|
پنجاب ،سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں تحلیل،آج نگراں وزرائے اعلیٰ حلف اٹھائیں گے

19-11-07, 05:29 PM
کراچی، لاہور، کوئٹہ (جنگ نیوز) پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں35سالہ پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار اپنی آئینی مدت مکمل ہونے پر اتوار کی رات تحلیل کردی گئیں۔ قومی وصوبائی گورنرز نے وزیراعلیٰ کی سفارش پر صوبائی اسمبلیاں توڑدیں اسمبلیوں کی تحلیل کا عمل مکمل ہوگیا۔ نگراں وزرائے اعلیٰ اور ان کی کابینہ پیر کو حلف اٹھائے گی۔ واضح رہے کہ سرحد اسمبلی8 اکتوبر کو ہی تحلیل ہوچکی ہے جبکہ قومی اسمبلی 15نومبر کو تحلیل ہوئی۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد انتخابی سرگرمیاں شروع ہوجائیں گی۔ کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے سندھ اسمبلی کے پانچ سال پورے ہونے پر اتوار کی شب 10 بجے سندھ اسمبلی تحلیل کردی۔ اسمبلی تحلیل کرنے کی سفارش وزیراعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے کی۔ نگراں وزیراعلیٰ اپنی کابینہ کے ہمراہ پیر کی صبح 11 بجے گورنر ہاؤس میں حلف اٹھائیں گے۔ حلف گورنر سندھ لیں گے۔ اے پی پی کے مطابق 12دسمبر 2002ء کو قائم ہونے والی سندھ اسمبلی کے مجموعی طورپر168 ارکان تھے جن میں خواتین کی خصوصی نشست پر29 خواتین اور9 اقلیتی ارکان شامل تھے ۔ سید مظفر حسین شاہ نے سندھ اسمبلی کی پوری مدت کے دوران اسپیکر کے فرائض انجام دیئے ۔ سندھ اسمبلی بننے کے بعد پہلے وزیراعلیٰ کا حلف سردار مہر علی نے اٹھایا جبکہ ان کے استعفیٰ کے بعد ڈاکٹر ارباب غلام رحٰم نے 26ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے9 جون2004ء کو اقتدار سنبھالا اور اسمبلی کی مدت ختم ہونے تک وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ اسمبلی کی مدت میں وزیراعلیٰ سندھ ،اسپیکر سندھ اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی کے خلاف ایک ایک مرتبہ تحریک عدم اعتماد پیش ہوئیں تاہم یہ تینوں تحاریک ناکام ہوئیں ۔ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی سفارش پر گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے صوبائی اسمبلی تحلیل کردی۔ نگراں وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کے ارکان(آج) پیر کو گورنر ہاؤس میں حلف اٹھائیں گے۔ 371 رکنی پنجاب اسمبلی نے10اکتوبر 2002ء کے انتخابات کے بعد25 نومبر کو پہلے اجلاس سے اپنی کارروائی کاآغاز کیا تھا۔ بلوچستان کے گورنر اویس احمد غنی کو اسمبلی کی تحلیل کی سفارش وزیراعلیٰ جام میرمحمد یوسف نے کی۔ 61رکنی بلوچستان اسمبلی کا پہلا اجلاس28نومبر 2002ء جبکہ آخری اور34 واں اجلاس17نومبر 2007ء کو اسپیکر جمال شاہ کاکڑ کی صدارت میں ہوا۔ جام محمد یوسف نے یکم دسمبر2002ء کو وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھا کر اقتدار سنبھالا تھا۔ 28نومبر 2002ء سے اب تک اس کے34 اجلاس منعقد ہوئے اسی دوران اسمبلی کو45 بل موصول ہوئے جن میں سے37 پاس ہوئے ایوان میں70 سرکاری قراردادیں پیش ہوئیں جن میں سے46پاس ہوئیں اور غیرسرکاری موصول شدہ221 قراردادوں میں سے99 پاس ہوئیں۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|