ریمنڈ تنازع پر دونوں اداروں میں رابطہ نہیں‘ سی آئی اے دباﺅ کےلئے حربے استعمال کر رہی ہے آئی ایس آئی
آئی ایس آئی نے امریکی ملازمین کی جانچ پڑتال شروع کردی‘ امریکی خبررساں ادارہ
اسلام آباد( رائٹرز، اے پی ) ریمنڈ ڈیوس تنازع پر پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور امریکی سی آئی اے کے درمیان دوریاں بڑھ گئی ہیں۔ آئی ایس آئی، سی آئی اے سے راستے جدا کرنے کےلئے تیار ہے اور اس وقت دونوں ایجنسیوں کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے۔ آئی ایس آئی نے ریمنڈ ڈیوس کا کیس منظر عام پر آنے کے بعد میڈیا کے لئے ایک بیان تیار کیا تھا لیکن یہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ اس کی نقل امریکی نیوز ایجنسی اے پی نے حاصل کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سی آئی اے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرانے کے لئے دباﺅ کے حربے استعمال کررہی ہے اور اس معاملے کے بعد سی آئی اے نے دونوں ایجنسیوں کے تعلقات پر سوالیہ نشان ڈال دیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا اب تعلقات اس سطح پر پہنچ سکیں گے جہاں ریمنڈ ڈیوس کے واقعہ سے پہلے تھے۔ آئی سی آئی حکام نے خبر رساں اداروں کو انٹرویو میں بتایا کہ ڈیوس کے قبائلی علاقوں میں رابطے تھے اور وہ ان دونوں افراد کو جانتا تھا، جنہیں اس نے قتل کیا۔ آئی ایس آئی اس امکان پر بھی تحقیقات کررہی ہے کہ لاہور کی سڑک پر ہونے والا مبینہ مقابلہ ڈیوس کی کسی کے ساتھ ملاقات یا اسے دھمکیوں کے نتیجے میں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق سی آئی اے نے کئی مرتبہ آئی ایس آئی میں گھسنے اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کی ہے۔ آئی ایس آئی کو خدشہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں سی آئی اے کے سیکڑوں جاسوس سرگرم ہیں جن سے حکومت پاکستان اور انٹیلی جنس ایجنسی لا علم ہے۔ آئی ایس آئی ہزاروں امریکی ملازمین کے ویزوں کی جانچ پڑتال کررہی ہے۔ آئی ایس آئی کے اہلکار کا کہنا ہے کہ ڈیوس کی ویزہ درخواست میں جعلی حوالے اور فون نمبر دیئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کو ہدایت کی تھی کہ وزارت داخلہ اور آئی ایس آئی کی معمول کی جانچ پڑتال کے بغیر ویزے جاری کئے جائیں۔ اس ہدایت کے بعد سفارت خانے نے گزشتہ 5ماہ کے دوران امریکی سفارت خانے کے ہزاروں ملازمین کو ویزے جاری کئے۔ اسی طرح کی ہدایات برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں بھی پاکستانی سفارت خانوں کو دی گئی تھی۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی