واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


پنجاب بینک سکینڈل میں ڈیل کب، کہاں اور کیسے ہوئی؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-09-10, 03:18 AM   #1
پنجاب بینک سکینڈل میں ڈیل کب، کہاں اور کیسے ہوئی؟
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 03-09-10, 03:18 AM

حارث اسٹیل کیس کے فیصلے میں شیخ افضل کا بیان عدالت کے فیصلے اور ریفرنس کا حصہ بن گیا

اسلام آباد (انصار عباسی) سپریم کورٹ کے قومی احتساب بیورو (نیب) میں غیر قانونی تقرر کے حوالے سے حالیہ فیصلے مین بینک آف پنجاب کیس کے مرکزی ملزم اور حارث اسٹیل مل کے مالک شیخ افضل کے بیان کا جائزہ لیا گیا اور اس کے کچھ اقتباسات پیش کئے گئے جس میں وزیر قانون بابر اعوان اور عہدہ چھوڑنے والے پراسیکوٹر جنرل نیب عرفان قادر پر توجہ مرکوز رکھی گئی۔ شیخ افضل کے بیان میں 9/ ارب روپے کے بینک آف پنجاب اسکینڈل کیس میں ان وکیل کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے (وزیر قانون) بابر اعوان کو ایک منفی کردار کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس کیس میں عرفان قادر نے بھی شیخ افضل کے وکیل کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ شیخ افضل نے بابر اعوان کے خلاف سنگین بدعنوانی کے الزامات عائد کئے۔ اور اب یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصہ بننے کے علاوہ ملک کے عدالتی ریفرنسز کا بھی حصہ بن چکی ہے۔ اس خاص معاملے میں فیصلے میں شیخ افضل کے بیان کے جو اقتباسات شامل کئے گئے ہیں وہ یہ ہیں: پیرا نمبر 1 میں شیخ افضل کہتے ہیں کہ … ابتدائی طور پر مئی 2008ء میں؛ میں نے عرفان قادر کی بحیثیت وکیل خدمات حاصل کیں تاکہ نیب کی کارروائی کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی جا سکے؛ میں نے انہیں طے شدہ رقم یعنی ایک ملین روپے ان کی فیس کی مد میں ادا کئے۔ پیرا نمبر 2 میں شیخ افضل کہتے ہیں کہ: … 18/ جون 2008ء کو جب نیب کے حکام نے میرے گھر پر چھاپہ مارا تو میں نے عرفان قادر سے شکایت کی کہ وہ میرا کیس سنبھال نہیں پا رہے۔ مسٹر عرفان قادر ایڈووکیٹ نے مشورہ دیا کہ ہمیں ایسے سینئر وکلاء کے گروپ سے رجوع کرنا چاہئے جو عدالت پر اثر انداز ہوسکیں۔ مسٹر عرفان قادر نے بعد میں مجھے بتایا کہ انہوں نے رابطہ کرکے مسٹر وسیم سجاد اور مسٹر شریف الدین پیرزادہ ایڈووکیٹ سے رابطہ کرکے ان کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔ عرفان قادر ایڈووکیٹ نے مجھے بتایا کہ مقدمہ ختم ہونے تک مسٹر شریف الدین پیرزادہ 10/ ملین روپے فیس لیں گے جبکہ وسیم سجاد صاحب مقدمہ فائنل ہونے تک 2/ ملین روپے فیس لینے پر رضامند ہوگئے ہیں۔ میں نے کسی نہ کسی طرح 12/ ملین روپے کا بندوبست کرکے اپنے مینیجر مسٹر عرفان علی کے ذریعے عرفان قادر کو پہنچائے تاکہ شریف الدین پیرزادہ اور وسیم سجاد صاحب کو ادائیگی کی جا سکے۔ عرفان علی کا کہنا ہے کہ انہوں نے 12/ ملین روپے نقد رقم جون 2008ء میں لاہور کے فورٹریس اسٹیڈیم کے قریب ایک سڑک پر مسٹر عرفان قادر کے حوالے کی۔ پیرا نمبر 4 میں شیخ افضل کہتے ہیں کہ: … بعد میں نیب نے 24/ جون 2008ء کو میرے دفتر کی تلاشی لی۔ میں نے ایک مرتبہ پھر مسٹر عرفان قادر سے کہا کہ وہ یہ کارروائیاں روک کیوں نہیں پا رہے۔ مسٹر عرفان قادر نے ایک مرتبہ پھر مشورہ دیا کہ ہمیں مسٹر بابر اعوان کی خدمات حاصل کرنا چاہئیں اور ممکن ہے کہ ان کا عدالتوں میں اثر رسوخ ہو۔ مسٹر عرفان قادر نے بابر اعوان سے بھاؤ تاؤ کرنے کے بعد مجھے آگاہ کیا کہ بابر اعوان صاحب پانچ ملین روپے کے عوض مقدمہ لڑنے کو تیار ہیں۔ مسٹر اعوان لاہور ہائی کورٹ میں حارث گروپ کی جانب سے بحیثیت وکیل پیش ہوئے۔ بابر اعوان کو عرفان قادر کے ذریعے فیس کی ادائیگی کی گئی۔ پیرا نمبر 8 لائن نمبر 6 میں شیخ افضل کہتے ہیں کہ:… مسٹر ملک قیوم نے بعد میں مجھے آگاہ کیا کہ انہوں نے لاہور میں میرے وکیل عرفان قادر اور وسیم سجاد سے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں ملاقات کی ہے۔ ملک قیوم نے مزید بتایا کہ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے متعلقہ جج صاحبان سے میرے وکلاء کی موجودگی میں ٹیلی فون پر بات کی ہے؛ مجھے یقین دلایا گیا کہ مجھے ریلیف دیا جائے گا۔ پیرا نمبر 9 میں شیخ افضل کہتے ہیں کہ: … جون 2008ء کے دوران میں نے شریف الدین پیرزادہ سے رابطہ کیا؛ انہوں نے مجھے بتایا کہ انہوں نے عرفان قادر اور وسیم سجاد کے ساتھ مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ یہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ منتقل کرنے کا انتظام کیا جائے۔ مسٹر شریف الدین پیرزادہ نے مجھے بتایا کہ وہ اور دوسرے پینل کے وکلاء سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپنی حمایت میں کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں۔ پیرا نمبر 13 میں شیخ افضل کہتے ہیں کہ : … جولائی 2008ء میں مسٹر ملک قیوم نے مجھے آگاہ کیا کہ مسٹر بابر اعوان ان کے دوست ہیں؛ وہ ایک سینیٹر ہیں اور یہ بہتر ہوگا کہ انہیں طے شدہ رقم یعنی پانچ ملین روپے سے زیادہ رقم ادا کی جائے جو پہلے ہی ادا کئے جا چکے تھے۔ ملک قیوم نے مزید بتایا کہ بابر اعوان سپریم کورٹ کے اس وقت کے ………… کے ساتھ بیٹھے ہیں اور میں (م ق) بھی وہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ بابر اعوان صاحب جج سے کہہ رہے تھے کہ ان کا کیس ہمارے حق میں ہونا چاہئے۔ ملک قیوم نے دلیل دی کہ بابر اعوان کا بڑا ثر رسوخ ہے، لہٰذا انہیں مزید رقم ادا کی جائے۔ میں نے عرفان علی سے کہا کہ وہ تین ملین روپے ملک قیوم کو دیں تاکہ وہ یہ رقم بابر اعوان تک پہنچادیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کردی کہ رقم کی ادائیگی کی جا چکی ہے۔ عرفان علی کا کہنا ہے کہ انہوں نے جولائی 2008ء میں ملک قیوم کو ان کے آفس میں تین ملین روپے پہنچائے۔ شیخ افضل بتاتے ہیں کہ بعد میں مسٹر ملک قیوم نے مجھے بتایا کہ وہ بابر اعوان کے ساتھ 35/ ملین روپے کے عوض گارنٹی کے ساتھ ڈیل کراسکتے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ کیس لاہور ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ منتقل کرایا جا رہا تھا۔ میں نے بھی مسٹر بابر اعوان سے بات کی انہوں نے مجھے یقین دہانی کرائی کہ اپنی قانونی فیس کے علاوہ وہ مجھ سے 35/ ملین روپے لیں گے۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ انہوں نے جج صاحبان کے ساتھ میرے مقدمہ پر بات کرلی ہے اور یہ کیس 15/ دن میں ختم ہوجائے گا۔ فیس کے سوا، میں انہیں پہلے ہی 20/ ملین روپے ادا کرچکا تھا۔ عرفان علی اور ملک قیوم مزید 5/ ملین روپے بابر اعوان کو ان کے بلیو ایریا کے آفس میں پہنچا چکے تھے جبکہ ملک قیوم کی جانب سے بابر اعوان کو ستمبر 2008ء میں مزید 10/ ملین روپے کی اضافی رقم ادا کی گئی۔ اس طرح قانونی فیس کے سوائے میں بابر اعوان کو ستمبر 2008ء تک 25/ ملین روپے اضافی دے چکا تھا۔ پیرا نمبر 14 مین شیخ افضل کہتے ہیں کہ : … نے بابر اعوان سے کہا کہ وہ بذات خود ان سے متحدہ عرب امارات میں ملاقات کرلیں اور انہیں اپنے اطمینان کے مطابق یقین دلائیں۔ میں نے عرفان علی سے کہا کہ وہ بابر اعوان کیلئے امارات کے ریٹرن ٹکٹ کا بندوبست کریں۔ بابر اعوان صاحب رمضان کے مہینے میں 2008ء میں دبئی پہنچے۔ میں نے گرانڈ حیات ہوٹل میں ان کا استبقال کیا اور ان کیلئے ایک رات کیلئے اسی ہوٹل میں قیام کا بندوبست کیا۔ میری ان سے میرے بیٹے حارث افضل کی موجودگی میں ملاقات ہوئی۔ اس موقع پر میرا سیکریٹری بھی موجود تھا۔ مسٹر بابر اعوان نے مجھے یقین دہانی کرائی کہ ڈیل کے مطابق مکمل رقم کی ادائیگی کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ مقدمہ ختم کردے گا اور اگر نیب نے اپیل کی تو سپریم کورٹ 15/ دن کے اندر ہمارے حق میں فیصلہ سنا دے گی؛ انہوں نے کچھ ایسا ظاہر کیا کہ انہوں نے جج صاحبان کے ساتھ سارے معاملات طے کردیئے ہیں۔ بابر اعوان نے مجھے بتایا کہ پانچ ملین روپے کی بقایا رقم ادا کی جائے۔ میں نے انہیں ڈھائی لاکھ درھم ادا کئے۔ میرے سیکریٹری خواجہ ارشد اور میرا بیٹا اس بات کے گواہ ہیں۔ اس موقع پر ڈیل کے مطابق 25/ ملین کی پوری رقم ادا کی جاچکی تھی۔ بابر اعوان نے مجھ سے کہا کہ انہیں شاپنگ کرنی ہے لہٰذا انہیں مزید رقم چاہئے۔ میں نے انہیں اضافی 50/ ہزار درھم دیئے۔ میرا بیٹا حارث انہیں مختلف شاپنگ سینٹرز لے گیا۔ جب یہ لوگ واپس آئے تو بابر اعوان نے مجھے بتایا کہ انہوں نے 65/ ہزار درھم خرچ کردیئے ہیں۔ میں نے انہیں مزید 15/ ہزار درھم ادا کئے۔ بابر اعوان کو جتنی بھی ادائیگیاں ہوئیں ان میں سے ملک قیوم صاحب کو کمیشن مل چکی تھی۔ بعد ازاں بابر اعوان صاحب نے میری لیگل ٹیم کی قیادت سنبھال لی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے اور ریفرنس پر حکم امتناع ملا۔ اس کے بعد وہ وزیر بن گئے اور انہوں نے حارث گروپ کی طرف سے پیش ہونے سے انکار کردیا۔ انہوں نے مجھے نظر انداز کرنا شروع کردیا اور بعد میں میرے فون بھی اٹینڈ نہیں کرتے تھے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,235 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 72
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (03-09-10), مرزا عامر (03-09-10)
پرانا 03-09-10, 04:43 PM   #2
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,382
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کرپٹ ہیں سب
اور جہنمی بھی
راشی و مرتشی
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (03-09-10)
جواب

Tags
کورٹ, کرنی, پاکستان, وزیر, لوگ, نظر, مکمل, موقع, منتقل, ممکن, اسلام, حکم, خلاف, دوست, دبئی, رمضان, سپریم, علی, عائد, عباسی, عدالت, عدالتی, عدالتوں, عرفان, عرب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
آگ کیسے ایجاد ہوئی؟ زارا گپ شپ 12 08-06-11 09:31 AM
آپکی عید کیسے گزری؟ Zullu230 گپ شپ 14 06-12-09 10:44 AM
آپ نے اپنی عید کیسے منائی؟ ھارون اعظم عمومی بحث 25 06-12-09 04:42 AM
یو ٹیوب میں رکاوٹ کیسے ڈالی گئی؟ شازل کمپیوٹر کی باتیں 5 27-03-08 06:02 AM
یو ٹیوب میں رکاوٹ کیسے ڈالی گئی؟ فرحان دانش خبریں 4 20-03-08 06:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 11:17 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger