| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 129
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Peshawar
مراسلات: 397
کمائي: 6,087
شکریہ: 133
139 مراسلہ میں 236 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شمالی وزیرستان جہادیوں کا مرکز و گڑہ ہے اور حقانی نیٹ ورک و القائدہ ،ملکی اور غیر ملکی دہشت گردوں اور جہادیوں کا مسکن ہے۔ جہان سے دہشتگرد مقامی پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی علاقوں مین باآسانی کاروائیاں کرتے ہین ۔ القائدہ کے مرکزی لیڈر بھی اسی علاقہ مین روپوش ہیں۔ ایمن الظواہری پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود ہےیہ علاقے دہشتگردی کا مرکز ہیں جہاں اسامہ بن لادن کی باقیات اس علاقے سے باہر کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں .تمام گروپس اگرچہ علیحدہ علیحدہ ہیں مگرمل کر کام کرتے ہیں۔ القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ملک میں ہونیوالے 80 فیصد خود کش حملوں کے تانے بانے اسی قبائلی علاقے سے ملتے ہیں۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر ملکی ملوث ہیں، انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردی کر رہے ہیں.یہ لوگ اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہین، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہین ،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہین دی جاسکتی۔ دہشت گردی اور غیر ملکی جہادیوں کی بہتات کی وجہ سے فاٹا کے بہت سے لوگ اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر دوسرے علاقوں مین آباد ہو گئے ہین اور فاٹا ایریا مین غربت مین بہت اضافہ ہو گیا ہے، نئی انڈسٹریاں نہ لگ رہی ہیں، کاروبار برباد ہو گئے ہین ۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو چکی ہین۔ صوبہ خیبر پختونخوا ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں پہلے ہی مختلف شعبوں میں پسماندگی کا شکار تھا اور اس ’جنگ‘ کے نتیجے میں اب بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ترقی کی گاڑی کو’ریورس گیئر‘ لگا دیا گیا ہو۔عسکریت پسندوں کے حملوں اور فوجی کارروائیوں کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت مختلف شہروں میں بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف خیبر پختونخوا میں پانچ سے سو زائد سکول تباہ ہوئے ہیں جبکہ نجی املاک، فوجی مراکز، پولیس تھانوں اور سرکاری و نجی عمارات کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنایا گیا۔لوگوں کے کاروبار، روزگار، معیشت، رہن سہن، روایات ، ثقافت الغرض زندگی کا کوئی ایسا پہلو باقی نہیں رہا جو اس جنگ کی وجہ سے تباہی کے دہانے تک نہ پہنچا ہو۔ یہی نہیں بلکہ قبائلی علاقوں کے رہنے والوں نے وہاں بدامنی کی وجہ سے بندوبستی علاقوں کا رخ کر لیا اور وہاں مستقل طورپر سکونت اختیار کرلی اور فی الحال ان لوگوں کا واپس اپنے آبائی علاقوں میں جانے کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آ رہا۔ پاکستان اور دہشت گرد اکٹھے نہ رہ سکتے ہین اور نا ہی پاکستان دہشت گردوں کو اکیلے کچل سکتا ہے،ایسا کرنے کے لئے پاکستان کو گلوبل تعاون درکار ہے۔ہماری خودمختاری کو ان دہشت گردوں نے روند ڈالا جن کا تعلق مختلف نسلوں کے لوگوں سے ہے اور ہماری علاقوں ،زندگیوں،امن اور تمناؤن کا خون کردیا۔ڈرون حملے کرنے والے دہشت گردی کے خلاف جنگ مین ہمارے دوست ہین، جنہوں نے ہمارے علاقے،وسائل وزمین پر کبھی کسی قسم کا دعوی نہ کیا ہے بلکہ دہشت گردی کی اس بلا کو ختم کر رہے ہین جس کو ختم کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری تھی۔ ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہ ہے اور اگر کسی کو ڈرونز سےخطرہ ہے، تو وہ یا تو دہشت گرد و شدت پسند ہیں یا ان کے حامی ۔ ڈرونز کی افادیت دشوار گزار اور مشکل ترین علاقوں مین دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہوں کو تباہ کرنے اور دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے ضمن مین مسلمہ ہے اور ڈرونز کا نشانہ بلا کا ہے۔ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے شدت پسند ہوتےہیں۔ اسی بنا پر علاقے کے اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرون حملے جاری رہنا چاہئیں کیونکہ ان کا نشانہ شدت پسند ہوتے ہیں۔ کوئی اچھا اور برا دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔اور ہمیں تمام جہادی عناصر کو نکیل ڈالنی ہو گی۔ ہمین یہ نہ بھولنا چاہیے کہ ۳۵۰۰۰ معصوم پاکستانی ان دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوا بیٹھے اور پاکستان کو معیشت کو ۶۸ ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ معصوم انسانی جانوں سے کھیلنے والے درندے ہیں ‘ ان کا نہ تو اسلام اور نہ ہی پاکستان سے کوئی تعلق ہے۔ ایسے درندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیے۔دہشت گردی کی وجہ سے انسانوں کی جان، مال اور آبرو کو خطرے میں نہیں ڈالاجاسکتا ہے ۔ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ ۔( اور جس نفس کو خداوند عالم نے حرام قرار دیا ہے اس کو بغیر حق قتل نہ کرو)(سورہ اعراف ، آیت ۱۵۱)کی بنیاد پر تمام انسانوں کی جانیں محتر م ہیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا اہل سنت،مسلمان ہوں یا غیر مسلمان۔ دہشت گردی ایک غیر ملکی نہین بلکہ پاکستانی ایشو ہے۔ ہمارےعوام کی سلامتی اور ترقی کے لئے یہ امر انتہائی اہم اور ضروری ہے اوریہ ہماری موجودہ اور آیندہ نسلوں کے وسیع تر مفاد میں ہے کہ دہشت گردی اور انتہاپسندی کو ہر ممکن طریقے سے اور ہر قیمت پر روکا اور ناکام بنایا جائے۔ہم کب تک دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنے رہیں گے؟ |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,539
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| com, story, url, ہلاک, ہراس, کہنا, گاڑی, پاکستان, پروازیں, وجہ, وزیرستان, قبائلی, نتیجے, مکان, میزائل, افراد, امریکی, جاری, حملہ،, حملے, خوف, شدید, طیارے, علاقہ, علاقے |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| پاکستان سے افغانستان جانیوالے کنٹینرز میں اسلحہ نہیں ہوتا، وکی لیکس | فرحان دانش | خبریں | 4 | 13-12-11 05:30 PM |
| القاعدہ افغانستان میں نہیں ، امریکی فوج پھنسی ہوئی ہے، پاکستان سب سے اہم ہے:امریکی تجزیہ کار | جاویداسد | خبریں | 1 | 24-10-10 06:52 AM |
| وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان | ابن جلال | خبریں | 2 | 18-09-08 11:51 PM |
| نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی | خرم شہزاد خرم | خبریں | 0 | 10-12-07 08:36 AM |
| بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس | پاکستانی | خبریں | 0 | 15-09-07 03:57 PM |