|
پنجاب اسمبلی کے باہر طلباءتشدد پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا پہلا ازخود نوٹس

09-12-10, 05:11 PM
9 دسمبر 2010
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اعجاز چوہدری نے اپنے عہدے کا حلف اُٹھاتے ہی بدہ کو پنجاب اسمبلی کے باہر اساتذہ اور طلباءکی جانب سے مظاہرے پرانتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ دوسری جانب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن اور طلبا تنظیموں نے پنجاب اسمبلی کے باہر مظاہرین پرتشدد اورتعلیمی اداروں کی نجکاری کے خلاف کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منارہے ہیں اورطلباءکے احتجاجی مظاہروں میں شدت آگئی ہے اور توڑ پھوڑ سمیت املاک جلائی جا رہی ہیں۔ ملتان میں طلباءنے ڈائریکٹر کالجز کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی ہے جبکہ فیصل آباد، میاں چنوں، وہاڑی، جڑانوالہ ،ڈیرہ غازی خان میں طلبا ءنے احتجاجی مظاہرے کئے اور تعلیمی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کیا۔ ایمرسن ٹیکنالوجی کالج، سول لائن کالج اور کامرس کالج کے طلباءنے ڈائریکٹر کالجز کے دفتر پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کی۔ طلبا ءنے ممتاز آباد ٹاون کے دفتر میں گھسنے کی بھی کوشش کی اور دفتر کے بورڈ اور باہر کھڑی موٹر سائیکل توڑ دی۔ فیصل آباد شہر کے تمام کالجز میں طلباءنے تدریسی بائیکاٹ کیا اور جڑانوالہ روڈ، سمندری روڈ، سرگودہا روڈ، سمن آباد روڈ اور شیخوپورہ روڈ پر ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کر دی۔ یاد رہے کہ لاہور میں مختلف کالجز کے اساتذہ اور طالبعلموں نے پنجاب اسمبلی کے سامنے بورڈ آف گورنرز بنانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے زبردستی اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی اور اِس دوران توڑ پھوڑ کی جبکہ دو بسیں بھی جلا دیں تھیں ۔ ہنگامہ آرائی کے الزام میں 300کے قریب اساتذہ اور طالبعلموں کے خلاف تھانہ اسلام پورہ اور قلعہ گجر سنگھ میں مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے۔ لاہور پولیس نے ناصرباغ کے قریب بس جلانے اور پنجاب اسمبلی کے احاطے میں توڑ پھوڑ کرنے پر جبران بٹ، چیئرمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی، ناظم جمیعت لاہور خضر نذیر سمیت بیالیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایس پی سول لائنز عمر سعید کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج نکلوا لی گئی ہے جس کی مدد سے اُن افراد کو گرفتار کیا جائے گا۔ گزشتہ روز اساتذہ اور طلبہ رہنماﺅں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے مذاکرات کے لئے اسمبلی میں بلا کر تشدد کروایاجس پر طلباءمشتعل ہو گئے۔ اُن کے اعلان پرپنجاب بھر میں یوم سیاہ منایا جارہا ہے جبکہ اساتذہ تدریسی بائیکاٹ کررہے ہیں۔طلبا رہنماﺅں کا کہنا تھا کہ وہ اساتذہ کے تدریسی بائیکاٹ میں اُن کے ساتھ ہیں اور اُن کی تحریک مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی۔ پولیس کے مطابق حراست میں لئے گئے اساتذہ اور طلباءکو رہا کر دیا گیا ہے۔ طلباءکاکہنا تھاکہ پنجاب حکومت تعلیمی اداروں کی نجکاری روکے کیونکہ بورڈ آف گورنرز کی تعیناتی سے تعلیم مزید مہنگی ہوجائیگی۔ طلباءنے پنجاب اسمبلی میں طلبہ پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ مقامی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے واقعے کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس نے آج ہی اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا ہے اور یہ اُن کا پہلا ازخود نوٹس ہے۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|