ پلاتے ہیں تو پھر ہم اس جرم میں برابر کے شریک ہیں اور ہمارا انجام یہی ہوگا کہ ہم پر عروج کی جگہ تسفل‘ ترقی کی جگہ تنزل‘ عظمت کی جگہ ذلت‘ حکومت کی جگہ غلامی اور بالآخر زندگی کی جگہ موت چھا جائے گی۔ نوٹ: ویکسین کے منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں پر مزید تحقیق جاری ہے:

ربط
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-06-11), فیصل ناصر (15-06-11), wajee (15-06-11), احمد نذیر (15-06-11), حیدر (17-06-11)
پرانا 15-06-11, 12:02 AM   #5
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,649
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کون کہتا ہے احمق نہیں ملتے
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-06-11), حیدر (17-06-11)
پرانا 15-06-11, 12:10 AM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,649
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
The Salk vaccine, or inactivated poliovirus vaccine (IPV), is based on three wild, virulent reference strains, Mahoney (type 1 poliovirus), MEF-1 (type 2 poliovirus), and Saukett (type 3 poliovirus), grown in a type of monkey kidney tissue culture (Vero cell line), which are then inactivated with formalin.[6] The injected Salk vaccine confers IgG-mediated immunity in the bloodstream, which prevents polio infection from progressing to viremia and protects the motor neurons, thus eliminating the risk of bulbar polio and post-polio syndrome.
Beginning February 23, 1954, the vaccine was tested at Arsenal Elementary School and the Watson Home for Children in Pittsburgh, Pennsylvania.[23] Salk's vaccine was then used in a test called the Francis Field Trial, led by Thomas Francis; the largest medical experiment in history. The test began with some 4,000 children at Franklin Sherman Elementary School in McLean, Virginia,[24] and would eventually involve 1.8 million children, in 44 states from Maine to California.[25] By the conclusion of the study, roughly 440,000 received one or more injections of the vaccine, about 210,000 children received a placebo, consisting of harmless culture media, and 1.2 million children received no vaccination and served as a control group, who would then be observed to see if any contracted polio.[13] The results of the field trial were announced April 12, 1955 (the tenth anniversary of the death of Franklin D. Roosevelt; see Franklin D. Roosevelt's paralytic illness). The Salk vaccine had been 60 - 70% effective against PV1 (poliovirus type 1), over 90% effective against PV2 and PV3, and 94% effective against the development of bulbar polio.[26] Soon after Salk's vaccine was licensed in 1955 children's vaccination campaigns were launched. In the U.S, following a mass immunization campaign promoted by the March of Dimes, the annual number of polio cases fell from 35,000 in 1953 to 5,600 by 1957.[27] By 1961 only 161 cases were recorded in the United States.[28]

ریفرنس Polio vaccine - Wikipedia, the free encyclopedia

پولیو امریکہ اور یورپ میں بھی بچوں کو پلائے جاتے ہیں۔۔۔ لگتا ہے کوئی انٹرنیشنل سازش ہے کہ پوری دنیا کو "مردوں" سے پاک کر دیا جائے ویسے یہودیوں کی سازش بھی ہو سکتی لیکن مسلہ یہ ہے کہ اسرائیل میں بھی یہی قطرے پلائے جاتے ہیں۔

ریفرنس International Notes Poliomyelitis -- Israel

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-06-11), یاسر عمران مرزا (18-06-11), محمدمبشرعلی (19-06-11), حیدر (17-06-11)
پرانا 15-06-11, 12:16 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,536
کمائي: 88,172
شکریہ: 5,206
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا یہ سب کچھ حقیقت ہے ؟؟
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-06-11), حیدر (17-06-11)
پرانا 15-06-11, 12:17 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 761
کمائي: 15,408
شکریہ: 2,135
582 مراسلہ میں 1,661 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ویسے یو ایس سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو اردو فورمز پر یہ فائدہ ضرور ہے کہ wanted لسٹ آسانی سے بن رہی ہے۔
ویسے فواد صاحب آج کل گورے اردو بولنے کی پریکٹس ایسی ویڈیوز پر ڈبنگ کے بہانے کر رہے ہیں۔ راہ عامہ ہموار کرنے کیساتھ ساتھ اردو میں بھی روانی یعنی ایک تیر دو شکار۔
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے dxbgraphics کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-06-11), حیدر (17-06-11)
پرانا 17-06-11, 03:39 PM   #9
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,189
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لاہور : نومولود بچی مبینہ طور پر پولیو کے قطرے پینے سے جاں بحق

لاہور...لاہور میں نومولود بچی مبینہ طور پر پولیو کے قطرے پینے سے جاں بحق ہو گئی۔ ای ڈی او ہیلتھ نے دو خواتین سمیت چار افراد کو فوری طور پر معطل کر دیا۔باغبان پورہ بند روڈ کے عبدالخالق نے بتایا کہ مقامی ٹاوٴن سے ویکسی نیٹر سعد، زونل سپر وائزر جعفر اور لیڈی ہیلتھ ورکر روزی اور روبینہ نے اس کی 15 دن کی بیٹی حبیبہ کو صبح دس بجے پولیو کے قطرے پلائے۔ پولیو ویکسین پیتے ہی بچی کی حالت غیر ہو گئی اور وہ دم توڑ گئی۔ ای ڈی او ہیلتھ کے مطابق واقعہ کے بعد چاروں اہلکاروں کو معطل کر کے انکوئری شروع کر دی گئی ہے۔

لاہور : نومولود بچی مبینہ طور پر پولیو کے قطرے پینے سے جاں بحق
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (17-06-11), shafresha (18-06-11), حیدر (17-06-11)
پرانا 18-06-11, 05:33 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اُف اللہ۔ مائیں بے چاریاں کیا کریں۔ بچے کے معاملے میں تو ۔۔۔۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
shafresha (18-06-11), محمدمبشرعلی (19-06-11)
پرانا 18-06-11, 08:04 PM   #11
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,775
شکریہ: 53,120
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس سلسلے میں‌میری رائے ہے کہ پولیو کے قطرے یا دیگر ریکسین کے لیئے مستند اداروں مثلاً آغا خان ہسپتال سے رجوع کرنا چاہیئے۔۔۔
ہائے افسوس غریب بےچارے کیا کریں گے!!!
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 18-06-11, 08:16 PM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,536
کمائي: 88,172
شکریہ: 5,206
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
اس سلسلے میں‌میری رائے ہے کہ پولیو کے قطرے یا دیگر ریکسین کے لیئے مستند اداروں مثلاً آغا خان ہسپتال سے رجوع کرنا چاہیئے۔۔۔
ہائے افسوس غریب بےچارے کیا کریں گے!!!
لے دے گے صرف قبرستان بھرے گے غریبوں سے
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
wajee کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (18-06-11)
جواب

Tags
com, digital, email, facebook, fawad, outreach, sta, state, team, url, يو, ٹيم, پاکستان, ڈيجيٹل, ميں, wall, watch, www, you, youtube, آؤٹ, ايک, ايس, خطرناک, ريچ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ايسے لوگ اب پھرکبھي لوٹ کرنہيں آئيں گے ALI-OAD اپکے کالم 4 14-06-11 02:06 PM
جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں بزم خیال شاعر مشرق علامہ اقبال 1 31-03-11 10:55 AM
پاکستان ميں سيلاب کے متاثرين بے يارومددگار نہیں ہيں یو اس سنٹرل کمانڈ خبریں 14 01-09-10 03:20 PM
پاکستان ميں سيلاب کے متاثرين بے يارومددگار نہیں ہيں Fawad خبریں 17 25-08-10 11:33 PM
پاکستانی نہيں بکے! فیضان صديقی ,سندھ کرکٹ 9 24-01-10 01:33 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:55 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger