واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پاکستان میں ”خوفناک“ امریکی سرگرمیاں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-09-09, 08:59 PM   #1
پاکستان میں ”خوفناک“ امریکی سرگرمیاں
رانا امر رانا امر آف لائن ہے 01-09-09, 08:59 PM

پاکستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی سینٹ ڈیپارٹمنٹ اورپینٹاگون کے عہدیداروں کی آمد و رفت میں جو اضافہ ہوا ہے اس سے قومی حلقوں میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں اور اس آمد و رفت کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کاآئینہ دار قراردیا جارہا ہے ان فوجی اور غیر فوجی عہدیداروں بالخصوص رچرڈ ہالبروک کی آمد کے بعد مائنس ون کے فارمولے کی بازگشت سنائی دی ہے جبکہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی عمارت میں توسیع کے نام پر ایک فوجی چھاﺅنی کی تعمیر کا انکشاف ہواہے۔

امریکا کی طرف سے وزیرستان میں فوجی آپریشن کیلئے دباﺅ بڑھنے کیساتھ ڈرون حملوں میں بھی تیزی آگئی ۔ حالانکہ سوات اور دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن کی کامیابی کے بعد یہ سلسلہ بند ہو جانا چاہئے تھا۔

پاکستان میں امریکی دخل اندازی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اسلام آباد میں سفارت خانے کی آڑ ھ میں امریکا اپنی چھاﺅنی قائم کررہاہے۔اسلام آباد میں امریکیوں نے200گھرکرائے پرلے رکھے ہیں اور یہ کون لوگ ہیں؟ ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ان سے یہ پوچھنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے۔

امریکی جب چاہتے ہیں کسی سے پوچھے بغیر رکاوٹیں کھڑی کرکے اسلام آباد کے راستے بندکردیتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق کوئی اعتراض کرتاہے تو دھمکی دیتے ہیں کہ پاکستان کی امداد بندکردیں گے۔ محض امداد کی خاطر حکمرانوں نے پاکستان کو امریکا کے حوالے کردیاہے۔

بدنام دہشت گرد تنظیم ”بلیک واٹر“ اسلام آباد ،لاہور اور کراچی سمیت کئی شہروں میں سرگرم ہے جس کے سربراہ پر عراق میں قتل اور عصمت دری کے کئی مقدمات چل رہے ہیں۔ اب یہ تجربہ پاکستان میں دوہرایاجارہاہے۔

خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیم ”بلیک واٹر“ کے ہرکارے چارٹرڈطیاروں میں آتے ہیں اور ویزا کا تکلف بھی نہیں کرتے چنانچہ ان کی آمدورفت کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں۔

پاکستان میں بلیک واٹر کا نام اسلام آباد میں میریٹ دھماکے کے وقت سامنے آیا اور بعض اخبارات و جرائد نے یہ دعوی کیا کہ اس دھماکے میں”بلیک واٹر“ کے اہلکار مارے گئے تاہم اب جبکہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو بلاجواز توسیع دی جا رہی ہے اور ایک ہزار میرینز کے تقرر کی اطلاعات گشت کر رہی ہیں جسکے بعد سے پاکستان کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور صحافتی حلقوں میںشدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ا

وبامہ حکومت کی طرف سے افغانستان میں20 ہزار سے زائد نئے فوجیوں کی پاک افغان سرحد پر تعیناتی اور آپریشن میں توسیع کے بعد پاکستان میں طالبان جنگجوﺅں کے منتقل ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے جس سے پاکستان کی قومی سلامتی متاثر ہو رہی ہے اس سے پہلے حکومت پاکستان نے ان جنگجوﺅں کی آمد و رفت روکنے کیلئے سرحد پر جن حفاظتی انتظامات کا تقاضہ کیا انہیں افغان حکومت نے مسترد کردیا۔

پاکستان کے تحفظات اور اندیشوں کو اہمیت دینے کے بجائے امریکا نے ڈرون حملے تیز کردیئے جس کی وجہ سے پاکستان کی خودمختاری سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ڈرون حملوں کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں بغاوت کی کیفیت پیدا ہوئی مگر حکومت پاکستان کے بار بار توجہ دلانے اور مودبانہ انداز میں مطالبہ کرنے کے باوجود امریکا نے ڈرون حملے تو خیرکیا بند کرنے تھے اب مسلسل دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ پاکستان سوات کی طرح کا آپریشن وزیرستان میں بھی کرے تاکہ آئندہ کئی برسوں تک پاکستان افغانستان کی طرح غیر مستحکم اور بدامنی کا شکار رہے۔

سابقہ اور موجودہ حکومتوں کی امریکا نواز پالیسیوں کے نتائج اب آہستہ آہستہ منظر عام پر آرہے ہیں اور امریکا جس کی نظریں ایک طرف پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر مرکوز ہیں تو دوسری طرف اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے قبائلی علاقوں سے بلوچستان تک خوفناک کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اب دو قدم آگے بڑھ کر اور بہت تیزی کے ساتھ اپنے مفادات حاصل کرنے کی تگ و دو میں اس کھیل کا آغاز کرنے جارہا ہے جو خونی کھیل اس نے کابل اور بغداد میں کھیلا ہے۔

امریکا خطے میں ایسے حالات پیدا کر رہا ہے کہ پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے۔ افغانستان میں پاکستان مخالف لابیوں کو حکومت سونپنا اور افغانستان کی سرزمین پر بھارت کو قونصل خانوں کی آڑ میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کی کھلی چھٹی دینا امریکا کا دوہرا معیار ہے۔

امریکا نے ایک طرف بھارت کو پاکستان کے خلاف سازشوں کا کھلا ماحول فراہم کرکے پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کی ہیں تو دوسری طرف امریکا خود جو کھیل کھیل رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ قبائلی علاقوں سے بلوچستان تک آگ و خون کا بازار گرم ہے۔ جاسوس طیاروں کے حملوں سے بے گناہوں کا خون بہایا جارہا ہے مگر دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ زبانی کلامی احتجاجی بیانات کے سوا امریکی جارحیت اور سازشوں کو روکنے کیلئے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا گیا۔

سیاستدان چاہے اپوزیشن میں ہو ں یا حکومت میں انہوں نے امریکا ہی کو اقتدار کی سیڑھی تصور کرتے ہوئے وہ حالات پیدا کیے کہ امریکا کی مرضی کے بغیر کوئی حکومت نہیں چل سکتی۔ سیاستدان پہلے تو امریکا کی پرزور الفاظ میں مخالفت کرتے ہیں اور جب انہیں یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اب عوام بیوقوف بن چکے ہیں تو وہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے امریکا کی گود میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جن امریکیوں کو ناپسندیدہ قراردے کر ملک سے نکالاگیاتھا ان کو دوبارہ ویزا دے دیا گیا۔ ایسے ہی ایک شخص نکولس شمیڈل کو جو بظاہرصحافی تھا مگر اس کی سرگرمیاں مشکوک تھیں پاکستان سے نکالاگیا تو اگلے ہی ہفتہ پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اس کو ویزا دے کر پھرواپس پاکستان بھجوادیا

۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگروہ شخص مشکوک سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا تو اسے نکالاکیوں گیا اور اگر وہ جاسوسی میں ملوث تھا تو حسین حقانی نے اس پر خصوصی نظرکرم کیوں فرمائی؟ کیا اس نے بھی پاکستان کی امداد رکوانے کی دھمکی دی تھی یاحسین حقانی بھی خصوصی امریکی دائرے کا ایک حصہ ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی توسیع پر مجھے کوئی پریشانی نہیں۔شاہ صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ سیاستدانوں اور حکمرانوں کا تو امریکا سے مفاد وابستہ ہوسکتا ہے اس لئے انہیں کوئی پریشانی نہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی17کروڑ عوام کو امریکی سرگرمیوں اور مستقبل کے حوالے سے خوفناک سازشوں پر شدید پریشانی لاحق ہے امریکا جن مقاصد کو لے کر آگے بڑھ رہا ہے اور اس خطے میں اپنے قدم جمانے کی جو کوششیں کر رہا ہے بھارت کو خطے کا تھانیدار بناکر پاکستان اور چین کیلئے جو مشکلات پیدا کرنا چاہتا ہے اس سے اب عوام واقف ہوچکے ہیں۔

امریکا ایک طرف پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے،بھارت کو پاکستان کے خلاف سازشوں کیلئے کھلی چھٹی دے رکھی ہے ،ڈرو ن حملے کیے جارہے ہیں تو دوسری طرف تعلقات کو مستحکم بنانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔امریکا کے خطے میں واضح خطرناک عزائم اور سازشوں کے طشت ازبام ہونے کے بعد ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی بے حسی دیکھ کر قوم سراپا احتجاج ہے ان کی سوالیہ نظریں پوچھتی ہیں کہ کب تک ہمارے حکمران اور سیاستدان امریکہ کے آگے جی حضوری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ملک و قوم کے مستقبل کو تاریک کرتے رہیں گے۔

حکومت کا فرض ہے کہ وہ پاکستانی عوام، سیاسی و مذہبی حلقوں اور پاک فوج کی قیادت کے تحفظات کی روشنی میں امریکا سے کھل کر بات کرے۔ ”بلیک واٹر“ کے کارندوں کو ملک سے باہر نکالا جائے کہ یہ ہمارے ایٹمی اثاثوں اور قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی توسیع کے نام پر فوجی اڈے میں تبدیلی کرنے کے فیصلے کی مزاحمت کی جائے اور امریکا کے کہنے پر کوئی نیا فوجی آپریشن ہر گز نہ کیا جائے۔ اب تمام سیاستدانوں،حکمرانوں اور مذہبی جماعتوں کو مل کر امریکا کے جارحانہ عزائم کو روکنا ہوگا۔

قوم گزشتہ62 سالوں سے جاری امریکا کی پاکستان کے سیاسی،داخلی ،عسکری ،معاشی اور سماجی شعبوں میں مداخلت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے ہم بچ نہیں سکیں گے اب ہمیں حقائق کا ادراک کرتے ہوئے وہ انقلابی فیصلے کرنا ہوں گے جس سے ملک و قوم کا مستقبل محفوظ ہو۔

انشاءاللہ

 
رانا امر's Avatar
رانا امر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 833
شکریہ: 4,245
514 مراسلہ میں 1,420 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 112
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رانا امر کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (02-09-09), حیدر (01-09-09), راجہ اکرام (01-09-09)
پرانا 01-09-09, 10:45 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,396
کمائي: 96,036
شکریہ: 52,538
11,185 مراسلہ میں 35,277 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ابھی نازل ہو جائیں گے ڈیجیٹل مشین صاحب اور ٹھک ٹھک سے وہی گھسے پٹے بیانات داغنا شروع کر دیں گے۔
حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (02-09-09), رانا امر (05-09-09)
پرانا 01-09-09, 11:43 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 682
کمائي: 12,905
شکریہ: 0
368 مراسلہ میں 710 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

ظاہر ہے کہ سيکورٹی کے پيش نظر ميں ايک پبلک فورم پر اسلام آباد ميں کام کرنے والے امريکی مرينز کی لسٹ تو نہيں دکھا سکتا ليکن ميں چاہوں گا کہ آپ اس ضمن ميں خارجہ امور کے اسٹيٹ منسٹر نواب زادہ ملک عماد کا ٹی وی ٹاک شو "آف دا ريکارڈ" ميں ديا گيا جواب ضرور سن ليں۔

Siasat.pk • Off The Record with Kashif Abbasi 19th August 2009

اس کے علاوہ 12 اگست کو روزنامہ جنگ ميں وزارت خارجہ کے ترجمان عبدل باسط کے ترديدی بيان ميں امريکی مرينز کی تعداد کا موازنہ بھی کريں۔

http://img195.imageshack.us/img195/7...mage002muq.jpg

يہ بيانات امريکی اہلکاروں کی جانب سے نہيں آۓ۔ يہ اہم عہدوں پر فائز پاکستان کے افسران ہيں جن کے متعلقہ محکمے کلی طور پر اس بات کے ذمہ دار ہيں کن غير ملکی اشخاص کو پاکستان ميں کام کرنے اور رہنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ان دونوں بيانات سے ميری گزشتہ پوسٹ کی توثيق ہو جاتی ہے جس ميں واضح کيا تھا کہ اس وقت صرف 20 امريکی مرينز پاکستان ميں خدمات انجام دے رہے ہيں جو دنيا بھر ميں امريکی سفارت خانوں ميں تعنيات مرينز کی تعداد کے عين مطابق ہے۔

