ایوان میں لوٹے ٹھاہ ، جئے بھٹو اور جئے نواز شریف کے نعرے، حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا، سپیکر بے بس نظر آئے
شہباز شریف لوٹا کریسی نہ کریں، ضرورت پڑی تو اپنا کندھا پیش کر دینگے، ہماری قیادت کیخلاف بات ہوئی تو کوئی محفوظ نہیں رہے گا، راجہ ریاض
لاہور (نمائندگان جنگ،آن لائن، جی این آئی) پنجاب اسمبلی میں گزشتہ روز شدید ہنگامہ آرائی ہوئی پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے اپوزیشن ارکان نے یونیفکیشن گروپ کے حکومتی بنچوں پر بیٹھنے پر شدید احتجاج کیا اور انہوں نے اجلاس شروع ہوتے ہی پلاسٹک کے لوٹے والی تصاویر کے پلے کارڈ لہرا دیئے جس پر ایوان کے اندر حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے مابین زبردست نعرے بازی ہوئی جس سے ایوان مچھلی منڈی بن گیا اور کارروائی معطل ہو کر رہ گئی اراکین دونوں طرف سے اپنی نشستیں چھوڑ کر آگے آ گئے اور اس دوران حکومت اور اپوزیشن اراکین میں ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی۔ سپیکر رانا محمد اقبال خان نے متعدد بار اراکین کو نعرے بازی سے روکا مگر اراکین نے ان کی ایک نہ سنی اور اراکین کی لوٹے ٹھاہ، جئے بھٹو، جئے نواز شریف، بی بی تیرے خون سے انقلاب آئیگا۔ سپیکر نے نماز عصر کا وقفہ کر کے ایوان کے اندر ہنگامہ آرائی کو روکا۔ ایوان میں وفاقی وزیر شہباز بھٹی کے قتل کے خلاف قرارداد مذمت بھی منظور کی گئی گزشتہ روز اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن کی خواتین اراکین سیمل کامران، ڈاکٹر سامعہ امجد، ماجدہ زیدی، آمنہ الفت، ساجدہ میر، فائزہ ملک اور عظمیٰ بخاری نے ایوان میں لوٹے لہرائے، یونیفکیشن گروپ کے اراکین کے حکومتی بنچوں پر بیٹھنے پر احتجاج کیا اور پلے کارڈ لہرا کر لوٹا ٹھاہ لوٹا ٹھاہ کے نعرے لگائے۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض احمد، چودھری ظہیر الدین، کرنل (ر) نوید، شوکت بسرا، حسن مرتضیٰ اور دیگر اراکین نے ان کی بھرپور حمایت کی جس کے جواب میں مسلم لیگ (ن) اور یونیفکیشن گروپ کی اراکین نسیم لودھی، صبا صادق، طیبہ ضمیر، فرح دیبا نے پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف نعرے بازی کی۔ اپوزیشن رکن نے اپنی جوتیاں اتارکر لوٹے پر ماریں جس پر ملک وارث کلو جذباتی انداز میں اٹھ کر تقریر کرنے لگے اور شدید غصے میں ان کا بلڈ پریشر ہائی ہو گیا۔ ڈپٹی سپیکر رانا مشہود خان، رانا محمد ارشد، شمس حیدر، ثناءاللہ مستی خیل، سید ضیغم حسین قادری نے سرکاری اراکین کو آگے بڑھنے سے روک کر معاملہ کو ٹھنڈا کرنے کی بھرپور کوشش کی اور ایک گھنٹے تک حکومتی خواتین اور اپوزیشن اراکین کی نعرے بازی سے ایوان کی کارروائی نہ ہو سکی۔ سپیکر رانا اقبال نے بار بار اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کو مائیک دیا مگر حکومتی اراکین کی مداخلت اور نعرے بازی سے وہ اپنی تقریر جاری نہ رکھ سکے۔ وزیر خزانہ سردار ذوالفقارکھوسہ حکومتی اراکین کو نعرے بازی سے روکتے رہے مگر اراکین نے ان کی بھی نہ سنی۔ صوبائی وزراءرانا ثناءاللہ خان، چودھری عبدالغفور، حسام الدین قریشی، ندیم کامران، احمد علی اولکھ، ملک اقبال خان، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن خاموشی سے ماحول کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ رانا ثناءاللہ اور سردار ذوالفقار کھوسہ نے صورتحال کو سنبھالنے کیلئے مشاورت کی اور اصغر علی منڈا سمیت دیگر اراکین کو سمجھایا لیکن اپوزیشن اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر نعرے لگائے۔ صغیرہ اسلام، ڈاکٹر سامعہ امجد اور آمنہ الفت نے اقلیتی اراکین کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر احتجاج کیا۔ عمران نذیر نے بی بی ہم شرمندہ ہیں تیرے قاتل زندہ ہیں کا نعرہ لگایا تو پیپلز پارٹی کے متعدد اراکین ان پر جھپٹ پڑے تاہم ڈپٹی سپیکر رانا نے انہیں سمجھایا اور عمران نذیر کو ایوان سے باہر بھیج دیا۔ سپیکر حکومتی اور سرکاری اراکین کو خاموش کرانے میں بے بس نظر آئے۔ سپیکر نے اراکین سے کہا کہ وہ ایوان کو مذاق نہ بنائیں مگر اراکین نے ان کی ایک نہ سنی۔ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے خطاب شروع کیا مگر ن لیگ کے ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی جس پر اپوزیشن رکن شوکت بسرا نے سپیکر سے کہا کہ اگر سرکاری اراکین نے اپوزیشن لیڈر کی بات نہ سنی تو ہم شہباز شریف کو بات نہیں کرنے دیں گے۔ سپیکر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈرکی بات سنی جائے۔ قائد حزب اختلاف راجہ ریاض احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم میاں نواز شریف سے کہتے ہیں کہ وہ 17کروڑ عوام سے کیا گیا وعدہ نہ توڑیں خدا کے لئے لوٹا کریسی نہ کریں اگر انہیں ایوان میں ضرورت پڑی تو ہم انہیں کندھا پیش کر دیں گے پیپلز پارٹی کا کندھا حاضر ہے انہوں نے کہا جنرل جہانگیر کرامت نے نواز دور میں مشاورت کی بات کی تو نواز شریف نے انہیں گھر بھیج دیا آج وہی بات شہباز شریف کر رہے ہیں اس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے شیم شیم کے نعرے لگائے ن لیگ کے بعض ارکان کے ریمارکس پر پیپلز پارٹی کے ارکان مشتعل ہوگئے راجہ ریاض نے کہا کہ ہماری قیادت کے خلاف کوئی بات کی گئی تو پھر کوئی بھی ردعمل سے محفوظ نہیں رہے گا ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی میں جو باتیں کیں ہمیں وہ دھرانا پڑیں گی اسی دوران پیپلز پارٹی کے شوکت یسرا اور مسلم لیگ (ن) کے آجاسم شریف میں تلخ کلامی بڑھ گئی دونوں دست و گریبان ہونے لگے تھے کہ رانا مشہود، ذوالفقار کھوسہ، ذوالفقار گوندل، تنویر اشرف کائرہ اور دیگر نے بیچ بچاﺅ کرا دیا تقریباً 15منٹ تک اس ہنگامہ آرائی کے بعد سپیکر کے طلب کرنے پر ان کی چیئر کے پاس رانا ثناءاللہ، راجہ ریاض، رانا مشہد کی مختصر میٹنگ ہوئی جس کے بعد دونوں اطراف کے رہنماﺅں نے اپنے ارکان کو نشستوں پر بٹھایا راجہ ریاض نے کہا کہ ہم مسلم لیگ (ن) سے کہتے ہیں کہ انہوں نے چودھری شجاعت کے جو چوزے چرائے ہیں وہ ان کے ڈربے میں واپس بھیج دیں اس سے ایوان کا ماحول بہتر ہو جائے گا ورنہ روزانہ ایسی صورتحال پیدا ہوتی رہے گی پنجاب 485 ارب روپے کا مقروض ہوگیا ہے انہوں نے کہا اس وقت لاہور میں روزانہ 200 ڈکیتیاں ہو رہی ہیں کرائم ریٹ 25فیصد بڑھ گیا ہے 34 ارب روپے سستی روٹی سکیم میں ہڑپ کر لئے گئے آشیانہ سکیم کہاں گئی آج طلبہ ، اساتذہ، ڈاکٹر سب سڑکوں پر ہیں پاکستان بننے سے آج تک کبھی رولنمبر سلپ کا مسئلہ نہ ہوا تھا لیکن آج گڈ گورننس رولنمبر سلپس بھی ہڑپ کر گئی ہے۔ سپیشل رپورٹر کے مطابق راجہ ریاض نے کہا وزیر اعلیٰ پنجاب کو ڈاکٹر توقیر نے یرغمال بنایا ہوا ہے پورے صوبے کو ایک ڈاکٹر چلا رہا ہے انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ کے پاس کوئی سیاسی ٹیم نہیں میرا ایم پی اے بھائیوں کو مشورہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب تو یرغمال ہیں ان کو آزاد کرایا جائے راجہ ریاض نے کہا اگر بیورو کریٹ نے معزز ممبر سے بدتمیزی کی تو اسے اسمبلی کی سیڑھیوں پر جوتے مارے جائیں گے صوبے میں کوئی ون مین شو نہیں چلنے دیں گے انہوں نے کہا 15دن کے بعد کابینہ کی میٹنگ بلوائی جائے اس میں وزراءکی بات سنی جائے انہوں نے کہا رانا ثنا ءاللہ کی بات کو ئی افسر نہیں سنتا تو میں دیکھوں گا مگر خدا کیلئے لوٹے واپس کر دیں۔ گورنر کی طرف سے یونیفکیشن بلاک کے ارکان سے وزیر کا حلف نہ لینے کے اعلان پر لوٹوں نے وزارتیں نہ لینے کا اعلان کیا۔ این این آئی کے مطابق راجہ ریاض نے کہا کہ شہباز شریف فوج اور عدلیہ کو سیاسی معاملات میں شامل کرکے جمہوریت پر خودکش حملہ کرنا چاہتے ہیں۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اقلیتی امور شہباز بھٹی کے قتل کے خلاف قرارداد مذمت منظور کی گئی اور حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے کھڑے ہو کر دو منٹ کی خاموشی اختیار کی تمام لیگی اراکین نے سپیکر کے سامنے زمین پر بیٹھ کر قتل کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور قاتلوں کو گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے چار اراکین ڈاکٹر اسد اشرف، میاں یاور فرمان، امان اللہ دریشک اور مسز بشریٰ نواز گردیزی پر مشتمل چیئرمین آف پینل کے ناموں کا اعلان کیا ہے جو سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی عدم موجودگی میں باالترتیب ایوان کی کارروائی چلائیں گے۔