|
پاکستان کے بہتر مستقبل کیلئے عدلیہ اور میڈیا کی آزادی لازمی ہے،جیو نیٹ ورک کی نشر یات فوری بحال کی جائیں ،امر یکی ارکان کا نگر یس

07-12-07, 08:16 AM
واشنگٹن (عظیم ایم میاں/نمائندہ جنگ) امریکی اراکین کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر پرویز مشرف فوری طور پر جیو ٹی وی کی نشریات بحال کریں انہوں نے کہا کہ ہٹلر نے بھی اپنی ذات کیلئے ججوں سے حلف لیا تو دنیا تباہی کا شکار ہوئی، وہ کانگریس بلڈنگ میں پاکستانیوں سے خطاب کررہے تھے۔ امریکی کانگریس مینوں کی اکثریت نے واضح الفاظ میں کہا کہ صدر مشرف ایک ذات ہیں اور امریکا کی دوستی پاکستان اور اس کے عو ام سے ہے کسی ایک ذات سے دوستی نہیں ہے۔ ”ڈیموکریسی فار ڈاکٹرز“ اور دیگر 9/ تنظیموں کے مشترکہ پلیٹ فارم پر امریکی کانگریس کی بلڈنگ ”رے برن“ میں ہونے والے اجتماع میں امریکی خاتون سینیٹر کلیئر میکاسکل کے علاوہ سات اراکین کانگریس نے خطاب کیا جبکہ اس سے ملحقہ امریکی کانگریس کی عمارت ”لانگ ورتھ“ بلڈنگ میں پاکستان کے سرکاری وفد اور سفارتخانہ پاکستان اور ”پال سی“ نامی تنظیم کی مشترکہ کوششوں سے صرف تین اراکین کانگریس نے شرکت کی جن میں کانگریس مین ڈین برٹن اور باب ایتھرج بھی شامل تھے۔ اس اجتماع میں امریکا میں پاکستان کے سفیر جنرل (ر) محمود درانی ان کا سفارتی عملہ، امریکن جیوئش کانگریس کے چیئرمین جیک روزن بھی شریک تھے لیکن اس اجتماع میں بھی وفد کے اراکین کو صدر مشرف کی حمایت کے ریمارکس کے جواب میں سخت سوالات اور برہمی کا رویہ شرکاء کی جانب سے ملا اور نیویارک کی طرح واشنگٹن میں بھی وفد کے اراکین کا مشن بالکل ناکام رہا۔ البتہ وفد کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے پاکستانی سفیر اور امریکن جیوئش کانگریس کے صدر جیک روزن کیساتھ کانگریس مین ٹام لیٹوس اور دیگر چند اراکین کانگریس کے دفاتر میں جاکر ملاقاتیں کیں۔ ادھر پاکستانی کمیونٹی کی تنظیموں کے اشتراک سے منعقدہ اجتماع میں شریک ہونے والے ار اکین کانگریس نے کھل کر عدلیہ کے ججوں کی بحالی اور میڈیا سے پابندیوں کے خاتمہ اور جمہوری عمل کی شفاف انداز میں بحالی کے مطالبہ کے علاوہ مشرف حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، امریکی رکن کانگریس سٹیو اسرائیل نے کہا کہ ہٹلر نے عدلیہ کے ججوں سے اپنی شخصیت کیلئے حلف اٹھوایا تو اس کے نتیجہ میں دنیا میں تباہی آئی جب عدلیہ کو ایک نظام اور قانون کی بالادستی کیلئے حلف لینے اور کام کرنے کی بجائے کسی شخصیت سے وفاداری کیلئے حلف اٹھوایا جائے تو یہ امن اور جمہوریت کیلئے انتہائی خطرناک وقت ہوتا ہے، میں صدر مشرف سے مل چکا ہوں انہوں نے عدلیہ کے ججوں سے پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر میڈیا پر پابندیاں عائد کرکے پاکستان کی بجائے اپنے ذاتی مفاد اور شخصیت کو بچانے کی کوشش کی ہے جو غلط اقدام ہے۔ امریکا کسی شخصیت کا نہیں پاکستان اور اس کے عوام کا دوست ہے ۔ اس اجتماع میں شریک ہونے والے اراکین کانگریس ٹرینٹ فرینک، نک راحل، سٹیو اسرائیل اور دیگر چار ار اکین کانگریس نے واضح الفاظ میں مطالبہ کیا کہ ”جیو“ ٹی وی کی نشریات کو فوراً بحال کیا جائے۔ امریکی خاتون سینیٹر کلیئر میکاسکل اور سات امریکی اراکین کانگریس نے واضح الفاظ میں ”جیو“ پر مسلسل پابندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشرف حکومت کے اس اقدام کو جمہوری معاشرہ اور عمل کے منافی اقدام قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ یہ پابندیاں فوری طو پر ختم کی جائیں، ان اراکین کانگریس نے عدلیہ کے ججوں کی برطرفی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی بحالی اور شفاف انتخابات کا بھی مطالبہ کیا جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں کے نمائندوں نے بھی میڈیا کی آزادی اور ججوں کی بحالی کی پرزور حمایت کرتے ہوئے صدر مشرف کے ایمرجنسی کے نفاذ اور دیگر اقدامات کی مذمت بھی کی۔ امریکی ”کیپٹل ہل“ پر جن تنظیموں کے اشتراک سے پاکستانی عدلیہ کی بحالی کیلئے ”دن“ منا کر ان کانگریس مینوں کو مدعو کیا گیا تھا ان ”ڈاکٹرز فار ڈیموکریسی“ ایسوسی ایشن آف پاکستانی پروفیشنلز ”انا“ ”امریکن مسلم پیس انی شیٹو“ پاکستانی فزیشنز برائے جمہوریت و انصاف، پاکستان امریکن ڈائیلاگ، پاکستانی امریکن کانگریس، فرینڈز آف ساؤتھ ایشیا، سندھی ایسوسی ایشن آف نارتھ امریکا نامی غیر سیاسی تنظیمیں شامل ہیں جبکہ مقامی تحریک انصاف کے نمائندے بھی اس میں شریک ہوئے اس اجتماع سے خطاب کے بعد کانگریس مین سٹیو اسرائیل نے اپنے حلقہ کے پاکستانی ووٹر ڈاکٹر عبدالمجید کے ہمراہ نمائندہ ”جنگ“ سے گفتگو کرتے ہوئے ”جیو“ ٹی وی پر پابندیوں کو انتہائی غیر جمہوری اور آمرانہ قرار دیا اور کہا کہ وہ صدر بش سے مطالبہ کریں گے کہ پاکستان میں میڈیا کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|