اس کے مقابلے ميں آپ ان حلقوں کے بيانات کا بھی جائزہ ليں جو اس "سازش" پر يقين رکھتے ہيں۔ ان ميں سے کسی کے بيان ميں بھی امريکی مرينز کی تعداد کے حوالے سے يکسانيت نہيں ہے۔ يہ تعداد 350 سے لے کر 7500 تک بتائ جاتی ہے جو کہ انتہائ مضحکہ خيز اور ناقابل فہم ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
Fawad کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (02-09-09)
پرانا 02-09-09, 02:14 AM   #4
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,907
کمائي: 561,132
شکریہ: 25,577
10,452 مراسلہ میں 38,593 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رانا امر مراسلہ دیکھیں
پاکستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی سینٹ ڈیپارٹمنٹ اورپینٹاگون کے عہدیداروں کی آمد و رفت میں جو اضافہ ہوا ہے اس سے قومی حلقوں میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں اور اس آمد و رفت کو پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کاآئینہ دار قراردیا جارہا ہے ان فوجی اور غیر فوجی عہدیداروں بالخصوص رچرڈ ہالبروک کی آمد کے بعد مائنس ون کے فارمولے کی بازگشت سنائی دی ہے جبکہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی عمارت میں توسیع کے نام پر ایک فوجی چھاﺅنی کی تعمیر کا انکشاف ہواہے۔

امریکا کی طرف سے وزیرستان میں فوجی آپریشن کیلئے دباﺅ بڑھنے کیساتھ ڈرون حملوں میں بھی تیزی آگئی ۔ حالانکہ سوات اور دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن کی کامیابی کے بعد یہ سلسلہ بند ہو جانا چاہئے تھا۔

پاکستان میں امریکی دخل اندازی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اسلام آباد میں سفارت خانے کی آڑ ھ میں امریکا اپنی چھاﺅنی قائم کررہاہے۔اسلام آباد میں امریکیوں نے200گھرکرائے پرلے رکھے ہیں اور یہ کون لوگ ہیں؟ ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ان سے یہ پوچھنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے۔

امریکی جب چاہتے ہیں کسی سے پوچھے بغیر رکاوٹیں کھڑی کرکے اسلام آباد کے راستے بندکردیتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق کوئی اعتراض کرتاہے تو دھمکی دیتے ہیں کہ پاکستان کی امداد بندکردیں گے۔ محض امداد کی خاطر حکمرانوں نے پاکستان کو امریکا کے حوالے کردیاہے۔

بدنام دہشت گرد تنظیم ”بلیک واٹر“ اسلام آباد ،لاہور اور کراچی سمیت کئی شہروں میں سرگرم ہے جس کے سربراہ پر عراق میں قتل اور عصمت دری کے کئی مقدمات چل رہے ہیں۔ اب یہ تجربہ پاکستان میں دوہرایاجارہاہے۔

خطرناک ترین پہلو یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیم ”بلیک واٹر“ کے ہرکارے چارٹرڈطیاروں میں آتے ہیں اور ویزا کا تکلف بھی نہیں کرتے چنانچہ ان کی آمدورفت کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں۔

پاکستان میں بلیک واٹر کا نام اسلام آباد میں میریٹ دھماکے کے وقت سامنے آیا اور بعض اخبارات و جرائد نے یہ دعوی کیا کہ اس دھماکے میں”بلیک واٹر“ کے اہلکار مارے گئے تاہم اب جبکہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کو بلاجواز توسیع دی جا رہی ہے اور ایک ہزار میرینز کے تقرر کی اطلاعات گشت کر رہی ہیں جسکے بعد سے پاکستان کے سیاسی، سماجی، مذہبی اور صحافتی حلقوں میںشدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ا

وبامہ حکومت کی طرف سے افغانستان میں20 ہزار سے زائد نئے فوجیوں کی پاک افغان سرحد پر تعیناتی اور آپریشن میں توسیع کے بعد پاکستان میں طالبان جنگجوﺅں کے منتقل ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے جس سے پاکستان کی قومی سلامتی متاثر ہو رہی ہے اس سے پہلے حکومت پاکستان نے ان جنگجوﺅں کی آمد و رفت روکنے کیلئے سرحد پر جن حفاظتی انتظامات کا تقاضہ کیا انہیں افغان حکومت نے مسترد کردیا۔

پاکستان کے تحفظات اور اندیشوں کو اہمیت دینے کے بجائے امریکا نے ڈرون حملے تیز کردیئے جس کی وجہ سے پاکستان کی خودمختاری سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ڈرون حملوں کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں بغاوت کی کیفیت پیدا ہوئی مگر حکومت پاکستان کے بار بار توجہ دلانے اور مودبانہ انداز میں مطالبہ کرنے کے باوجود امریکا نے ڈرون حملے تو خیرکیا بند کرنے تھے اب مسلسل دباﺅ ڈالا جا رہا ہے کہ پاکستان سوات کی طرح کا آپریشن وزیرستان میں بھی کرے تاکہ آئندہ کئی برسوں تک پاکستان افغانستان کی طرح غیر مستحکم اور بدامنی کا شکار رہے۔

سابقہ اور موجودہ حکومتوں کی امریکا نواز پالیسیوں کے نتائج اب آہستہ آہستہ منظر عام پر آرہے ہیں اور امریکا جس کی نظریں ایک طرف پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پر مرکوز ہیں تو دوسری طرف اپنے مفادات حاصل کرنے کیلئے قبائلی علاقوں سے بلوچستان تک خوفناک کھیل کھیلنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اب دو قدم آگے بڑھ کر اور بہت تیزی کے ساتھ اپنے مفادات حاصل کرنے کی تگ و دو میں اس کھیل کا آغاز کرنے جارہا ہے جو خونی کھیل اس نے کابل اور بغداد میں کھیلا ہے۔

امریکا خطے میں ایسے حالات پیدا کر رہا ہے کہ پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے۔ افغانستان میں پاکستان مخالف لابیوں کو حکومت سونپنا اور افغانستان کی سرزمین پر بھارت کو قونصل خانوں کی آڑ میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کی کھلی چھٹی دینا امریکا کا دوہرا معیار ہے۔

امریکا نے ایک طرف بھارت کو پاکستان کے خلاف سازشوں کا کھلا ماحول فراہم کرکے پاکستان کیلئے مشکلات پیدا کی ہیں تو دوسری طرف امریکا خود جو کھیل کھیل رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ قبائلی علاقوں سے بلوچستان تک آگ و خون کا بازار گرم ہے۔ جاسوس طیاروں کے حملوں سے بے گناہوں کا خون بہایا جارہا ہے مگر دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کی حالت یہ ہے کہ زبانی کلامی احتجاجی بیانات کے سوا امریکی جارحیت اور سازشوں کو روکنے کیلئے کوئی مثبت اقدام نہیں کیا گیا۔

سیاستدان چاہے اپوزیشن میں ہو ں یا حکومت میں انہوں نے امریکا ہی کو اقتدار کی سیڑھی تصور کرتے ہوئے وہ حالات پیدا کیے کہ امریکا کی مرضی کے بغیر کوئی حکومت نہیں چل سکتی۔ سیاستدان پہلے تو امریکا کی پرزور الفاظ میں مخالفت کرتے ہیں اور جب انہیں یہ یقین ہو جاتا ہے کہ اب عوام بیوقوف بن چکے ہیں تو وہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے امریکا کی گود میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جن امریکیوں کو ناپسندیدہ قراردے کر ملک سے نکالاگیاتھا ان کو دوبارہ ویزا دے دیا گیا۔ ایسے ہی ایک شخص نکولس شمیڈل کو جو بظاہرصحافی تھا مگر اس کی سرگرمیاں مشکوک تھیں پاکستان سے نکالاگیا تو اگلے ہی ہفتہ پاکستانی سفیر حسین حقانی نے اس کو ویزا دے کر پھرواپس پاکستان بھجوادیا

۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگروہ شخص مشکوک سرگرمیوں میں ملوث نہیں تھا تو اسے نکالاکیوں گیا اور اگر وہ جاسوسی میں ملوث تھا تو حسین حقانی نے اس پر خصوصی نظرکرم کیوں فرمائی؟ کیا اس نے بھی پاکستان کی امداد رکوانے کی دھمکی دی تھی یاحسین حقانی بھی خصوصی امریکی دائرے کا ایک حصہ ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی توسیع پر مجھے کوئی پریشانی نہیں۔شاہ صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ سیاستدانوں اور حکمرانوں کا تو امریکا سے مفاد وابستہ ہوسکتا ہے اس لئے انہیں کوئی پریشانی نہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی17کروڑ عوام کو امریکی سرگرمیوں اور مستقبل کے حوالے سے خوفناک سازشوں پر شدید پریشانی لاحق ہے امریکا جن مقاصد کو لے کر آگے بڑھ رہا ہے اور اس خطے میں اپنے قدم جمانے کی جو کوششیں کر رہا ہے بھارت کو خطے کا تھانیدار بناکر پاکستان اور چین کیلئے جو مشکلات پیدا کرنا چاہتا ہے اس سے اب عوام واقف ہوچکے ہیں۔

امریکا ایک طرف پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے،بھارت کو پاکستان کے خلاف سازشوں کیلئے کھلی چھٹی دے رکھی ہے ،ڈرو ن حملے کیے جارہے ہیں تو دوسری طرف تعلقات کو مستحکم بنانے کی باتیں کی جاتی ہیں۔امریکا کے خطے میں واضح خطرناک عزائم اور سازشوں کے طشت ازبام ہونے کے بعد ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی بے حسی دیکھ کر قوم سراپا احتجاج ہے ان کی سوالیہ نظریں پوچھتی ہیں کہ کب تک ہمارے حکمران اور سیاستدان امریکہ کے آگے جی حضوری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ملک و قوم کے مستقبل کو تاریک کرتے رہیں گے۔

حکومت کا فرض ہے کہ وہ پاکستانی عوام، سیاسی و مذہبی حلقوں اور پاک فوج کی قیادت کے تحفظات کی روشنی میں امریکا سے کھل کر بات کرے۔ ”بلیک واٹر“ کے کارندوں کو ملک سے باہر نکالا جائے کہ یہ ہمارے ایٹمی اثاثوں اور قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی توسیع کے نام پر فوجی اڈے میں تبدیلی کرنے کے فیصلے کی مزاحمت کی جائے اور امریکا کے کہنے پر کوئی نیا فوجی آپریشن ہر گز نہ کیا جائے۔ اب تمام سیاستدانوں،حکمرانوں اور مذہبی جماعتوں کو مل کر امریکا کے جارحانہ عزائم کو روکنا ہوگا۔

قوم گزشتہ62 سالوں سے جاری امریکا کی پاکستان کے سیاسی،داخلی ،عسکری ،معاشی اور سماجی شعبوں میں مداخلت کا خاتمہ چاہتی ہے۔ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے ہم بچ نہیں سکیں گے اب ہمیں حقائق کا ادراک کرتے ہوئے وہ انقلابی فیصلے کرنا ہوں گے جس سے ملک و قوم کا مستقبل محفوظ ہو۔

انشاءاللہ
اللہ پاک انشاء اللہ اس ملک کو قیامت تک قائم و دائم رکھے گا انشاءاللہ
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
رانا امر (05-09-09)
جواب

Tags
color, magenta, فرض, کوششیں, کراچی, پاکستان, پاکستانی, لوگ, چین, موجودہ, منتقل, آپریشن, امریکہ, اسلام, خلاف, خصوصی, شخص, طالبان, عوام, عمارت, عراق, عرض, عزائم, عصمت, صحافتی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
القاعدہ افغانستان میں نہیں ، امریکی فوج پھنسی ہوئی ہے، پاکستان سب سے اہم ہے:امریکی تجزیہ کار جاویداسد خبریں 1 24-10-10 06:52 AM
وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان ابن جلال خبریں 2 18-09-08 11:51 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 08:36 AM
بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس پاکستانی خبریں 0 15-09-07 03:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:00 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger