| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 268
|
||||
| Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (18-06-11) |
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
”ہم نے پولیو کے اس ویکسین میں کچھ ایسی اشیاء دریافت کی ہیں جو صحت کے لئے نقصان دہ اور زہریلی ہیں اور خاص طور پر کچھ ایسی ہیں جو براہ راست انسان کے جنسی نظام تولید پر اثر انداز ہوتی ہیں‘ بدقسمتی سے خود ہمارے بیچ ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی خباثت اور بدتمیزی کی پشت پناہی کررہے ہیں اور برابر ان کی مدد کررہے ہیں اور مجھے یہ کہہ کر افسوس ہو رہا ہے کہ ان میں کچھ ہمارے اپنے ماہرین بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر کائٹا نے یہ مطالبہ کیا کہ جو لوگ پولیو ویکسین کے نام پر یہ جعلی دوائی در آمد کررہے ہیں ‘ ان کے خلاف دوسرے مجرموں کی طرح مقدمہ چلانا چاہئے اور سزا دینی چاہئے“۔ (۵) Lifesite لائف سائٹ کی رپورٹ کے مطابق ۱۹۹۵ء میں فلپائن کی آزاد خواتین کی ایک لیگ نے تشنج کے ٹیکوں کے خلاف کورٹ میں مقدمہ جیت لیا تھا اور یونیسف کی اس مہم کو روک لیا تھا‘ کیونکہ اس ویکسین میں ایسی دوائی (B-hCG) استعمال کی گئی تھی جس کے استعمال کرنے سے عورت کا حمل مکمل طور پر نہیں ٹہرسکتا تھا ‘ فلپائن کی سپریم کورٹ نے یہ معلوم کیا کہ تین ملین خواتین کو جن کی عمر ۱۲ سے ۴۵ سال تک تھی‘ پہلے ہی سے یہ ویکسین دی جاچکی تھی۔ (۶) عالمی ادارہ صحت کی طرف سے (۲۰ جون ۲۰۰۵ء)جاری کئے گئے اعداد وشمار کے مطابق دنیا بھر میں پولیو کے قطرے پلانے کے باوجود ۵۰۰ سے زائد پولیو کے کیس سامنے آئے ہیں‘ یہاں تک کہ یمن اور انڈونیشیا جنہیں ۱۹۹۶ء میں پولیو ویکسین کی مہم چلانے کے بعد اس بیماری سے آزاد خطہ قرار دے دیا گیا‘ وہاں پھر سے یہ وبا پھوٹ پڑی ہے‘ یمن میں ۲۴۳ اور انڈونیشیا میں ۵۳ نئے کیس سامنے آئے ہیں (۷) بہت سے محققین نے ویکنیشین کو دراصل دنیا کی آبادی کنٹرول کرنے کا خفیہ مگر انتہائی مؤثر ہتھیار ثابت کیا ہے اور اس حوالے سے دستاویزی ثبوت بھی فراہم کئے ہیں۔ ایک خفیہ امریکی دستاویز "NSSMZOO" جو ۱۹۷۴ء میں شائع ہوئی اور ۱۹۸۹ء میں ڈی کلاسیفائی ہوئی‘ اس دستاویز پر اس وقت کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے دستخط ہیں‘ اس دستاویز میں شناخت کئے گئے ممالک میں سے ہندوستان‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ نائیجریا‘ انڈونیشیا‘ برازیل‘ فلپائن‘ میکسیکو‘ تھائی لینڈ‘ ترکی‘ ایتھوپیا اور کولمبیا ہیں۔ پاپولیشن کنٹرول اس دستاویز کا مرکزی اور یک نکاتی ایجنڈا ہے‘ ۲۹ جون ۱۹۸۷ء کو امریکی اخبار نے نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر رابرٹ سے بات کی‘ جن کا کہنا تھا کہ خسرہ کی ویکسین نقصان دہ وائرس سے آلودہ ہیں‘ ۳۰ برس تک نامی گرامی ڈاکٹر چلاتے رہے کہ ہم ”ویکسین“ نامی ٹائم بم سے کھیل رہے ہیں‘ خسرہ کے ویکسین سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ کینسر کا باعث ہے (۸) لندن کے موقر ترین روز نامے دی ٹائمز نے فرنٹ پیچ پر اس حوالے سے یہ سرخی لگائی تھی کہ ”خسرہ کے لئے لگائے گئے ٹیکے ایڈز وائرس پھیلا رہے ہیں“ (۹) عالمی ادارہ صحت (W.H.O)کے ایک کنسلٹنٹ نے who کو رپورٹ دی کہ زیمبیا‘ زائرے اور برازیل میں خسرہ ویکسینشین اور ایڈز وائرس کے پھیلاؤ کے درمیان تعلق کا شبہ تھا‘ تحقیق پر یہ شک وشبہات صحیح نکلے۔who نے رپورٹ ملنے کے باوجود اسے شائع نہیں کیا‘ برازیل واحد جنوبی امریکی ملک تھا جس نے خسرہ سے بچاؤ کی ویکسین مہم میں حصہ لیا اور پھر یہی ملک ایڈز کا سب سے بڑا شکار بنا۔ پولیو‘ خسرہ ہیپاٹائٹس کی ویکسین میں وائرس کی موجودگی کے ثبوت سامنے آچکے ہیں ۔ان میں منگی وائرس جیسا خطرناک وائرس بھی شامل ہے ۔ who پر خسرہ ویکسین کے ذریعے ایڈز پھیلانے کے الزامات بھی لگ چکے ہیں‘ ان ٹیکوں کی وجہ سے بانجھ پن ہونا بھی ثابت ہوچکا ہے۔ ویکسینشین دو ماہ کے بچوں کے لئے قطعا محفوظ نہیں‘ مگر یہ ویکسین کا شیڈول نومولود کے ابتدائی دنوں سے ہی شروع ہوجاتا ہے‘ نومولود کے وزن‘ قد اور جسامت جیسے معاملات بالکل نظر انداز کردیئے جاتے ہیں‘ یہ سائنسی حقیقت ہے کہ ایک ہی دوائی یا ٹیکہ کسی ایک انسان کے لئے تو قطعی محفوظ ہو سکتے ہیں‘ مگر دوسرے کے لئے موت کا باعث بھی۔ ویکسینشین کو بچوں میں ذہنی عوارض کا سبب بھی قرار دیا جاتا ہے‘ پولیو کے قطرے جب پلوانے شروع ہوئے جن بچوں نے یہ استعمال کئے ہیں‘ یقینا آج وہ جوان ہوں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ وہ کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہوں گے اور آج کل نوجوانوں کی اکثر یت جن امراض میں مبتلا نظر آتی ہے وہ مردانہ امراض ہی ہیں۔ (۱۰) اس ضمن میں مزید جو حقائق دیئے گئے ہیں وہ بہت خوفناک ہیں‘ بھارت کے ایک جریدے ”المرشد“ میں پولیو کے قطروں سے متعلق ایک مدلل مضمون شائع ہوا ہے‘ اس مضمون کو اشرف لیبارٹریز فیصل آباد کے ترجمان ماہنامہ رہنمائے صحت کی اشاعت میں شامل کیا گیا تھا‘ جس میں سات سے زائد ایسے کیس ذکر کئے گئے ہیں جن میں بچوں کو پولیو کے قطروں کا کورس مکمل کروایا گیا تھا‘ انہیں اس روک تھام کے باوجود پولیو ہوگیا۔ (۱۱) ملک کے معروف قلم کا ر جناب حامد میر صاحب اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں: ” قارئین کو یاد ہوگا کہ ۷/جون ۲۰۰۴ء کو میں نے ”پولیو اور پارلیمنٹ“ کے عنوان سے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ پولیو کے خلاف حالیہ مہم میں چھوٹے بچوں کو پولیو ویکسین کے جعلی قطرے پلائے جارہے ہیں‘ وفاقی وزارت صحت نے میرے دعوے پر خاموشی اختیار کئے رکھی ہے‘ ایک ماہ کے بعد ۷/ جولائی کو عالمی ادارہ صحت نے وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان کو ایک خط لکھا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں تیار کی گئی پولیو ویکسین انتہائی غیر معیاری ہے‘ لہذا اس ویکسین کو فوری تلف کیا جائے ۔ ۲۶/ جولائی ۲۰۰۴ء کو عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ برائے پاکستان ڈاکٹر خالف بلے محمد نے وفاقی وزیر صحت کو ایک اور خط لکھا اور انہیں یاد دلایا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد میں تیار کی گئی پولیو ویکسین کی ۱۵ کروڑ ڈوز غیر معیاری ہیں اور انہیں تلف کردیا جانا چاہئے‘ اس خط کی وجہ یہ تھی کہ وفاقی وزارت صحت کی نگرانی میں تیار کئے گئے پولیو کے غیر معیاری قطروں کا استعمال ملک بھر میں بدستور جاری ہے‘ لاکھوں والدین نے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی امید میں یہ قطرے پلائے‘ لیکن افسوس یہ قطرے زہریلے پانی کے سوا کچھ نہیں ۔ جناب حامد میر مزید لکھتے ہیں کہ: مجھے معلوم ہے کہ ہتک عزت کے لئے قانون کے تحت بغیر ثبوت کے کسی پر الزام لگانا بہت مشکل ہے‘ لہذا اگر (ملک کے وزیر اعظم کو) ضرورت ہو تو عالمی ادارہ صحت کی طرف سے خط کی نقل اور عالمی ادارہ صحت کی طرف سے پاکستان میں استعمال ہونے والے پولیو ویکسین کے لیبارٹری ٹیسٹوں کی رپورٹ یہ بندہ ناچیز انہیں فراہم کرسکتا ہے‘ اطلاعاً عرض ہے کہ یہ دونوں دستاویزات وفاقی سیکرٹری برائے صحت‘ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹرنیشنل ٹیوٹ آف ہیلتھ کے پاس بھی موجود ہیں- (۱۲) ہمارے بچوں کے بہتر اور خوشحال مستقبل کی فکر میں پیش پیش وہ مغربی ممالک ہیں جن کی سرمایہ کاری کی ایک خطیر رقم عراق‘ فلسطین اور افغانستان میں مسلمان بچوں کے قتل وتباہی پر خرچ ہو رہی ہے‘ ان ممالک کے بارے میں سروے رپورٹ یہ ہے کہ جنگ میں سب سے زیادہ اموات بچوں کی ہورہی ہے‘ اس بارے میں آج تک ایسی مہم نہیں چلائی گئی ہے کہ جس میں ان تندرست اور بے گناہ بچوں کو تحفظ دیا جاسکے اور ان کے تحفظ کے اقدامات کئے جاسکیں۔ پولیو قطرے پلانے کے حوالے سے بعض حضرات کا استدلال یہ ہے کہ اگر پولیو کے ویکسین مضر صحت ہوتے تو پھر تعلیم یافتہ طبقہ اسے استعمال نہ کرتا۔ ایسے حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ شراب کی حرمت پر تمام مذاہب متفق ہیں‘ اسی طرح صحت کے لئے شراب کا مضر اور خطرناک ہونا بھی تحقیقاتی اداروں سے ثابت ہو چکا ہے‘ لیکن بدقسمتی سے شراب کو استعمال کرنے والے اکثر لوگ تعلیم یافتہ ہیں‘ جاہل نہیں‘ اس قسم کے استدلال پیش کرنے والے دراصل حقائق سے ناواقف ہیں‘ مذکورہ بالا مشاہدات کے باوجود اگر ہم اپنے بچوں کو مذکورہ ویکسین وغیرہ پلاتے ہیں تو پھر ہم اس جرم میں برابر کے شریک ہیں اور ہمارا انجام یہی ہوگا کہ ہم پر عروج کی جگہ تسفل‘ ترقی کی جگہ تنزل‘ عظمت کی جگہ ذلت‘ حکومت کی جگہ غلامی اور بالآخر زندگی کی جگہ موت چھا جائے گی۔ نوٹ: ویکسین کے منفی اور مثبت دونوں پہلوؤں پر مزید تحقیق جاری ہے: ربط
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com |
|
|
|
|
|
|
#6 | |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,649
