پاکستان کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں نیشنل فیشن اینڈ آرٹ کونسل کے تعاون سے ایک روزہ فیشن شو منعقد ہوا۔
اس فیشن شو میں مختلف ڈیزائنرز کے تیار کردہ ملبوسات پیش کیے گئے اور شو میں پشاور، کراچی اور اسلام آباد کی مختلف ماڈلز کے علاوہ قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے مرد ماڈلز نے بھی حصہ لیا۔
فیشن شو کے انعقاد میں صوبائی سیاحت کے ادارے کا تعاون بھی حاصل تھا جس کا اہتمام پشاور کے ایک نجی ہوٹل میں کیا گیا تھا۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ پشاور میں اس نوعیت کے پہلے فیشن شو کے انعقاد کا مقصد خیبر پختونخوا کے عوام کو ملبوسات کے ڈیزائنوں سے آگاہ کرنا ہے۔
اس فیشن شو میں سیاحت کے سیکرٹری اعظم خان اور وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے بھی شرکت کی۔

اس فیشن شو میں خیبر پختونخوا کے علاوہ قبائلی علاقوں کے لڑکے بھی ماڈل کے طور آئے تھے
اس موقع پر کراچی سے آنے والی ایک ماڈل نادیہ حسین نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ وہ پشاور آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور آنے سے پہلے اس شہر کے بارے میں ان کے تاثرات مختلف تھے۔ ’میں کراچی سے آئی ہوں جہاں ہمیں بہت سی خبریں ملتی رہتی ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی ملک میں رہتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کے شہروں کو سپورٹ کریں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور کو سپورٹ کرنے کے لیے وہ پھر اس شہر میں آئیں گی۔
اس فیشن شو میں خیبر پختونخوا کے علاوہ قبائلی علاقوں کے لڑکے بھی ماڈل کے طور آئے تھے۔
خیبر ایجنسی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے سمین جان نے بتایا کہ وہ ٹی وی پر فیشن شو دیکھتے تھے۔ جس سے متاثر ہو کر انہوں نے ماڈل بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب پشاور میں اس قسم کے شو شروع ہوگئے ہیں لہذا وہ اپنے مستقبل کو بہت روشن دیکھتے ہیں۔
پشاور شہر کے رہنے والے بشارت حسین نے کہا کہ اس میدان میں انہیں آٹھ ماہ ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عموماً پشتون معاشرے میں ماڈلنگ کو اچھا محسوس نہیں کیا جاتا لیکن ان کے سلیکشن پر ان کے گھر والے بہت خوش تھے۔
خبر