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ریفرنس Polio vaccine - Wikipedia, the free encyclopedia پولیو امریکہ اور یورپ میں بھی بچوں کو پلائے جاتے ہیں۔۔۔ لگتا ہے کوئی انٹرنیشنل سازش ہے کہ پوری دنیا کو "مردوں" سے پاک کر دیا جائے ویسے یہودیوں کی سازش بھی ہو سکتی لیکن مسلہ یہ ہے کہ اسرائیل میں بھی یہی قطرے پلائے جاتے ہیں۔ ریفرنس International Notes Poliomyelitis -- Israel والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
ویسے یو ایس سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو اردو فورمز پر یہ فائدہ ضرور ہے کہ wanted لسٹ آسانی سے بن رہی ہے۔
ویسے فواد صاحب آج کل گورے اردو بولنے کی پریکٹس ایسی ویڈیوز پر ڈبنگ کے بہانے کر رہے ہیں۔ راہ عامہ ہموار کرنے کیساتھ ساتھ اردو میں بھی روانی یعنی ایک تیر دو شکار۔ |
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,189
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
لاہور : نومولود بچی مبینہ طور پر پولیو کے قطرے پینے سے جاں بحق لاہور...لاہور میں نومولود بچی مبینہ طور پر پولیو کے قطرے پینے سے جاں بحق ہو گئی۔ ای ڈی او ہیلتھ نے دو خواتین سمیت چار افراد کو فوری طور پر معطل کر دیا۔باغبان پورہ بند روڈ کے عبدالخالق نے بتایا کہ مقامی ٹاوٴن سے ویکسی نیٹر سعد، زونل سپر وائزر جعفر اور لیڈی ہیلتھ ورکر روزی اور روبینہ نے اس کی 15 دن کی بیٹی حبیبہ کو صبح دس بجے پولیو کے قطرے پلائے۔ پولیو ویکسین پیتے ہی بچی کی حالت غیر ہو گئی اور وہ دم توڑ گئی۔ ای ڈی او ہیلتھ کے مطابق واقعہ کے بعد چاروں اہلکاروں کو معطل کر کے انکوئری شروع کر دی گئی ہے۔ لاہور : نومولود بچی مبینہ طور پر پولیو کے قطرے پینے سے جاں بحق
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اُف اللہ۔ مائیں بے چاریاں کیا کریں۔ بچے کے معاملے میں تو ۔۔۔۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا | shafresha (18-06-11), محمدمبشرعلی (19-06-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() ![]() |
اس سلسلے میںمیری رائے ہے کہ پولیو کے قطرے یا دیگر ریکسین کے لیئے مستند اداروں مثلاً آغا خان ہسپتال سے رجوع کرنا چاہیئے۔۔۔
ہائے افسوس غریب بےچارے کیا کریں گے!!!
__________________
میںتمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوںگا! |
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, digital, email, facebook, fawad, outreach, sta, state, team, url, يو, ٹيم, پاکستان, ڈيجيٹل, ميں, wall, watch, www, you, youtube, آؤٹ, ايک, ايس, خطرناک, ريچ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| ايسے لوگ اب پھرکبھي لوٹ کرنہيں آئيں گے | ALI-OAD | اپکے کالم | 4 | 14-06-11 02:06 PM |
| جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں | بزم خیال | شاعر مشرق علامہ اقبال | 1 | 31-03-11 10:55 AM |
| پاکستان ميں سيلاب کے متاثرين بے يارومددگار نہیں ہيں | یو اس سنٹرل کمانڈ | خبریں | 14 | 01-09-10 03:20 PM |
| پاکستان ميں سيلاب کے متاثرين بے يارومددگار نہیں ہيں | Fawad | خبریں | 17 | 25-08-10 11:33 PM |
| پاکستانی نہيں بکے! | فیضان صديقی ,سندھ | کرکٹ | 9 | 24-01-10 01:33 PM |